فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 10

خلاصہ کلام ! یہ کہنا کہ رب تعالیٰ نے ابرار نیکو کار اور سیہ کار فجار؛ محسنین اور ظالمین اور اہلِ طاعت و معاصی برابر بنایا ہے، یہ باطل حکم ہے، رب تعالیٰ کو اس سے منزہ قرار دینا واجب ہے۔ کیونکہ یہ اس کی حکمت و عدل کے منافی امر ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف اشیاء میں تسویہ و برابری کا انکار فرماتا ہے۔ سو وہ متماثلات میں برابری کرتا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُوْلٰٓئِکُمْ اَمْ لَکُمْ بَرَائَۃٌ فِی الزُّبُرِo﴾ (القمر: ۳۳) 

’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں ، یا تمھارے لیے (پہلی) کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟‘‘

اور فرمایا:

﴿کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ﴾ (آل عمران: ۱۱) 

’’(ان کاحال) فرعون کی قوم اور ان لوگوں کے حال کی طرح ہے جو ان سے پہلے تھے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ﴾ (یوسف: ۱۱۱) 

’’بلاشبہ یقیناً ان کے بیان میں عقلوں والوں کے لیے ہمیشہ سے ایک عبرت ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿فَاعْتَبِرُوْا یَااُولِی الْاَبْصَارِo﴾ (الحشر: ۲) 

’’پس عبرت حاصل کرو اے آنکھوں والو۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَلَقَدْ اَنزَلْنَا اِِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُبَیِّنَاتٍ وَّمَثَلًا مِنْ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ﴾ (النور: ۳۳) 

’’اور بلاشبہ یقیناً ہم نے تمھاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات اور ان لوگوںپہلے گزرے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ﴾ (العنکبوت: ۳۳) 

’’اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں ۔‘‘

دوسري وجہ: امامی کا یہ قول کہ: اللہ کو یہ جائز ہے کہ وہ پیغمبروں کو عذاب دے اور شیطانوں کو ثواب دے۔ اگر تو اس قول سے ان کی مراد یہ ہے کہ اللہ اس پر قادر ہے تو اللہ کی قدرت میں کوئی نزاع نہیں ، اور اگر اس کی یہ مراد ہے کہ آیا ہمیں اس میں شک ہے یا نہیں کہ اللہ ایسا کرے گا یا نہیں ؟ تو یہ بات معلوم ہے کہ ہمیں اس باب میں کوئی شک نہیں بلکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ ایسا نہ کرے گا۔

اگر اس کی مراد یہ ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ اللہ کسی حکمت سے فعل نہیں کرتا تو اسے یہ لازم ہے کہ وہ رب تعالیٰ سے اس بات کے وقوع کو جائز قرار دے، اور یہ کہ اس سے اس بات کے وقوع کا امکان ہے۔ لیکن اکثر اہل سنت اس بات کے قائل نہیں ۔ بلکہ وہ اللہ کو اس سے منزہ اور مقدس سمجھتے ہیں ۔ لیکن یہ اس بات کو لازم نہیں کہ طاعت نادانی ہے۔ طاعت تب نادانی ہے۔ جب اس کا عدم اور وجود دونوں ایک ہوں ، حالانکہ مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طاعت کا وجود نافع اور عدم مضر ہے۔ اگرچہ ان کا اس بارے نزاع ہے کہ کیا یہ جائز ہے کہ رب اس کے برخلاف کرے۔ کہ ان کا اختلاف جواز میں ہے ناکہ وقوع میں ۔

تیسري وجہ: یہ کہا جائے کہ فرض کیا کہ اس کا وقوع جائز ہے۔ تب بھی طاعت حماقت نہیں ۔ کیونکہ اس باب میں امامیہ کا اہلِ سنت کے ساتھ اتفاق ہے کہ اہلِ کبائر کی مغفرت ہو سکتی ہے، اور معتزلہ اس قول میں اہلِ سنت کے ساتھ ہیں کہ کبائر کے اجتناب کے ساتھ صغائر معاف ہو سکتے ہیں ، اور اس کے ساتھ کبائر و صغائر دونوں سے اجتناب حماقت نہ ہوگا۔ بلکہ یہ اجتناب بالاتفاق واجب ہے۔

چوتھي وجہ: یہ کہا جائے کہ نوافل پڑھنا بالاتفاق نادانی نہیں ۔ اگرچہ یہ جائز ہے کہ اللہ بندے کو اس کے بغیر بعض دوسرے اسباب کی وجہ سے ثواب دے دے۔ پس جس کا نافع ہونا معلوم ہونا اس کو بجا لانا حکمتِ محمودہ ہے۔

اور اگر وکئی اس بات کو جائز قرار دے کہ اس کے بغیر بھی نفع حاصل ہوتا ہے۔ جیسے اموال وغیرہ۔ مطلوبہ اشیاء کا ان اسباب کے ذریعے حاصل کرنا جو عادۃً اس کی تحصیل کو مقتضی ہوں کہ یہ نادانی نہیں ۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ مال بغیر کوشش کے مل جائے جیسے میراث۔

پانچو یں وجہ: مصنف کا قول: کیونکہ اللہ کا فعل کسی غرض کے بغیر ہوتا ہے۔ اس کا تفصیلی جواب گزر چکا ہے۔اور ہم نے یہ واضح کیا ہے کہ اکثر اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال حکمت پر مبنی ہوتے ہیں ؛ اور غرض سے یہی مراد ہے۔ اور بعض اہل سنت والجماعت نے ان اغراض کی بھی تصریح کی ہے۔تقدیر کے قائلین میں سے جو لوگاس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال حکمت پر مبنی نہیں ہوتے؛ اوراگرچہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں کر گزرتے ہیں ؛ تاہم اس کی مشئیت اور عدم مشئیت معلوم کی جاسکتی ہے؛ خواہ ایسا عادت سے معلوم کرنا ممکن ہو یا پھر کسی صادق ؍سچے کے خبر دینے سے ؛ یا پھر علم ضروری اس کا القاء ہمارے دل میں کردیتا ہے؛ یا پھر اس کے علاوہ بھی اس علم کا کوئی وسیلہ ہوسکتا ہے۔

کا کچھ حال جو تم سے


صفحہ 10 از 10