عقیدہ امامت ہی فساد کی اصل جڑ ہے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقیدہ امامت ہی فساد کی اصل جڑ ہے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

مذکورہ بالا تحریر پڑھ کر آپ سوچتے ہوں گے کہ کوئی سمجھدار آدمی ان باتوں کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے تو میں وہی بات دہراتا ہوں جو میں نے خلافتِ راشدہ کے پچھلے شمارہ میں کہی تھی کہ"اللّٰہ نے ان کی آنکھوں، دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے۔" یہ بات شیعہ مذہب چھوڑنے کے بعد مجھے سمجھ آئی تھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللّٰہ پاک نے یہ آیتیں صرف شیعہ مجتہدین اور ذاکرین کے بارے میں ہی نازل فرمائی ہیں۔

شیعہ مذہب کے بانیوں کے پیشِ نظر تو صرف اسلام دشمنی ہی تھی انہوں نے اپنے قائم کیے ہوئے نظریات میں تضادات کو کبھی مدِنظر نہ رکھا اسی نقطہ پر انہوں نے نظریہ امامت کی بنیاد رکھی تھی۔

امامت کا تصور کیوں پیش کیا گیا؟ اس کی بھی ایک وجہ تھی وہ لوگ اپنی گھڑی ہوئی چیز کو سب سے آگے کر کے پیش کرنا چاہتے تھے چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہوتا۔

شیعہ نے اسلام کے تصورِ خلافت کے مقابلے میں امامت کا نظریہ پیش کیا۔ خلافت کا مطلب بے نیابت یعنی پیچھے ہونا اور امامت کا مطلب ہے قیادت یعنی آگے ہونا ۔ امامت کا تصور پیش کر کے اس نظریے کو چلانے کے لیے اس کے اتنے فضائل بیان کیے گئے کہ امامت کو قرآن ، سنت، صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین، ساری کائنات، تمام انبیاء،خود حضورﷺ بلکہ خداوند کریم سے بالاتر قرار دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

آپ شیعہ مذہب کی بنیادی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں گے تو آپ کو یہ سب باتیں روزِ روشن کی طرح نظر آئیں گی۔ اسی طرح شیعہ مذہب کے بانیوں میں ایک شخص محمد بن یعقوب کلینی ہے۔ اس نے اپنی کتاب اصولِ کافی میں ایک باب قائم کیا ہے کہ ان للارض کلها للامام علیہ السلام "ساری کائنات کا مالک امام ہوتا ہے"۔ آگے لکھتا ہے۔

 ترجمہ: ابو بصیر کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے سوال کیا کہ امام پر زکوٰۃ ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا: اے ابومحمد ! تو نے محل بات کی تجھے معلوم نہیں دنیا اور آخرت امام کی ملکیت ہوتی ہے جہاں چاہے امام اس کو رکھے جس کو چاہے دے دے۔" شیعہ مذہب کے بانیوں نے سیدنا علیؓ کی طرف یہ باتیں منسوب کی ہیں۔

 "سیدنا علیؓ نے فرمایا: 

میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔"

(بحار الانوار: صفحہ 347 جلد 39)

 "جناب امیر المؤمنین نے فرمایا: مومن، منافق، کافر، مشرک، بدعتی کوئی آدمی نہیں مرتا جب تک اس کے سرہانے جا کر حکم نہ دوں۔"

 "سیدنا علیؓ نے فرمایا: میں صاحب مدین ہوں فرعون کو میں نے ہلاک کیا موسیٰ علیہ السلام کو میں نے نجات دی۔"(الصبائر الدرجات صفحہ 23' مصنف محمد شریف رسولوی)

"سیدنا علیؓ نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: میں وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں بعد رسول میرے سوا کوئی نہیں جانتا"

(جلاءالعیون: جلد دوم صفحہ 60' از ملا باقر مجلسی)

سیدنا علیؓ جنت اور دوزخ میں تقسیم کے اختیارات رکھتے ہیں۔

 (بحار الانوار :جلد 39 صفحہ 193)

 یہ تو چند نمونے ہیں اسی طرح بے شمار من گھڑت روایات قصے اور کہانیاں بیان کر کے بانیانِ شیعہ مذہب نے نظریہ امامت کو باقاعدہ ایک عقیدہ اور مذہب کی شکل میں پیش کیا۔ پھر اس عقیدے کے تحفظ کے لیے قرآن کی تحریف کا نظریہ پیش کیا۔ خلفائے ثلاثہؓ اور امہات المؤمنینؓ پہ تبّرا کی مہم شروع کی۔ تقیہ کا عقیدہ بھی اسی عقیدہ امامت کے تحفظ کا مظہر ہے ۔اسی عقیدہ امامت کی رؤسا، امراء، راجوں ، مہاراجوں اور بادشاہوں میں ترغیب کے لیے متعہ جیسا قبیح فعل ایجاد کیا گیا۔ میرے خیال میں یہ عقیدہ امامت ہی فساد کی اصل جڑ ہے۔ امامت کے بارے میں شیعہ اثناء عشری کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد بارہ امام ایسے پیدا ہوئے ہیں جو :

1. انبیاء کی طرح معصوم ہیں۔ 

2. ان کادرجہ تمام انبیا سے بڑھ کر ہے۔ 

3. تمام امام آنحضورﷺ کے درجہ کے برابر ہیں۔

4. ان اماموں کو شریعت میں حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

5. ان اماموں پر ہر سال شبِ قدر کو سال بھر کے احکام نازل ہوتے ہیں ـ  

6. یہ امام وما كان وما يكون کا علم رکھتے ہیں ۔

7. اپنی مرضی سے مرتے اور اپنی مرضی سے جیتے ہیں۔

8. یہ تمام امام اللہ کی طرف سے نامزد اور مقرر کردہ ہیں۔

9. ان اماموں کی اطاعت انبیاء کی طرف فرض ہوتی ہے۔

10. عقیدہ امامت پر ایمان لانا عقیدہ توحید اور رسالت کی طرح ضروری ہوتا ہے۔

 اماموں کے مذکورہ بالا اہم فضائل میں نے بیان کر دیے ہیں جن کا تذکرہ بانیانِ شیعہ کی کتب میں تکرار کے ساتھ موجود ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ اماموں کے اور بہت سے فضائل و اختیارات بیان کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کئی شیعہ سے ایسے سوال کیا کہ سیدنا علیؓ کی امامت کے بارے میں خداوند کریم کا کوئی حکم موجود ہوتا تو خلفائے راشدینؓ حتیٰ کہ کوئی بھی صحابیؓ اس کی قطعاً مخالفت نہ کرتا۔ بلکہ سیدنا علیؓ خود بھی اس حکم کے مطابق اپنی امامت کا علی الاعلان اظہار کرتے نہ کہ خود خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے 23 سال تک ان کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے رہے۔ بانیانِ شیعہ مذہب نے سوال پر غور کرنے کی بجائے تقیہ کا عقیدہ ایجاد کر کے سیدنا علیؓ کے اس عمل کی خود ہی تردید کر دی تھی۔ اگرچہ عقیدہ امامت کی رُو سے تو سیدنا علیؓ کا ہر حکم اور عمل دین ٹھہرنا تھا تو پھر خلفائے ثلاثہؓ کی امامت کو تسلیم کرنا بھی خدائی حکم کے مطابق ہی تھا۔ اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ شیعہ نے پہلے ایک جھوٹ بول لیا پھر اس جھوٹ کا دفاع کرنے کے لیے انہیں 100 سے زیادہ جھوٹ گھڑنے پڑے ہیں۔ آخر میں ذلالت و گمراہی میں ڈوبے ہوئے شیعہ مذہب کے پیروکاروں کو انتہائی دردمندانہ انداز میں دعوتِ فکر دینا چاہتا ہوں کہ اپنے عقائد پر غور و فکر کریں۔ محبتِ اہلِ بیتؓ کی جو چاشنی اہلِ سنت کے مذہب میں موجود ہے آپ کے ہاں تو اس کا تصور بھی نہیں ہے ۔


صفحہ 2 از 2