معرکہ قادسیہ میں مسلمانوں کی عسکری و فوجی حکمت عملی - دفاعِ…

معرکہ قادسیہ میں مسلمانوں کی عسکری و فوجی حکمت عملی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

 اس معرکہ میں مسلمانوں نے وہ اسلوب بھی اپنایا جس میں جنگی حالات و ظروف کے تقاضوں کے پیش نظر تبدیلی کی جا سکے۔ ہمارے سامنے جنگ کا جو منظر ہے اس میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ معرکہ کے اوّل روز حملہ آور ہاتھیوں کی مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے ان پر تیروں کی بارش کرتے ہیں اور ان کی سونڈیں کاٹ دیتے ہیں، ہاتھی میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں تب تک شام سے آنے والی امدادی فوج مسلمانوں تک پہنچ جاتی ہے، یکے بعد دیگرے جماعت در جماعت کی شکل میں وہ میدان جنگ میں اترتی ہے تاکہ دشمن کو یہ چکما دیا جا سکے کہ مسلم فوج کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پھر دوسرے دن دشمن کے گھوڑوں کو بدکانے کے لیے ایک دوسری کامیاب تدبیر اپنائی، وہ یہ کہ اپنے اونٹوں کو برقع اور جھول پہنا کر ہاتھیوں جیسا بنا دیا اور انہیں دشمن کی صفوں میں ہانک دیا، جس کی وجہ سے ان کے گھوڑے بدک گئے اور میدان چھوڑ کر ایسے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔

معرکہ کے تیسرے دن دشمن کے شہسواروں اور پیادہ پا افواج کی حفاظت میں چلنے والے ہاتھیوں سے جدید فنی حکمت عملی اپناتے ہوئے چھٹکارا حاصل کیا، بایں طور کہ سب سے بڑے اور کوہ پیکر ہاتھی کی آنکھوں کو پھوڑ دیا اور اس کی سونڈ کاٹ دی۔ جس کی وجہ سے اس کے پیچھے دیگر ہاتھیوں میں بھی بھگدڑ مچ گئی اور فارسی فوج و مسلم مجاہدین میدان جنگ میں برابر کی جنگ لڑتے رہے۔ جبکہ فارسی فوج نے اپنے قیمتی ہاتھی کو بھی گنوا دیا جو ان کا بہت بڑا سہارا تھا۔ جب مسلمانوں نے دیکھا کہ جنگ طول پکڑ رہی ہے تو انہوں نے یکبارگی عام حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی صفوں کو درست کیا اور ایک ہی ساتھ میدان کارزار میں کود پڑے، حملہ اس قدر زبردست تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کی صفوں میں شگاف پڑگیا اور اس کا قلب خالی نظر آنے لگا، مسلمان آگے بڑھ کر اپنے بنیادی مقصد یعنی فارسی فوج کے سپہ سالار رستم کو تلاش کرنے لگے اس پر قابو پانے کے بعد جونہی اس کا کام تمام ہوا فارسی فوج ذلیل ترین شکست سے دوچار ہوئی۔ ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ اس معرکہ میں مسلمانوں نے جو اسلوب اور حکمت عملی اپنائی وہ کوئی تقلیدی اسلوب نہ تھا، جسے مسلمان ایک لمبے زمانہ سے جنگ کے میدان میں استعمال کرتے رہے ہوں بلکہ جیسے حالات و ظروف پیش آتے گئے اسی طرح جنگی حربے استعمال کرتے گئے۔ گویا میدان جنگ میں مبارزت کا جو ابتدائی نظام دور قدیم سے چلا آرہا تھا اس سے آگے بڑھ کر دوسری جنگی حکمت عملی اپنائی یعنی اونٹوں کو جھول اور برقع پہنا کر ہاتھیوں کا ہم شکل بنایا، دشمن کے ہاتھیوں کی آنکھیں پھوڑ دیں اور ان کے سونڈ کاٹ دیے۔ پھر جب جنگی حالات عام حملہ کے متقاضی ہوئے تو معروف تقلیدی جنگ کا بگل بجا دیا یعنی عام حملہ کر دیا اور دشمن کے سپہ سالار کی تلاش میں لگ گئے۔

 اس معرکہ کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس میں قبائلی طور پر جنگ کی تیاریاں کی گئیں اور انہی بنیادوں پر جنگ لڑی گئی۔ درحقیقت یہ بھی ایک جنگی اسلوب ہے اور اس کی خوبی یہ رہی ہے کہ اس طرح ہر قبیلہ دوسرے سے بہتر کارنامہ انجام دینے اور آگے بڑھ جانے کے لیے کوشاں نظر آیا۔

 (الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 274، 275)

یہ ہیں اسلامی عسکریت کے چند اہم و منفرد اسلوب جسے مجاہدین اسلام نے معرکہ قادسیہ میں عملاً کر دکھایا۔


صفحہ 2 از 2