تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 5 از 6

(التعليق الممجد: صفحہ، 16) 

لیکن بظاہر رواۃ مؤطا کی تعداد اس سے زیادہ ہوگی، ہارون رشید رحمۃاللہ نے بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ امام صاحبؒ سے مؤطا پڑھی ہے، خلیفہ مہدی اور ہادی نے بھی امام صاحبؒ سے پڑھ کر روایت کی ہے حضرت مولانا عبدالحی لکھنؤی نے التعلیق الممجد میں قاضی عیاض کا قول نقل کیا ہے کہ مؤطا کے بیس نسخے مشہور ہوئے بعض حضرات نے تیس نسخوں کا ذکر کیا ہے، جن میں سے چار مستعمل ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے سولہ نسخوں کا تذکرہ پیش کیا ہے جن کو حضرت شیخ الحدیث نے مقدمہ اوجز المسالک میں درج فرمایا ہے، ہم ان کا مختصر سا تذکرہ پیش کرتے ہیں۔

1: نسخہ ابو عبداللہ عبد الرحمٰن بن القاسم المصر ی 132 ھ میں پیدا ہوئے اور 191ھ

میں انتقال ہوا، انہوں نے سب سے پہلے المدونۃ الکبری میں فقہ مالک کے مسائل کو مرتب و مدون کیا۔

(التعلیق الممجد: صفحہ، 17)

2: نسخہ ابو یحییٰ معن بن عیسیٰ 130ھ کے بعد پیدا ہوئے اور 197ھ میں انتقال ہوا، ان کو عصائے مالک کہا جاتا تھا کیونکہ امام صاحبؒ ضعف و کمزوری کے زمانے میں ان کا سہارا لے کر چلتے تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 9  صفحہ، 304 تہذیب الکمال: جلد، 28 صفحہ، 336 )

3: ابو عبد الرحمن عبدالله بن مسلمہ بن قعنب: 130ھ کے بعد پیدا ہوئے اور 221ھ میں انتقال ہوا مؤطا کا نصف حصہ امام صاحبؒ سے سن کر دوسرا حصہ امام صاحبؒ کو پڑھ کر سنایا۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 257 تہذیب الکمال: جلد، 16 صفحہ، 136)

4: نسخہ ابو محمد عبداللہ بن یوسف یحییٰ بن معین کہتے ہیں: أثبت الناس فی المؤطا عبدالله بن یوسف امام بخاریؒ کہتے ہیں كان من أثبت الشاميين 218ھ میں وفات پائی۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 357 تہذیب الکمال: جلد، 12 صفحہ، 333)

5: نسخہ سعید بن عفیر: یہ اپنے دادا کی طرف منسوب ہیں، ان کے والد کا نام کثیر ہے سعید بن کثیر بن عفیر 146ھ میں پیدا ہوئے، ان کو علمِ تاریخ و انساب میں مہارت تامہ حاصل تھی ابو حاتم نے ان کو صدوق کہا ہے۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 583 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 36)

6: نسخہ ابو عبدالله مصعب بن عبدالله 152ھ میں پیدا ہوئے، مسئلہ خلقِ قرآن میں اہلِ توقف کے ساتھ تھے اور علمِ انساب کے ماہر تھے 236ھ میں انتقال ہوا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 11 صفحہ، 30 تہذیب الکمال: جلد، 28 صفحہ، 34 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 162)

7: نسخہ ابو عبدالله محمد بن المبارک الصوری: 153ھ میں پیدا ہوئے اور دمشق کے مفتی رہے، کیی بن معین کہتے ہیں: محمد بن المبارك شيخ الشام بعد أبی مسہر وہیں انتقال کر گئے نمازِ جنازہ ابو مسہر نے پڑھائی۔

(تہذیب الکمال: جلد، 26 صفحہ، 352 سیر اعلام النبلا: صفحہ، 10 صفحہ، 390)

8: نسخہ سلیمان بن برد: ان کے حالات غالباً پردہ خفا میں ہیں، حضرت شیخ الحدیث اور مولانا عبد الحی لکھنؤی نے بھی ان کے حالات بیان نہیں کئے ہیں۔

9: نسخہ ابو حذاقۃ احمد بن اسماعیل بن محمد: ان کو اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے فضل بن سہل کہتے ہیں کہ جو بھی بات کہی جائے تو فوراً کہتا ہے: حدثنی مالك عن نافع بن عمر یہ آخری راوی ہیں جو امام صاحبؒ سے مؤطا کی روایت کرتے ہیں۔ 

(تہذیب الکمال: جلد، 10 صفحہ، 266)

10: نسخہ ابو محمد سوید بن سعید بن سہل ابن شہر یار: مسلم و ابنِ ماجہؒ کے راویوں میں سے ہیں، تاہم متکلم فیہ ہیں بعض حضرات نے ان کی تضعیف کی ہے جیسے امام بخاریؒ، ابنِ مدینیؒ وغیرہ البتہ امام احمد بن حنبلؒ نے ان کو ثقہ کہا ہے، عیدالفطر کے دن 240ھ عمر کی تقریباً سو بہاریں دیکھنے کے بعد انتقال کر گئے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 11 صفحہ، 410 تہذیب الکمال: جلد، 12 صفحہ، 247)

11: نسخہ امام محمد بن الحسن الشیبانی: اس کا تذکرہ بعد میں آئے گا۔

12: نسخہ ابو زکریا یحییٰ بن یحییٰ بن بکر بن عبد الرحمٰن تمیمی نیشابوری 142ھ میں پیدا ہوئے اور علمِ حدیث میں امام مانے گئے امام بخاریؒ، مسلمؒ، ترمذیؒ، نسائیؒ ان سے روایت لیتے ہیں علماء جرح و تعدیل نے ان کی زبردست توثیق کی ہے، 226ھ میں انتقال ہوا، حاکم کہتے ہیں: ان کی تاریخِ وفات کے بارے میں کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا، جو بھی اس قول سے اختلاف کرے گا غلطی پر ہوگا، ان کی قبر کی لوح پر جو 224ھ لکھا ہے وہ غلط ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 223 تہذیب الکمال: جلد، 16 صفحہ، 277)

مؤطا کے چار مشہور نسخے:

13: نسخہ ابو محمد عبداللہ بن وہب بن مسلم: 125ھ میں پیدا ہوئے بالاتفاق ثقہ اور صحاحِ ستہ کے رواۃ میں سے ہیں، ان کے علمی مقام کے لیے یہی کافی ہے کہ امام مالکؒ جب ان کو خط لکھتے تو یہ تحریر فرماتے: إلى عبدالله بن وهب مفتی اہل مصر کسی اور کے لیے ایسا نہیں کرتے تھے، دو کتابیں بنامِ مؤطا صغیر و مؤطا کبیر تالیف فرمائی تھیں، شعبان 197ھ میں انتقال ہوا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ کتاب اہوال القیامۃ ان کے سامنے پڑھی گئی، وہ بے ہوش ہوگئے اور اسی حالت میں انتقال ہوا۔ (تہذیب الکمال: جلد، 32 صفحہ، 31)

14: نسخہ ابو زکریا یحییٰ بن عبدالله بن بکیر المصری: ان کو کبھی دادا کی طرف منسوب کر کے عبداللہ بن بکیر بھی کہتے ہیں ، 155ھ میں پیدا ہوئے کئی مرتبہ امام مالکؒ سے مؤطا سننے کا موقع ملا، اسی طرح لیث سے بھی کئی مرتبہ مؤطا کی سماعت کی امام نسائیؒ نے ان کو ضعیف کہا ہے لیکن علامہ ذہبیؒ نے فرمایا کہ نہ معلوم نسائیؒ کس بناء پر ان کو ضعیف قرار دیتے ہیں یہ ایک جرح مردود ہے، امام بخاریؒ اور مسلمؒ ان سے روایت لیتے ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 223 تہذیب الکمال: جلد، 12 صفحہ، 277)

15: ابو مصعب احمد بن ابی بکر القاسم بن الحارث: 150ھ میں پیدا ہوئے اور امام مالکؒ سے حدیث و فقہ حاصل کیا، یہاں تک کہ ان کا شمار مدینہ کے شیوخ وقضاۃ میں ہونے لگا اصحابِ صحاحِ ستہ ان کی روایت لیتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نسخہ سب سے آخر میں امام صاحبؒ کے سامنے پیش ہوا اور اس میں دوسرے نسخوں کے مقابلے میں ایک سو احادیث زیادہ ہیں، رمضان المبارک 242ھ میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر انتقال کر گئے، وفات کے وقت ان کی عمر 92 سال تھی۔

صفحہ 5 از 6