سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نماز میں سیدنا امیر معاویہ رضی…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نماز میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے بددعا کرنا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 3

شعبه: حدثنا ابوبكره قال ثنا ابوداؤد عن شعبه قال اخبرنی حصين بن عبدالرحمٰن قال سمعت عبدالرحمٰن بن معقل۔

(شرح معانی الاثار (عربی) جلد 1 صحفه 252)۔

شریک بن عبد الله:

حدثنا شريك عن حصين عن عبدالرحمٰن بن معقل۔

(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 2 روایت 7130)۔

حصین سے ان کے شاگرد شعبہ اور شریک نے جب اس روایت کو نقل کیا تو اس میں کسی کا نام نہیں آیا لیکن جب ان کے تیسرے شاگرد ہشیم نے اس روایت کو ان سے بیان کیا تو اس میں سیدنا امیر معاویہؓ اور دیگر کے نام ذکر کر دیے اس لئے ہشیم کی روایت ایک جماعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے شاذ ہے۔

ہشیم کے علاوہ یہ روایت علقمہ سے بھی مروی ہے:

سند:

وقال ابنِ المجالد عن أبيه عن ابراهيم عن علقمه والاسود۔

متن: علقمہ اور اسود کہتے ہیں نبی کریمﷺ نے کسی پر قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی ماسوائے اس صورت میں کہ آپ کسی جنگ میں ہوتے تھے اس وقت آپ تمام نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ نے بھی اپنے انتقال تک کبھی قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ سیدنا علیؓ نے بھی نہیں پڑھی لیکن جب انہوں نے اہلِ شام کے ساتھ جنگ کی تو وہ تمام نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے اسی طرح سیدنا امیر معاویہؓ بھی قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف بددُعا کرتے تھے۔

(مصنف عبدالرزاق (اردو) جلد 2 روایت 4953)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی اسماعیل بن مجالد بن سعید صدوق ہے مگر روایت میں غلطیاں کرتا ہے۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

آٹھویں طبقہ کا صدوق خطاء کار راوی ہے۔

(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفه 78)۔

دوسری علت:

اسماعیل بن مجالد کا والد مجالد بن سعید ہمدانی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

اس راوی کا ترجمہ گزر چکا ہے۔

(دیکھیں باب سیدنا معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا پہلی سند کا تعاقب)۔

اس لئے اس روایت سے استدلال جائز نہیں۔

جن کے نزدیک یشیم کی روایت شاذ ہے وہ ان روایات کے بارے میں کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے قنوتِ نازلہ خوارج وغیرہ کے بارے میں پڑھی۔

دوسری رائے: اس روایت کے بارے میں دوسری رائے (اور یہی ہماری رائے) ہے کہ یہ روایت صحیح ہے کیونکہ ہشیم کی روایت کی متابعت میں علقمہ سے صحیح سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے۔

سند:

حدثنا محمد بن احمد ثنا بشر بن موسیٰ ثنا المقرى ثنا ابو حنيفه عن حماد عن ابراهيم عن علقمه۔

متن: علقمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ نے کبھی قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی اور سیدنا علیؓ نے بھی نہیں کی لیکن جب ان کی اہلِ شام سے جنگ ہوئی تو وہ سیدنا امیر معاویہؓ پر قنوتِ نازلہ کرتے تھے۔

(مسند امام ابوحنیفہ لابی نعیم (عربی) صحفه 83)۔

یہ روایت صحیح ہے اور سیدنا علیؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے قنوت کرنا ثابت ہے لیکن علقمہ کی دوسری روایت جس میں یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ ؓ جب بھی سیدنا علیؓ پر قنوتِ نازلہ کرتے تھے وہ روایت صحیح نہیں جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے اس لئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علیؓ دونوں ایک دوسرے پر قنوتِ نازلہ کرتے تھے درست نہیں۔

اس روایت کی بناء پر سیدنا امیر معاویہؓ پر طعن جائز نہیں:

سیدنا علیؓ نے حالت جنگ میں سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بددُعا کی کہ اے اللہ سیدنا امیر معاویہؓ پر پکڑ کر لیکن یہ بددُعا کرنا ایک وقتی غصے اور تکلیف کی وجہ سے تھا جیسا کہ انسان غصے یا تکلیف میں کسی کے لئے بددُعا کر دیتا ہے اس لئے اس بات کو دلیل بنانا کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بددُعا کی اور پھر اس سے سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا عمرو بن العاصؓ وغیرہ کی شان میں گستاخی شروع کر دینا حرام ہے کیونکہ یہ عمل صرف ایک وقتی غصے کی وجہ سے تھا اور اس بددُعا کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ کو برا سمجھتے تھے یا ان سے نفرت کرتے تھے اکثر ماں باپ بھی اپنی اولاد کو یا بھائی دوسرے بھائی کو یا کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو غصے میں ایسی بددُعا دے دیتا ہے تو جیسے اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اس لئے بددُعا دی بلکہ اس سے پہنچنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے بددُعا دے دی ویسے ہی سیدنا علیؓ کا جنگ کی حالت میں سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے یہ بددُعا کرنا بھی اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ سے نفرت کرتے تھے بلکہ سیدنا علیؓ تو ان کے بارے میں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی ہیں اور یہ بات تو شیعہ کی اپنی کُتب میں موجود ہے۔

شیعہ ذاکر عبداللہ بن جعفر الحمیری لکھتا ہے؛

سیدنا جعفرؒ کہتے ہیں میں نے اپنے والد (سیدنا باقرؒ) سے سنا کہ سیدنا علیؓ اپنے مدِمقابل (سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی ہیں بس انہوں نے بغاوت کی۔

(قرب الاسناد (عربی) صحفه 94)۔

اور شیعہ ابنِ ابی الحدید لکھتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے صفین سے واپسی پر سیدنا امیر معاویہؓ

کے بارے میں فرمایا۔

اے لوگو سیدنا امیر معاویہؓ کی حکومت کو بُرا نہ جانو جب وہ تم میں نہیں ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اس طرح الگ ہو کر گرتے دیکھو گے جیسے حنظل گرتا ہے۔

( شرح ابنِ ابی الحدید (عربی) جلد 16 صحفہ 26)۔

یہ روایت کُتبِ اہلِ سنت میں بھی موجود ہے تاریخِ مدینہ دمشق (عربی) جلد 59 صحفہ 152 151 پر امام ابنِ عساکرؒ نے 6 اسناد کے ساتھ یہ روایت نقل فرمائی ہے۔

صفحہ 2 از 3