تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 6

اس تفصیل سے ان تمام اقوال میں تطبیق ہو جائے گی جس میں کوڑے لگنے کی وجہ بعض لوگوں نے ترکِ جماعت اور بعض نے قول بطلاقِ مکرہ بتائی ہے اور بعض نے کہا کہ کسی نے جعفر بن سلیمان کو یہ شکایت لگائی تھی کہ امام مالکؒ آپ کی بیعت کو صحیح نہیں سمجھتے۔

اساتذه:

امام صاحبؒ کے اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے، زرقانی کہتے ہیں کہ انہوں نے تقریباً نو سو مشائخ وقت سے استفادہ کیا۔ 

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 34) 

خود امام صاحبؒ نے جن اساتذہ کا نام لیا ہے وہ 95 ہیں، جن کو علامہ ذہبیؒ نے سیر اعلام النبلاء میں ذکر کیا ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 49، 51) ان میں سے بعض درج ذیل ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے خصوصی شاگرد نافع، ایوب سختیانی، حمید، ربیعہ الرائی، مسلمہ بن دینار، عبداللہ بن دینار، عطاء، خراسانی، زہری وغیرهم ۔

تلامذه:

علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے، امام مالکؒ ابھی نوجوان تھے کہ حدیث بیان کرنی شروع کر دیا۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 55) 

امام مالکؒ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ ان کے اساتذہ میں سے بعض نے ان سے روایت کی ہے، علامہ ذہبیؒ نے سات اساتذہ کا نام لیا ہے جو امام صاحبؒ سے روایت کرتے ہیں۔

(سیر اعلام النبلا: جلد، 8 صفحہ، 52) 

اور آخر میں وغیرہم لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی ایسے اساتذہ ہیں لیکن قید قلم میں نہیں آئے، البتہ حضرت شیخ الحدیث نے بعض کا تذکرہ کیا ہے۔

(دیکھیے مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 38) 

وہ اساتذہ درج ذیل ہیں امام صاحبؒ کے چچا ابو سہیل، یحییٰ بن ابی کثیر، زہری، یحییٰ بن سعید، یزید بن الہاد (متوفی 139ھ) زید بن ابی انیسہ (متوفی 124 ھ یا 125ھ) عمر بن محمد بن زید ان کے ہمعصر ساتھیوں میں سے معمر، اوزاعی، شعبہ، ثوری، سفیان بن عینیہ عبداللہ بن مبارک کا ان کے تلامذہ میں نام لیا جاتا ہے، علامہ ذہبیؒ نے اس فہرست میں امام ابوحنیفہؒ کو بھی ذکر کیا ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 52) 

لیکن صحیح یہ ہے کہ امام صاحبؒ کی روایت امام مالکؒ سے ثابت نہیں ہے، ابو منصور بغدادی نے کہا تھا کہ: أصح الأسانيد الشافعی عن مالك عن نافع عن ابن عمر ہے، اس پر حافظ مغلطای نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابو حنیفہؒ اجل اور افضل ہے شافعیؒ سے لہٰذا، أصح الأسانيد أبوحنيفه عن مالك عن نافع عن ابن عمر ہونی چاہیئے، علامہ ابنِ حجرؒ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

أما اعتراضه بأبي حنيفة فلا يحسن لأن أبا حنيفة لم يثبت روايته عن مالك وإنما أوردها الدار قطنی ثم الخطيب لروايتين وقعتا لهما عنه بإسنادين فيهما مقال، وأيضاً فان رواية أبی حنيفة عن مالك إنما هی فی ماذكره فی المذاكرة ولم يقصد الرواية عنه كالشافعى الذى لازمه مدة طويلة، وقرء عليه الموطأ بنفسه۔

(دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 16)

بے غبار عبارت سے علامہ ذہبیؒ کے قول کا جواب ملتا ہے علامہ کوثری نے بھی اس کا پر زور رد کیا ہے۔ 

(اقوم المسالك للكوثری: صفحہ، 99، 104)

تالیفات:

امام مالکؒ کی موطا کے علاوہ اور بھی کافی تالیفات ہیں جن میں سے بعض کو علامہ ذہبیؒ اور حضرت شیخ الحدیث نے ذکر کیا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

رسالة فی الأقضية، رسالة الأدب والمواعظ، رسالة فی أجماع أهل المدينه، ديوان العلم، كتاب فی النجوم ومنازل القمر، كتاب المناسك، كتاب المجالسات وغيره۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 88 مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 38)

مؤطا کی تاریخ، وجہ تصنیف اور وجہ تسمیہ:

خلیفہ منصور جب امام صاحبؒ کے ساتھ بدسلوکی پر شرمندہ ہوا، تو امام صاحبؒ سے درخواست کی کہ آپ ایسی کتاب لکھیں جس میں ابنِ عباس کے جواز، ابنِ عمر کے تشدد اور ابنِ مسعود کے شواذ نہ ہو، اس میں میانہ روی کو اپنائیں اور وہی مسائل لکھیں جن پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ کا اجماع ہو۔

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 43) 

امام صاحبؒ نے کام شروع کیا لیکن یہ کام منصور کی زندگی میں ختم نہ ہو سکا اور اس کے بیٹے مہدی کی خلافت کے ابتدائی ایام میں اختتام پذیر ہوا، منصور نے 6 ذی الحجہ 158ھ میں وفات پائی، اس کے علاوہ مفضل بن محمد کا بیان ہے کہ مؤطا کے طرز پر سب سے پہلے عبد العزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ ماجشون نے کتاب تصنیف کی جس میں صرف مسائل تھے حدیث اور آثار نہیں تھے، جب امام صاحبؒ نے اس کا مطالعہ کیا تو فرمایا: کام تو اچھا کیا ہے لیکن اگر میں ہوتا تو شروع میں آثار لاتا پھر اس کے بعد مسائل ذکر کرتا اس کے بعد امام صاحبؒ کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ایسی کتاب لکھ دی جائے، چنانچہ انہوں نے مؤطا کی تصنیف کی۔

امام صاحبؒ سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے مؤطا نام کیوں رکھا ہے؟ تو فرمایا: لکھنے کے بعد میں نے مدینہ کے ستر فقہاء کے سامنے اسے پیش کیا سب نے میری موافقت کی تو میں نے مؤطا نام رکھا، ابوحاتم رازی کہتے ہیں کہ چونکہ امام صاحبؒ نے عوام کی سہولت کے لیے اس کی تصنیف کی تھی اسی لیے اس کو مؤطا ما لک کہا جانے لگا، جس طرح جامع سفیان وغیرہ کہا جاتا ہے، مؤطا کے لغوی معنیٰ ہیں، ممہد اور مسہل کے، ابنِ فہر کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے اس نام کی کوئی کتاب تصنیف نہیں کی۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 14)

تعداد روایات:

امام مالکؒ تقریباً ایک لاکھ احادیث روایت کرتے تھے، پھر ان میں سے دس ہزار احادیث کو منتخب کر کے مؤطا کی شکل میں جمع کیا، اور ہر سال اس میں کمی بیشی ہوتی رہی یہاں تک کہ موجودہ مجموعہ باقی رہا، حضرت شاہ ولی اللہ نے مصفی میں اس کو اختیار کیا ہے، بقول ابو بکر ابہری کے جس کو حضرت شیخ الحدیث نے ذکر کیا ہے۔

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 42) 

مؤطا میں ایک ہزار سات سو میں احادیث ہیں، جن میں سے مسند و مرفوع چھ سو، مرسل دو سو، موقوف چھ سو تیرہ، تابعین کے اقوال و فتاویٰ دو سو پچاسی ہیں۔ 

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 42)

رواۃ مؤطا اور نسخوں کی تعداد:

امام مالکؒ سے ایک ہزار آدمی روایت حدیث کرتے تھے، لیکن جو حضرات احادیثِ مؤطا کی روایت کرتے تھے وہ بھی کچھ کم نہیں تھے، قاضی عیاض نے ایسے 39 رواۃ کی ایک فہرست تیار کی ہے جنہوں نے امام صاحبؒ سے مؤطا کی روایت کی ہے کہ ہے 

صفحہ 4 از 6