سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کی جلا وطنی کا قصہ - ردِ…

سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کی جلا وطنی کا قصہ

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 2

كان الحسنؓ والحسينؓ يصليان خلف مروان بن الحكم فقالوا لاحدهما ما كان ابوك يصلى اذا رجع الى البيت فقال لا والله ما كان يزيد على الصلوة (بحارُ الانوار جلد 44 صفحہ 123)۔ 

 حسنین کریمینؓ سیدنا مروانؓ کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپؓ کے والد سیدنا علیؓ گھر جا کر نماز دہرا لیتے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں وہ اس پڑھی گئی نماز پر زیادتی نہ کرتے تھے (یعنی آپ نے کبھی یہ نماز گھر آکر نہ دہرائی) اب اہلِ بیت کے نماز جنازہ پڑھانے کی روایت بھی دیکھیں سیدنا باقر کہتے ہیں: کہ جب سیدنا علیؓ کی صاحبزادی امکلثوم کا انتقال ہوا تو سیدنا مروان بن الحکمؓ بھی جنازہ کے ہمراہ تھے۔ 

عبداللہ بن جعفر حمیری قمعی شیعی لکھتے ہیں: 

وهو امير يومئذ على المدينة فقال الحسين عليه السلام لولا السنةما تركته يصلى عليها (قرب الاسناد صفحہ 210 )۔

ان دنوں سیدنا مروانؓ مدینہ کا گورنر تھا سیدنا حسینؓ نے اس وقت فرمایا کہ اگر وہ رسول اللہﷺ کی یہ سنت نہ ہوتی کہ خلیفہ یا اس کا گورنر ہی نماز پڑھائے تو میں انہیں نماز جنازہ پڑھانے نہ دیتا (مگر چونکہ حکم یہی ہے اسلئے وہی پڑھائیں گے) شیعہ کی کسی کتاب میں یہ نہیں ملتا کہ سیدنا حسینؓ نے اپنی بہن کی نماز جنازہ دوبارہ پڑھی تھی یا گھر اگر انہوں نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔ 

یہ صرف سیدنا زیدؓ کی بات نہیں سیدنا حسینؓ کے صاحبزادے سیدنا زین العابدینؓ کے بھی سیدنا مروان بن حکمؓ کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات رہے ہیں سیدنا مروانؓ ان کے خیر خواہ تھے ایک مرتبہ سیدنا مروانؓ نے آپ سے شادی کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اس سے آپ کے ہاں اولاد کی کثرت ہوگی تو انہوں نے اپنے حالات کی مجبوری کا ذکر کیا۔ 

فاقرضه مائة الف فاشترى له السواری فولدت له وكثر نسله ثم لما مرض مروانؓ اوصىٰ ان لا يوخذ من على ابن الحسين شئى مما كان اقرضه فجميع الحسينين من نسله رحمه الله (البدایہ جلد 9 صفحہ 105)۔

سیدنا مروانؓ نے پھر انہیں ایک لاکھ درہم بطورِ قرض بھجوا دیئے اس سے انہوں نے ایک لونڈی خریدی اس سے اللہ نے آپ کو اولاد دی اور آپ کی نسل بہت پھیلی جب سیدنا مروانؓ بیمار ہوا تو اس نے وصیت کی کہ میں نے جو رقم بطورِ قرض انہیں دی تھی وہ ان سے واپس نہ لینا تمام حسینی سیدنا زین العابدینؓ کی اولاد ہیں چنانچہ سیدنا مروانؓ کے بیٹے عبدالملک نے آپ کو اپنے والد کا پیغام پہنچایا مگر آپ دینے پر اصرار کرتے رہے عبدالملک کے بار بار اصرار پر وہ راضی ہوگئے اور وہ پھر آپ نے درہم واپس نہیں کئے۔

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ سیدنا مروانؓ کے اہلِ بیت کے ساتھ بڑے اچھے اور گہرے تعلقات رہے ہیں اور دونوں خاندانوں کے درمیان رشتہ داری بھی تھی اگر اہلِ بیتِ نبوت کو معلوم ہوتا کہ حضورﷺ سیدنا مروانؓ سے خوش نہ تھے اور یہ سیدنا عثمانؓ کے بڑے قریبی رشتہ دار ہیں نیز ان کے دور میں وہ مسلمانوں کے مال پر ہاتھ صاف کرتے رہے ہیں (معاذ اللہ) تو آپ ہی بتائیں کیا سیدنا حسنؓ کی اولاد اور سیدنا حسینؓ کے صاحبزادے ان کے ساتھ محبانہ تعلقات رکھتے؟ اور ان کے ساتھ رشتہ داری میں آتے یہ واقعات بتاتے ہیں کہ سیدنا مروانؓ کے بارے میں پھیلائے گئے الزامات غلط ہیں محض سیدنا عثمانؓ کو بد نام کرنے کے لئے اس قسم کے واقعات وضع کئے گئے ہیں۔


صفحہ 2 از 2