شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 17

بلکہ رافضی مشائخ کے ہاں کچھ ایسے اقوال پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں ان کے ائمہ متقدمین کہتے ہیں کہ یہ اقوال امام منتظر سے منقول ہیں ۔ حالانکہ امام غائب سے کچھ بھی منقول نہیں ہے ۔ اورجو کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم نے امام غائب سے کچھ اقوال نقل کیے ہیں ‘ تووہ اپنے اس دعوی میں حد درجہ کاجھوٹا ہے ۔

روافض سے کہا جائے گا کہ جو شریعت تمہارے پاس موجود ہے اگر دینی ضرورت کے لیے کافی ہے تو امام منتظر کی ضرورت نہیں ، اور اگر ناکافی ہے توتم نے خودہی اپنے معذب اور بد بخت ہونے کا اقرار کرلیا اور اپنے دین کے ناقص ہونے کا اعتراف کر لیا اور یہ تسلیم کر لیا کہ تمہاری سعادت آنے والے امام کے حکم کے تابع ہے اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کیا حکم صادر کرے گا۔میں نے رافضہ کے مشائخ کی ایک جماعت کو دیکھا ہے ‘ جیسا کہ ابن العود الحلی؛اس کا قول ہے:

’’جب امامیہ کے کسی مسئلہ میں دو قول میں اختلاف ہو؛ ایک قول کا قائل معلوم ہو اور دوسرے کا نامعلوم ۔تو جس قول کا قائل معلوم نہیں وہی حق ہے،جس کی اتباع کرنا واجب ہے ؛ اس لیے کہ امام معصوم جس کا انتظار کیا جا رہا ہے اسی گروہ میں شامل ہے۔‘‘

یہ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی کی انتہاء ہے۔اس لیے کہ اگر امام منتظر کے وجود کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر بھی یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس نے یہ بات کہی ہے یا نہیں ۔اس لیے کہ کسی ایک نے امام سے یہ قول نقل نہیں کیا ۔ اورنہ ہی امام سے نقل کرنے والوں سے کسی نے روایت کیا ہے۔تو پھر یقینی طور پر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اس امام کاہی قول ہے ۔پھر دوسرے قول کے لیے کیسے یہ جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ اس امام غائب کا قول ہو؟اس لیے کہ امام کے لیے اس کی غیبت اور ظالموں کے خوف کی وجہ سے اپنے قول کا اظہار کرنا تو نا ممکن ہے ؟ جیسا کہ ان لوگوں کا دعوی ہے ۔

خلاصہ کلام ! شیعہ کا دین مجہول و معدوم پر مبنی ہے۔معلوم اور موجود پر مبنی نہیں ۔ان کا گمان ہے کہ ان کا امام موجود اور معصوم ہے۔درحقیقت امام مفقود اور معدوم ہے۔اور[بالفرض ]اگر وہ موجود اور معصوم بھی ہو؛ تو پھر بھی یہ لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ امام کے اوامر و نواہی جاننے پر ایسے قادر نہیں ہیں جیسے اس امام کے باپ دادا کے اوامر و نواہی جاننے پر قادر تھے۔

امام سے مقصود یہ ہے کہ اسکے اوامر و احکام کی اطاعت کی جائے ۔جب اس کے احکام معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ؛تواس امام کی اطاعت واجب نہیں ہوتی[بلکہ ممنوع ٹھہرتی ہے]۔جب امامت کا مقصود ہی ممتنع ہے؛ تو عقل و نقل کے اعتبار سے اس کی امامت بے کار ہے۔اور اس وسیلہ کے اثبات میں درحقیقت کوئی بھی فائدہ نہیں ۔بلکہ ایسے وسیلہ کو ثابت کرنا جس سے مقصود حاصل نہ ہوتا ہو ؛بے کار ‘ بے فائدہ ‘ جہالت اور حماقت و عذاب پر مبنی ہے ؛ اس پرنہ صرف تمام اہل شریعت کابلکہ تمام عقلاء کا اتفاق ہے ۔ اس لیے کہ جب اہل عقل کسی قبیح چیز کی تفسیرکسی نقصان دہ امر سے کرتے ہیں توان کا اس بات پر اتفاق ہوتا ہے کہ اس نقصان و ضرر کوعقل سے معلوم کیا جاسکتا ہے ۔ اس امام غائب پر ایمان رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں ۔بلکہ مال و بدن ‘نفس اور عقل ہر لحاظ سے مضر اور عقلاً و شرعاً قبیح ہے ۔

اسی لیے اس امام کے پیروکار دین و دنیا کی مصلحتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے ہیں ۔ ان کو دین و دنیا کی کوئی بھی مصلحت نہیں مل پاتی۔ جب تک کہ وہ کسی دوسرے کی اطاعت میں داخل نہ ہوجائیں [یا پھر اپنے اس امام کی اطاعت کو کلی یا جزوی طور پر ترک نہ کردیں ]۔ جیسا کہ یہودیوں کا حال ہے وہ اس وقت تک کوئی مصلحت حاصل نہیں کرسکتے جب تک وہ ان دوسرے لوگوں کا سہارا نہ لے لیں جوان کے دین سے باہر کے افراد ہیں ۔

شیعہ امام منتظر کے وجود کو از بس ضروری قرار دیتے ہیں ، اور اس کی عصمت کے قائل ہیں ۔ وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ دین و دنیا کی مصلحتیں وجود امام سے وابستہ ہیں ۔شیعہ کا یہ خیال اس لئے درست نہیں کہ امام منتظر کے عقیدہ سے انہیں کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ حاصل نہیں ہوا، اور جو لوگ اس کے قائل نہیں ، ان کو کوئی دینی و دنیوی نقصان نہیں پہنچا۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔

بلکہ دوسرے لوگ اس امام کے متبعین سے بڑھ کر دین و دنیا کی مصلحتوں کے پانے والے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ امامت کے عقیدہ سے سوائے رسوائی اورندامت کے کوئی چیز نہیں مل سکی۔اور اس عقیدہ میں کوئی عزت اور کرامت والی بات ہر گز نہیں پائی جاتی۔اگر امام کی اطاعت کا واجب ہونا دین کے اہم ترین مطالب میں سے ہے تو رافضہ لوگوں میں سب سے بڑھ کر دین کے بڑے اہم ترین مطالب سے دور رہنے والے ہیں اور اگر ایسا نہیں تو ان لوگوں کے جھوٹ کی قلعی کھل جاتی ہے ‘ اور ان کے دعوی کا باطل ہونا ثابت ہوجاتا ہے ۔پس ہر دو لحاظ سے شیعہ کاقول باطل ہے ۔

روافض کا منتظر پر ایمان صوفیاء کے غیبی افراد پر ایمان جیسا نہیں :

[اشکال]:اگر شیعہ کہیں کہ ہم امام منتظر پر اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جیسے بہت سے عابد و زاہد حضرت الیاس، حضرت خضر اور غوث و قطب بزرگوں اور دوسرے غائبین پر ایمان رکھتے ہیں ، حالانکہ نہ ان کے وجود کا کچھ پتہ ہے اور نہ ان کے اوامر نواہی کا۔ پھر جو لوگ ان [صوفیاء] کی موافقت کرتے ہیں ؛ان کیلئے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارے دعوی پر رد کرے ؟

[جواب ]: اس سے کہا جائے گا کہ : اس بات کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلی بات : ہم کہتے ہیں کہ:’’ مسلمانوں کے کسی معروف عالم یا کسی معروف جماعت کے نزدیک ان پر ایمان لانا ضروری نہیں ؛ اور کوئی ایسا بھی نہیں جو ان پر ایمان لانے کو واجب قرار دیتا ہو۔اگرچہ بعض غالی فرقے اپنے اصحاب کے لیے اس چیز پر ایمان رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :کوئی مؤمن اس وقت تک اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا جب تک ان لوگوں کے اس زمانے میں موجود ہونے پر ایمان نہ لائے۔ [ مگر جمہور مسلمین کے ہاں اس کلام کی کوئی قدر و قیمت نہیں ] ان کا قول اسی طرح مردود ہے جیسے شیعہ کا قول۔

صفحہ 6 از 17