بعد از وفات قرآن کریم کا میت کی حفاظت کرنا(تحقیق) - دفاعِ…

بعد از وفات قرآن کریم کا میت کی حفاظت کرنا(تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 4 از 4
2: أَنْ يَنْدَرِجَ تَحْتَ أَصْلٍ مَعْمُولٍ بِهِ۔
ترجمہ: اس حدیث کی اصل شریعت میں موجود ہو۔
3: أَنْ لَا يُعْتَقَدَ عِنْدَ الْعَمَلِ بِهِ ثُبُوتُهُ بَلْ يُعْتَقَدُ الِاحْتِيَاطُ۔
ترجمہ: اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس حدیث کے ثابت ہونے کا اعتقاد نہ رکھا جائے بلکہ احتیاطاً عمل کیا جائے۔
یہ تینوں شرائط امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ نے شیخ الاسلام و المسلمین امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ الدنیا ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ سے نقل کرکے لکھیں ہیں یہی مذہب ہے علامہ علاؤ الدین حصکفی ابنِ عابدین شامی ابنِ دقیق العید امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمۃ اللہ وغیرہ کا۔
(كتاب تدريب الراوی فی شرح تقريب النواوی: صفحہ، 351)
(كتاب الجواهر والدرر فی ترجمة شيخ الإسلام ابنِ حجر: جلد، 2 صفحہ، 954)
اور شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ نے شرائط مقررہ کی رعایت کرتے ہوئے ضعیف حدیث پر عمل کرنے والے کے لئے ایک نہایت اہم اور قابلِ لحاظ بات یہ بھی بیان کی:
وأن لا يشهر بذلك لئلا يعمل المرء بحديث ضعيف فيشرع ما ليس بشرع أو يراه بعض الجهال فيظن أنه سنة صحيحة۔
ترجمہ: ضعیف حدیث پر عمل کرنے والا شخص اس ضعیف حدیث کی تشہیر نہ کرتا پھرے تاکہ کوئی دوسرا انسان ضعیف حدیث پر عمل نہ کرے یا اس چیز کو شریعت سمجھ نہ بیٹھے جو فی الواقع شریعت نہیں ہے یا اس طرح اس کو عمل کرتا دیکھ کر بعض جاہل لوگ یہ نہ گمان کر لیں کہ وہ صحیح سنت ہے۔
(تبيين العجب بما ورد فی فضل رجب: صفحہ، 23)
نوٹ: ضعیف حدیث کو فضائل کے باب میں قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ائمہ کرام کے 4 مختلف بڑے مذاہب ہیں ہمیں ان چاروں میں سے جو أصح معلوم ہوا ہم نے اس کو اختیار کیا کسی کو بھی دلائل کے ساتھ ہمارے مؤقف سے اختلاف کرنے کا حق حاصل ہے۔
ضعیف حدیث کو بیان کرنے کی شرط:
امام ابو عمرو تقی الدین ابنِ صلاح م643ھ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
إذا أردْتَ رِوَايةَ الحديثِ الضعيفِ بغَيْرِ إسْنادٍ فَلاَ تَقُلْ فيهِ قَالَ رسُولُ اللهِﷺ كَذا وكَذا وما أشْبَهَ هَذا مِنَ الألفَاظِ الجازِمةِ بأنَّهُ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَلِكَ وإنَّمَا تَقُولُ فيهِ رُوِی عَنْ رَسُولِ اللهِﷺ كَذَا وكَذَا، أوْ بَلَغَنا عَنْهُ كَذا وكَذا أوْ وَرَدَ عَنهُ أوْ جَاءَ عَنهُ أوْ رَوَى بَعْضُهُمْ ومَا أشْبَهَ ذَلِكَ وهَكَذا الْحُكْمُ فيما تَشُكُّ فی صِحَّتِهِ وضَعْفِهِ وإنَّمَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ فيما ظَهَرَ لَكَ صِحَّتُهُ بطريقِهِ الذی أوْضَحْنَاهُ أوَّلاً واللهُ أعلمُ۔
ترجمہ: جب تم کوئی ضعیف حدیث بغیر سند کے بیان کرنا چاہو تو اس میں یوں مت کہو قال رسول اللہﷺ كذا وكذا کہ رسول اللہﷺ نے ایسا ایسا فرمایا ہے یا اس کے مشابہ ایسی تعبیر جس میں اس بات کا جزم ہو کہ رسول اللہﷺ نے اس کو فرمایا ہے اور تم تو اس میں صرف یہ کہو گے کہ روی عن رسول اللهﷺ كذا وكذا کہ رسول اللہﷺ سے یوں یوں منقول ہے یا بلغنا عنه كذا وكذا کہ رسول اللہﷺ سے ہمیں اس اس طرح کی بات پہونچی ہے یا ورد عنه يا جاء عنه کہ آپﷺ سے یہ بات وارد ہے یا روی بعضھم کہ بعض لوگوں نے رسول اللہﷺ سے یہ بات روایت کی ہے اور اس کے مشابہ الفاظ اور یہی حکم ہے ان احادیث کے متعلق کہ جن کی صحت و ضعف میں آپ کو شک ہو اور قال رسول اللہﷺ جیسی جزم کی تعبیر تو صرف اس صورت میں آپ کہیں گے جب کہ حدیث کی صحت آپ پر اس طریقے سے واضح ہو جاۓ جس کو ہم نے پہلے بیان کیا ہے واللہ اعلم۔
(كتاب مقدمة ابن الصلاح معرفة أنواع علم الحديث ت الفحل والهميم: صفحہ، 211)
(كتاب تدريب الراوی فی شرح تقريب النواوی: صفحہ، 350)
اس اصول کو امام نووی رحمۃ اللہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ امام سراج الدین بلقینی رحمۃ اللہ امام زین الدین عراقی رحمۃ اللہ امام ابن کثیر رحمۃ اللہ امام ابنِ ملقن رحمۃ اللہ امام بدرالدین زرکشی رحمۃ اللہ جیسے جلیل القدر محدثین کرام نے بھی بیان کیا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ ضعیف حدیث پر عمل کرتے وقت اوپر بیان کردہ شرائط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور ضعیف حدیث کو بیان کرتے وقت بھی اوپر بیان کردہ شرط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
فقط واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
خادم الحدیث النبویﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی۔
(مؤرخہ 17 ذو الحجہ 1443ھ)

صفحہ 4 از 4