معرکہ قادسیہ میں مسلمانوں کی عسکری و فوجی حکمت عملی - دفاعِ…

معرکہ قادسیہ میں مسلمانوں کی عسکری و فوجی حکمت عملی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

معرکہ قادسیہ اسلامی عسکریت کے لیے اپنائی جانے والی حکمت عملی کی ایک منفرد مثال ہے۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے پوری ہوشیاری کے ساتھ ایسی عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ کیا جو جنگ کے تمام تر حالات و ظروف کے موافق ہو سکے۔

چنانچہ واقعات و حوادث کے تخت پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ صلاحیت نمایاں طور سے دیکھی جا سکتی ہے کہ آپ نے آناً فاناً عام فوجی بھرتی، اجباری فوجی بھرتی اور تمام جنگی وسائل کا بھرپور انتظام کر دیا۔ اس معرکہ کو سر کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کرنے میں آپ نے پوری قوت لگا دی، عوام کے ساتھ منتخب دانش وروں اور اہل الرائے کی ایک بھاری جماعت بھی تیار کر لی اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ بہترین شہ سواروں اور مسلح افراد کو جو بہادر اور عقل مند ہوں منتخب کرو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے شرکاء بدر میں سے ستر 70 سے زیادہ لوگوں کو اس معرکہ کے لیے منتخب کیا اور تین سو دس 310 سے کچھ زیادہ ان صحابہ کرامؓ کو جو بیعت رضوان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، نیز تین سو ایسے صحابہؓ کو جو فتح مکہ کے موقع پر شریک تھے اور ابنائے صحابہؓ میں سے سات سو 700 لوگوں کا انتخاب کیا اور انہی پر بس نہیں کیا، بلکہ تمام سرداران قبائل، اصحاب رائے، شرفاء، خطباء اور شعراء کو معرکہ قادسیہ میں شرکت کے لیے بلا بھیجا۔ اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے معرکہ کے لیے زیادہ سے مادی ومعنوی اسباب و وسائل اکٹھے کیے۔

 اس معرکہ کی تیاری میں ہمیں ایک ایسی جدت نظر آرہی ہے جسے قبل ازیں مسلمانوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ یہ کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ’’صرار‘‘ میں ٹھہر کر اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ اپنا لشکر مکمل کر لیں، پھر عراق میں محاذ جنگ کی طرف آگے بڑھیں۔ نہیں ایسا نہیں کیا، بلکہ ان کے ساتھ چار ہزار کی تعداد میں جو فوج تھی اسی کو لے کر آگے بڑھے اور بعد میں آکر ملنے والی فوج کو ملا کر کل سترہ ہزار افواج کو قادسیہ کے میدان جنگ میں اتار دیا۔ فوج کی تیاری کا یہ ایک نیا انداز تھا جسے دور فاروقی سے پہلے مسلمانوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ، مثنی اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کے نام جو خطوط ارسال کرتے اس میں قادسیہ کے فیصلہ کن معرکہ کا نظری نقشہ بنا دیا کرتے تھے۔ اس اعتبار سے آپؓ پہلے مسلم قائد ہیں جو میدان جنگ کی جغرافیائی و ماحولیاتی تحقیق کے لیے نظری نقشہ پر مشتمل خطوط پر اعتماد کرتے تھے۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ جنگی اقدام سے پہلے تفصیلی خط لکھیں اور اس میں مسلم فوج کے ٹھہرنے کی جگہ کی ایسی منظر کشی کریں گویا کہ آپ انہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مسلم افواج سے متعلق تمام باتوں سے صاف صاف آگاہ کرتے رہیں۔

حضرت سعدؓ نے ایسا ہی کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نام تفصیلی خط لکھا اس میں جغرافیائی اعتبار سے دریائے عتیق اور قادسیہ کی خندق کے درمیان قادسیہ کا محل وقوع متعین کیا اور تفصیل سے لکھا کہ قادسیہ کے دائیں اور بائیں کیا کچھ ہے اور جس جگہ جنگ لڑی جائے گی اس کے اردگرد کا کیا ماحول ہے، نیز یہ کہ قادسیہ اور اس کےمضافات کے سارے لوگ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ 

اس تفصیلی خبر سے مطلع ہونے کے بعد خلیفۂ وقت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جنگی حکمت عملی سے متعلق قراردادیں پاس کیں۔ 

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 271، 272)

اس معرکہ میں مسلمانوں نے ایک جدید اسلوب یہ بھی اپنایا کہ جب سے دشمن کی زمین میں پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا اسی وقت سے اشیائے خوردنی و سامان رسد کی فراہمی، نیز دشمن کے حوصلے پست کرنے کے لیے ترکتازی اور چھاپہ ماری کا سلسلہ شروع کر دیا، اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ فوج کی غذائی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی رہتی، کسی دن صرف گائیں ہاتھ آتیں اور کسی دن صرف مچھلیاں اور کسی دن دوسری چیزیں۔ 

بہرحال اس چھاپہ ماری کا ایک مقصد یہ تھا کہ اشیائے خوردنی کی تکمیل ہوگی تو دوسرا اہم مقصد یہ تھا کہ دشمن کے حوصلے پست کر دیے جائیں اور ان میں جنگ کے اثرات اور اس کی مشکلات وشدائد کو برداشت کرنے کی قوت باقی نہ رہے۔

جنگ قادسیہ سے قبل فارسیوں سے مسلمانوں کی جھڑپیں ہوئیں، جن میں سارے مسلمانوں نے کمین گاہوں میں چھپ کر حملہ کرنے کا نیا اسلوب ایجاد کیا۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ دشمن کی قوتوں اور صلاحیتوں کو اندر سے توڑ دیا جائے۔ چنانچہ بکیر بن عبداللہ لیثی شہ سواروں کا دستہ لے کر صفین تک جانے والے راستے میں واقع کھجوروں کے ایک باغ میں ایک فارسی قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے چھپ گئے، اس قافلہ میں ازادمرد بن ازاذبہ کی بہن یعنی حاکم حیرہ مرزبان کی بیٹی تھی، جو ایک عجمی سردار حاکم ’’صنّین‘‘ سے بیاہی گئی تھی۔ جب یہ قافلہ مسلمانوں کے کمین گاہ سے گزرا تو مسلمانوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ بکیر نے دلہن کے بھائی شیرزاد بن ازاذبہ کی پشت پر ایسا وار کیا کہ اس کی کمر ٹوٹ گئی۔ دراصل وہی قافلہ کی قیادت کر رہا تھا۔ پھر گھوڑوں میں بھگدڑ مچ گئی، وہ اپنے شہ سواروں کو گرا کر بھاگنے لگے اور مسلمانوں نے اس دلہن کو یعنی ازاذبہ کی بیٹی کو تیس دہقاتی بیگمات، سو خدمت گاروں اور خواصوں سمیت گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں بے شمار بیش بہا قیمتی سامان ہاتھ لگا جس کی قیمت کا اندازہ نہیں ہے۔

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 273)

صفحہ 1 از 2