تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 6 از 6

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 212 تہذیب الکمال: جلد، 31 صفحہ، 401)

16: نسخہ ابو محمد یحییٰ بن یحییٰ کثیر الاندلسی القرطبی: ہمارے یہاں جو نسخہ متداول و مشہور ہے وہ یہی نسخہ ہے اور جب مؤطا مالک کہا جاتا ہے اس سے یہی نسخہ مراد ہوتا ہے، یحییٰ بن یحییٰ صحاحِ ستہ کے رواۃ میں سے نہیں ہیں ابنِ حجرؒ نے ان کا ترجمہ تہذیب التہذیب میں تمییز کے طور پر ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں: ذكرته للتميز بينه وبين الذی قبله (اى يحيىٰ بن يحيىٰ بن قيس) لاشتراكهما فی الرواية عنه۔ 

(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 280)  

151 یا 152ھ میں ان کی وفات ہوئی ہے، دو مرتبہ مدینہ کی طرف سفر کیا ہے، پہلی بار 179ھ میں یعنی جس سال امام صاحبؒ کا انتقال ہوا، اس سفر میں انہوں نے مؤطا کا اکثر حصہ امام صاحبؒ سے سنا ان کی عمر اس وقت 28 سال تھی بستان المحدثین میں جو 20 سال کا ذکر ہے بظاہر درست نہیں ہے (تہذیب التہذیب: صفحہ، 300، 301) دوسرے سفر میں ابو عبداللہ عبدالرحمٰن بن القاسم سے فقہ حاصل کر کے اپنے وطن واپس گئے اور اندلس میں تدریس وفقہ کا کام شروع کیا اندلس اور اس کے قرب و جوار میں ترویج مذہبِ مالک میں ان کا بڑا حصہ اور کردار ہے، حاکمِ وقت نے ان کو قضاء کا عہدہ پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اس کے بعد حاکم ان سے مشورہ لیے بغیر کوئی قاضی مقرر نہیں کرتا تھا امام مالکؒ نے ان کو "العاقل" کا لقب دیا تھا، اس لقب کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہاتھی دیکھنے کے لیے جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں آپ سے علم و فضل حاصل کرنے آیا ہوں ہاتھی دیکھنے کے لیے نہیں آیا، امام مالکؒ کی رائے اور مذہب کو تمام آراء پر ترجیح دیتے تھے، البتہ کچھ مسائل میں امام صاحبؒ سے اختلاف بھی کیا ہے، ابن عبد البر رحمۃاللہ نے ان کے بارے میں کہا ہے: الا ان له وهماً وتصحيفا فی مواضع كثيرة ولم يكن له بصر بالحدیث 234ھ میں ان کا انتقال ہوا۔

فضائل مؤطا:

علامہ سیوطی رحمۃاللہ اور ابنِ عربی کہتے ہیں: المؤطا هو الأصل الأول واللباب، وكتاب البخاری هو الأصل الثانی فی الباب، وعليهما بنى الجميع۔ 

(بستان المحدثین: صفحہ، 31)

ابنِ عبدالبرؒ نے عمر بن عبد الواحد کا قول نقل کیا ہے کہ ہم نے چالیس دن میں امام صاحبؒ سے مؤطا پڑھی اختتام پر آپ نے فرمایا: كتاب الفته فی اربعين سنة اخذتموه فی اربعین یوما۔

(التعليق الممجد 14) 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ نے اپنی زندگی کے تمام تجربات و مطالعات اس مؤطا پر خرچ فرمائے ہیں، امام صاحبؒ سے کہا گیا کہ آپ کی طرح دوسرے علماء نے بھی مؤطا لکھی ہے آپ نے کیوں اس میں وقت ضائع کیا؟ فرمایا وہ کتابیں لاؤ، کتابیں دیکھنے کے بعد فرمايا: إنه لا يرتفع إلا ما أريد به وجه الله 

(محولہ بالا) 

مؤطا کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اکثر وہ اسانید جن پر اصحیت کا حکم لگایا گیا ہے اس میں موجود ہیں۔

(محولہ بالا: صفحہ، 16 اصبح الاسانید کی تفصیل کے لیے دیکھیے: تدریب الراوی: صفحہ، 76، 87) اور نسخہ مصمودی کو دوسروں پر ترجیح اس لیے ہے کہ انہوں نے سب سے آخر میں امام صاحبؒ سے سنا ہے و معلوم ان آخر السماع ارحج اسی طرح ہر باب کے تحت کافی مسائلِ فرعیہ بھی اس میں موجود ہیں۔

شروح:

مؤطا امام مالک پر اتنا زیادہ کام ہوا ہے کہ اس کی تفصیل و اختصار دونوں اس موقع پر مشکل ہیں، ہم بہت ایجاز کے ساتھ اس کی چند شروح کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

1: التمهيد لما فی المؤطا من المعانی والأسانيد: یہ شرح جو ستر ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے علامہ ابنِ عبدالبرؒ (متوفی 463ھ) کی تصنیف ہے جس کو انہوں نے شیوخ مالک کے اسماء کے حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دیا ہے۔

2: كتاب الاستذكار لمذهب علماء الأمصار فيما تضمنه المؤطا من المعانی والآثار: یہ بھی ابنِ عبدالبرؒ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اس تمہید کو مختصر کیا ہے۔

3: كتاب التفصى فی اختصار المؤطا یہ بھی انہی کی تالیف ہے۔

4: القبس فی شرح مؤطا مالك بن أنس: یہ قاضی ابوبکر بن عربی (متوفی 546ھ) کی تصنیف ہے۔

5: علامہ خطابی صاحبِ معالم السنن (متوفی 388ھ) نے بھی اس کا اختصار کیا ہے۔

6: المصفی: یہ فارسی شرح حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ (متوفی 1176ھ) کی ہے، جس میں انہوں نے احادیث و آثار کو الگ کر کے اقوال امام مالکؒ اور ان کے بعض بلاغات کو حذف کیا ہے۔

7: المسوی یہ عربی شرح بھی حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ کی ہے۔

8: أوجز المسالك إلى مؤطا مالک: یہ ایک جامع اور نفیس شرح ہے جو محتاجِ تعارف نہیں حضرت شیخ الحدیث علامہ محمد زکریا رحمۃاللہ (متوفی 1402ھ ) کی تصنیف انیق ہے۔


صفحہ 6 از 6