شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 17

[جواب]:وجوب عقلی میں نزاع ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ۔ اگر عقلی وجوب کو مان لیا جائے ؛ تو اس سے امامت کا وجوب باقی عقلی واجبات کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ جب کہ دوسرے عقلی واجبات امامت سے  بڑھ کر اوجب الواجابت ہیں جیسے : توحید ؛ صداقت ؛ اور عدل اور دوسرے عقلی واجبات ۔اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ اس واجب سے انسان کوملنے والا پیغام رسالت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔رسولوں پر ایمان لانے سے امامت کا مقصود حاصل ہوجاتا ہے؛آپ کی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی؛ بخلاف امامت کے۔پس جس انسان کے ہاں یہ ثابت ہوگیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؛ اور آپ کی اطاعت اس پر واجب ہے ؛ اور اس نے حسب استطاعت اتباع و اطاعت کی کوشش بھی کی ۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی وجہ سے وہ انسان جنت میں چلا گیا؛ تو پھر یہ انسان امامت سے بے نیاز ہوگیا ۔ اگر یہ کہا جائے کہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگا تو اس نے ایک ایسی بات کہی جو کہ قرآن و سنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر ان لوگوں کے لیے جنت کو واجب کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں ۔ ارشاد فرمایا:

﴿وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا﴾ [النساء۶۹]

’’اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرتا ہے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ اور رفیق ہونے کے لحاظ سے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴾ [النساء۱۳]

’’یہ اللہ کی حدود ہیں ۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔‘‘

[صاحب زمان کی حقیقت]

نیز صاحب الزمان جس کی طرف یہ لوگ بلاتے ہیں ؛ لوگوں کے پاس اس کی معرفت حاصل کرنے کی کوئی راہ نہیں اور نہ ہی انہیں یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ انہیں کس بات کا حکم دیتا ہے اور کس چیز سے منع کرتا ہے ؛ اور انہیں کس بات کی خبر دے رہا ہے۔اگر کوئی انسان امام کی اطاعت کے بغیر خوش بخت نہیں ہوسکتا ؛ تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ کوئی بھی انسان جہاں میں نیک و خوش بخت نہ ہو؛ اور نہ ہی کوئی ایک نجات پاسکے؛ اور نہ ہی کسی ایک کے لیے اطاعت الٰہی کی کوئی راہ ہوتی۔ اور یہ انسان کی طاقت سے بڑھ کر مکلف ٹھہرائے جانے کی سب سے بڑی مثال ہوتی۔حالانکہ لوگ اس کے سب سے زیادہ محتاج تھے۔

[شبہ]: اگر یہ کہا جائے کہ : ’’ امام غائب اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس پر امامیہ فرقہ کے لوگ چل رہے ہیں ۔‘‘ 

[جواب]: تو ان سے کہا جائے گا کہ تو پھر اس امام کے وجود یا شہود کی کوئی حاجت ہی نہیں ۔ اس لیے کہ اگر اس امام منتظر کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کے لیے آنے والے احکام معلوم ہورہے ہیں تو پھر اس امام کی چنداں ضرورت نہیں خواہ یہ امام زندہ ہو یا مردہ ‘حاضر ہو یا غائب۔نہ ہی اس کی کوئی حاجت باقی رہتی ہے ‘اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور نجات کا دارو مدار یا کسی ایک کی سعادت و شقاوت اس امام کی اطاعت پر منحصر ہے ۔اس صورت حال میں ایسے امام کی امامت کا کہنا ممتنع ہوجاتا ہے۔ چہ جائے کہ اس امام کی اطاعت کو واجب قرار دیا جائے۔ یہ بات ہر اس انسان پر واضح ہے جو معمولی سا بھی غور وفکر کرلے ۔ 

لیکن رافضی لوگوں میں سب سے بڑھ کر جاہل ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقلی اور شرعی واجبات کو بجالانااور عقلی و شرعی قبیحات کو ترک کرنا یا تو اس معرفت پر منحصر ہوگا کہ کوئی انہیں اس امام کی طرف سے یہ احکام پہنچائے؛ یا اس پر موقوف نہیں ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس معرفت پر موقوف ہے ‘ تواس سے انسان کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف لازم آتی ہے ۔ اس لیے کہ واجبات کا بجالانا اور محرمات سے اجتناب کرنا ایسی شرط پر موقوف کر دیا ہے جس پر عام لوگ قدرت نہیں رکھتے۔بلکہ کوئی انسان اس پر قادر ہی نہیں ۔کیونکہ جہاں میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جو صداقت کے ساتھ یہ دعوی کرسکے کہ اس نے امام منتظر کو دیکھا ہے یا اس کا کوئی کلام سنا ہے ۔

اگر ایسا نہ ہو کہ عقلی و شرعی واجبات کا بجالانا اور عقلی و شرعی منکرات کا ترک کرنا[اس امام کی معرفت پر موقوف نہ ہو] امام منتظر کے بغیر بھی ممکن ہو ؛ تو پھر اس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی اور نہ ہی اس امام کے وجوب یا شہودکی ضرورت ہوتی ہے ۔

ان رافضہ نے مخلوق کی نجات ‘ان کی سعادت اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو ایسی ممتنع شرط کے ساتھ معلق کردیا ہے جس پر لوگ قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہی رافضیوں میں سے کوئی ایک اس پر قدرت رکھتا ہے ۔

اور لوگوں سے کہتے ہیں : اس کے بغیر کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہیں حاصل کرسکتا ۔ اور نہ ہی کوئی اس کے بغیر خوش بخت ہوسکتا ہے۔ اورنہ ہی کوئی اس کے بغیر ایماندار ہوسکتا ہے۔ پس ان پر دو باتوں میں سے ایک لازم آتی ہے:

۱۔ یا تو ان کا یہ قول سرے سے ہی باطل ہوگا۔

۲۔ یا پھر یہ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوچکے ہوں‘اور اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کے لیے عذاب واجب کردیا ہو‘ جس میں مسلمان اور دوسرے لوگ سب شامل ہیں ۔ پس اس تقدیر کی بنا پر یہ سب سے پہلے عذاب پانے والے بد بخت ہوں گے۔اس لیے کہ ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی اس امام کے احکام اوامر و نواہی اور اخبار کی معرفت حاصل کرنے کی کوئی راہ ہی نہیں جس کے بارے میں ان [شیعہ حضرات] کا عقیدہ ہے کہ امام غائب ہے مگر موجود ہے۔

صفحہ 5 از 17