بعد از وفات قرآن کریم کا میت کی حفاظت کرنا(تحقیق) - دفاعِ…

بعد از وفات قرآن کریم کا میت کی حفاظت کرنا(تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 3 از 4
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جس گھر میں قرآنِ مجید کی تلاوت کی جاتی ہے اس گھر پر نور کا ایک خیمہ ہوتا ہے جس سے آسمان والے رہنمائی حاصل کرتے ہیں جس طرح ٹھاٹھیں مارتے سمندر اور چٹیل میدانوں میں موتی جیسے تارے سے راہنمائی کی جاتی ہے جب تلاوت کرنے والا فوت ہو جاتا ہے تو وہ نوری خیمہ اٹھا لیا جا تا ہے چنانچہ فرشتے آسمان سے دیکھتے ہیں تو انہیں وہ نور نظر نہیں آتا پھر فرشتے اسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان پر لے جاتے اور اس کی روح پر درود بھیجتے ہیں پھر قیامت تک اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور جو بھی مؤمن کتاب اللہ سیکھتا ہے اور پھر رات کی کسی گھڑی میں نماز پڑھتا ہے تو وہ رات اگلی رات کو وصیت کرتی ہے کہ اس مؤمن کو وقت مقررہ پر بیدار کر دینا اور اس کے لیے آسان ہو جانا جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کے گھر والے اس کے کفن کی تیاری میں مشغول ہوتے ہیں جب کہ قرآنِ کریم انتہائی حسین صورت میں اس کے سر کے پاس آ کر ٹھہر جاتا ہے پھر کفن کے نیچے اور سینے کے اوپر آ جاتا ہے اور جب اسے قبر میں رکھ کر اس پر مٹی برابر کر دی جاتی اور دوست احباب واپس چلے جاتے ہیں تو نکیرین آ کر اسے قبر میں بٹھا دیتے ہیں اتنے میں قرآنِ مجید مؤمن اور فرشتوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے فرشتے کہتے ہیں ایک طرف ہو جاؤ تا کہ ہم اس سے سوال کریں وہ کہتا ہے ربِ کعبہ کی قسم ایسا ہر گز نہ ہو گا کیونکہ یہ میرا مصاحب اور میرا دوست ہے میں اسے کسی حال میں اکیلا نہ چھوڑوں گا البتہ اگر تمہیں کسی بات کا حکم ہے تو تم اس پر عمل کرو اور مجھے میری جگہ پر رہنے دو کیونکہ میں اسے جنت میں پہنچانے سے پہلے اس سے جدا نہیں ہوں گا پھر قرآن پاک اپنے دوست کی طرف دیکھ کر کہتا ہے میں وہی قرآن ہوں جسے تو کبھی بلند آواز سے اور کبھی آہستہ پڑھتا تھا اور مجھ سے محبت رکھتا تھا پس مجھے تجھ سے محبت ہے اور جس سے میں محبت کرتا ہوں اللہ عزوجل بھی اسے محبوب بنا لیتا ہے نکیرین کے سوالات کے بعد تجھ پر کوئی خوف ہے نہ کوئی غم نکیرین سوالات کرنے کے بعد تشریف لے جاتے ہیں اب مؤمن ہوتا ہے اور قرآنِ کریم کلامِ مجید فرماتا ہے میں تیرے لیے نرم و آرام وہ بستر بچھاؤں گا اور حسین و جمیل چادر عطا کروں گا کیونکہ تو رات بھر میرے لیے جاگتا اور دن بھر میرے لیے مشقت اٹھاتا تھا پھر قرآنِ پاک پلک جھپکنے سے بھی جلدی آسمان کی طرف پرواز کر جاتا ہے اور ربِ ذوالجلال سے بستر اور چادر کا سوال کرتا ہے تو وہ اسے عطا کر دیے جاتے ہیں پھر چھٹے آسمان کے ایک ہزار مقرب فرشتے اس کے ساتھ اترتے ہیں اور قرآنِ کریم مؤمن سے دریافت فرماتا ہے کہ تو میری عدمِ موجودگی میں وحشت زدہ تو نہیں ہوا میں ربِ ذوالجلال کے پاس تیرے لیے بستر اور چادر لینے گیا تھا اور وہ لے بھی آیا ہوں لہٰذا کھڑا ہوجا تاکہ فرشتے بستر بچھادیں پھر فرشتے اسے انتہائی نرمی سے اٹھاتے ہیں اور اس کی قبر 400 سال کی مسافت تک وسیع کر دی جاتی ہے پھر اس کے لیے اذفر خوشبو لگا سبز ریشم بچھایا جاتا ہے اور اس کے سر اور پاؤں کی جانب باریک اور موٹے ریشم کے تکیے لگائے جاتے ہیں اس کے سر اور قدموں کی طرف جنتی نور کے دو چراغ جلائے جاتے ہیں جو قیامت تک جلتے رہیں گے پھر فرشتے اسے دائیں پہلو پر قبلہ رخ کرکے اور اسے جنتی یاسمین دے کر پرواز کر جاتے ہیں اور پھر قیامت تک وہ اور قرآن رہ جاتے ہیں قرآنِ مجید شب و روز اس کی خبر اس کے گھر والوں کو دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس طرح رہتا ہے جس طرح مہربان باپ اپنے بچے کے ساتھ رہتا ہے اگر اس کی اولاد میں سے کسی نے قرآنِ پاک پڑھ لیا تو قرآنِ کریم اس کو خوشخبری سناتا ہے اور اگر اس کے پیچھے اس کی اولاد میں سے کوئی برا ہو تو قرآنِ مجید اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے دعا کرتا ہے۔
(كتاب مسند البزار: رقم الحدیث، 27655 و سندہ ضعیف)
اس حدیث کے ضعف کی وجہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ نے بیان فرمائی:
هذا حديث غريب فی إسناده جهالة وإنقطاع۔
ترجمہ: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں مجہول راوی بھی ہے اور انقطاع بھی ہے۔
(كتاب شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور: صفحہ، 132)
شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ نے فرمایا:
قلت وفيه مع انقطاعه نصر بن عبد الله ما عرفته وبقية رجاله ثقات۔
ترجمہ: میں کہتا ہوں اس کی سند میں انقطاع کے ساتھ ساتھ نصر بن عبداللہ ہے جسے میں نہیں جانتا اور باقی راوی ثقہ ہیں۔
(نتائج الافکار: جلد، 2 صفحہ، 20)
امام نور الدین ہیثمی رحمۃ اللہ نے فرمایا:
رواه البزار وقال خالد ابن معدان لم يسمع من معاذ قلت وفيه من لم أجد من ترجمه۔
ترجمہ: اس کو امام بزار نے روایت کیا اور کہا خالد بن معدان نے حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے سماع نہیں کیا اور میں ہیثمی کہتا ہوں اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا ترجمہ مجھے نہیں ملا۔
(كتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 254)
لہٰذا مکمل تحقیق کے بعد خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اثر حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ ضعیف ہے کیونکہ اس کو بیان کرنے میں أبو بحر داؤد بن راشد الطفاوی کا تفرد ہے اور یہ لین الحدیث ہے جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا اور اس اثر کا مرفوع شاہد جو کہ حدیث حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہے وہ بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں نصر بن عبدالله مجہول الحال ہے اور ابنِ معدان اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔
لہٰذا یہ روایت مرفوعاً و موقوفاً ضعیف ہے اس کو دونوں طرح فضائل کے باب میں بیان و عمل کرنا درست ہے۔
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جائے گا درج ذیل شرائط کے ساتھ:
1: أَنْ يَكُونَ الضَّعْفُ غَيْرَ شَدِيدٍ، فَيَخْرُجُ مَنِ انْفَرَدَ مِنَ الْكَذَّابِينَ وَالْمُتَّهَمِينَ بِالْكَذِبِ، وَمَنْ فَحُشَ غَلَطُهُ، نَقَلَ الْعَلَائِی الِاتِّفَاقَ عَلَيْهِ۔
اس حدیث کا ضعف شدید نہ ہو یعنی اس میں منفرد کاذبین متھم بالکذب متروک اور فحش غلطیاں کرنے والے منکر الحدیث راوی نہ ہوں امام صلاح الدین علائی رحمۃ اللہ نے اس شرط پر محدثین کا اتفاق لکھا ہے۔
صفحہ 3 از 4