بعد از وفات قرآن کریم کا میت کی حفاظت کرنا(تحقیق) - دفاعِ…

بعد از وفات قرآن کریم کا میت کی حفاظت کرنا(تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 1 از 4
جب میت کو غسل دیا جاتا ہے تو قرآن مجید اس کے سرہانے کھڑا رہتا ہے اور جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو قرآن مجید منکر نکیر اور میت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے حدیث کی مکمل تحقیق۔
مکمل روایت اصل متن کے ساتھ درج ذیل ہے:
حضرت عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم میں سے جب کوئی شخص رات كو بيدار ہو تو بلند آواز سے قرأت کرے کیونکہ وہ اپنى تلاوت سے سرکش شیاطین اور فاسق جنات بھگا رہا ہوتا ہے فضاء اور گھر میں رہنے والے فرشتے اس کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے اور اس کی قرأت کو غور سے سنتے ہیں اور گزرنے والى رات آئندہ آنے والى رات کو یہ کہتے ہوئے وصیت کر کے جاتى ہے کہ تو بھى اس قرآن پڑھنے والے کو رات کى اسى گھڑى میں بیدار کرنا اور اس پر ہلکى رہنا چنانچہ جب اس کی وفات کا وقت ہوتا ہے تو قرآنِ کریم آتا ہے اور جب تک اس کے گھر والے اسے غسل دے رہے ہوتے ہیں قرآنِ کریم اس شخص کے سرہانے کھڑا رہتا ہے جیسے ہی گھر والے اس کے غسل و کفن سے فارغ ہوتے ہیں تو قرآنِ کریم آتا ہے اور اس شخص کے کفن اور سینے كے درمیان جاگزیں ہوجاتا ہے پھر جب اسے دفن کیا جاتا ہے اور منکر نکیر دو خاص فرشتوں کے نام اس کے پاس آتے ہیں تو قرآنِ کریم نکل کر میت اور ان فرشتوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے وہ فرشتے قرآنِ كريم سے کہتے ہیں ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم اس سے سوال و جواب کر سکیں تو قرآنِ کریم جواب میں کہتا ہے نہیں بخدا میں اس سے اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک ميں اسے جنت میں نہ داخل کرا دوں اور اگر تمہیں اس شخص کے بارے میں اللہ تعالىٰ کى طرف سے کوئی حکم دیا گیا ہے تو تم اس حکم کو پورا کر گزرو پھر قرآنِ كريم اس میت کی طرف دیکھ کر کہتا ہے کیا تم مجھے پہچانتے ہو تو وہ کہتا ہے نہیں تب وہ قرآن اس سے کہتا ہے میں وہى قرآن تو ہوں جو تجھے رات كو جگائے رکھتا تھا تہجد میں بیدار ہو کر تم میرى تلاوت کیا کرتے تھے اور تمہیں دن بھر پیاسا رکھتا تھا اور تجھے تیرى شہوت سے روکے رکھتا تھا اور تیرے کانوں اور تیری آنکھوں کو غلط کاموں سے روکتا تھا سو تو مجھے دوستوں میں سچا دوست اور بھائیوں میں سچا بھائی پائے گا تجھے خوشخبرى ہو کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد تمہیں کوئى غم اور پریشانى نہیں ہوگى پھر قرآنِ کریم اوپر اللہ تعالیٰ كى طرف جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے بستر اور چادر مانگے گا تو الله تعالیٰ اس کے لیے بستر چادر جنت کے نور کا ايک چراغ اور جنت کی یاسمین چنبیلی عنايت كيے جانے کا فرشتوں كو حكم فرمائیں گے چنانچہ حکم کى تعمیل میں ایک ہزار آسمانی مقرب فرشتے ان چیزوں کو اٹھا کر لائیں گے ایسے میں قرآنِ کریم ان فرشتوں سے پہلے اس ميت كے پاس پہنچ جائے گا اور اس سے کہے گا تجھے میرے یہاں سے جانے کے بعد كوئى گھبراہٹ تو نہیں ہوئی میں یہاں سے جانے کے بعد مسلسل اللہ تعالیٰ سے تیرے بارے میں سفارش کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے بستر چادر اور جنت کے نور کا چراغ اور جنت کی یاسمین چنبیلی عنايت كيے جانے کا حکم دے دیا پھر فرشتے اس ميت کو اوپر اٹھاتے ہیں اور اس كے لیے بستر بچھاتے ہیں اور اوڑھنى چادر میت کی پاؤں کی جانب رکھ دیتے ہیں اور یاسمین چنبیلی اس کے سینے کے پاس رکھ دیتے ہیں پھر اس ميت کو دائیں کروٹ پر لٹاتے ہیں اور وہ فرشتے اس کے پاس سے چلے جاتے ہیں یہ مردہ ان فرشتوں کو جاتا ہوا برابر دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ آسمان میں گم ہو جاتے ہیں پھر قرآنِ کریم میت کے لیے اوپر جاتا ہے تو قبر کے قبلہ کى جانب کو پانچ سو سال کی مسافت کے برابر کشادہ کر دیا جاتا ہے یا جتنا اللہ تعالیٰ کشادہ فرمانا چاہیں اتنى کشادہ کر دى جاتى ہے پھر قرآنِ کریم اس یاسمین چنبیلی كو اٹھا کر اس میت کے ناک کے نتھنوں کے پاس رکھ دیتا ہے تاکہ مسلسل وہ یاسمین کى خوشبو سے محظوظ ہوتا رہے پھر وہ قرآنِ کریم اس میت کے گھر والوں کے پاس ہر روز ایک یا دو دفعہ جاتا ہے اور ان کی خیر خبر اس میت کے پاس لاتا ہے اور اس کے گھر والوں کے لیے بھلائی کی دعا کرتا رہتا ہے اگر اس میت کى اولاد میں کوئى قرآنِ کریم سیکھ ليتا ہے تو قرآنِ كريم آ كر اس ميت كو اس بات کی خوشخبری سناتا ہے اور اگر اس میت کے پسماندگان برے ہوں تب بھى روزانہ ایک یا دو مرتبہ قرآنِ کریم ان کے پاس آ کر ان کے حال پر کڑھتا اور روتا رہتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت کے صور پھونکے جانے تک جارى رہتا ہے۔
اس اثر کو باسند درج ذیل کتب میں روایت کیا گیا:
1: التهجد وقيام الليل لابن أبی الدنيا رقم الحدیث: 30
2: كتاب المتفق والمفترق رقم الحدیث: 1513 
3: كتاب مسند الحارث رقم الحدیث: 730
4: كتاب أخلاق أهل القرآن رقم الحدیث: 90
5: كتاب فضائل القرآن لابن الضريس رقم الحدیث: 115
گزشتہ کتب میں یہ روایت جن اسناد کے ساتھ نقل کی گئی ہے ان کی تحقیق:
1:حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ أَبُو بَحْرٍ عَنْ صِهْرٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ مُسْلِمُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِی عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالا۔
یہ سند ضعیف ہے کیونکہ سند میں أبو بحر داؤد بن راشد الطفاوی لين الحدیث ہے اس سند کے بقیہ رجال ثقہ صدوق ہیں۔
(التقريب التهذيب: رقم الحدیث، 1789)
2: أخبرنا بسر بن عبد الله الفاتنی والقاضی أبو العلاء الواسطی قالا أخبرنا أحمد بن جعفر بن حمدان بن مالك القطيعی حدثنا بشر بن موسیٰ حدثنا أبو عبد الرحمٰن المقری حدثنا رجل من أهل كرمان يقال له داؤد أبو بحر ح وقال أبو العلاء داؤد أبو يحيیٰ والصواب أبو بحر وأخبرنا علی بن محمد بن علی الإيادی أخبرنا أحمد بن يوسف بن خلاد العطار حدثنا الحارث بن محمد التميمی حدثنا أبو عبد الرحمٰن المقری حدثنا داؤد أبو بحر عن صهر له يقال له مسلم بن أبی مسلم عن مورق العجلی عن عبيد ابن عمير الليثی قال قال عبادة بن الصامت رضی الله عنه۔
ان دونوں اسناد میں بھی أبو بحر داؤد بن راشد الطفاوی کا ضعف موجود ہے۔
صفحہ 1 از 4