تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 6

امام صاحبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت فتویٰ دینا شروع کیا جب ستر جید علماء نے میری اہلیت کی گواہی دی اور مسئلہ بتانے میں اس قدر محتاط تھے کہ جب تک مسئلہ میں کامل شرح صدر نہ ہوتا جواب دینے سے انکار فرماتے چنانچہ امام مالکؒ سے 48 مسائل کے بارے میں سوال کیا گیا، تو 32 مسائل میں فرمایا (لا أدرى) خالد بن خداش کہتے ہیں کہ میں نے 40 مسائل کے بارے میں امام صاحبؒ سے سوال کیا، تو انہوں نے صرف 5 مسائل کا جواب دیا باقی کے بارے میں فرمایا (لا ادری) 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 77 وعن مالك: جنة العالم لا أدرى فإذا أغفلها أصيبت مقاتله نفس المرجع)

امام صاحب رحمۃاللہ دوسرے اہل علم کی نظر میں:

حدیث شریف میں ہے: ليضربن الناس أكباد الابل فی طلب العلم فلا يجدون عالما أعلم من عالم المدينة۔

(اخرجه الترمذی فی الصحیح کتاب العلم باب ما جاء فی عالم المدينة رقم الحدیث: 2680)

سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مالک رحمۃاللہ کے بارے میں ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 56) 

امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا ہے میں نے امام مالکؒ سے زیادہ جلد صحیح جواب دینے والا نہیں دیکھا، امام شافعیؒ فرماتے ہیں: امام مالکؒ آسمانِ علم کا وہ تابناک و درخشاں ستارہ ہیں جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 57)

ابنِ مہدی کا کہنا ہے کہ سفیان ثوری رحمۃاللہ حدیث کے امام ہیں اور اوزاعی سنت کے امام ہیں اور امام مالکؒ دونوں کے امام ہیں۔ 

(دیکھیے اوجز المسالک: صفحہ، 29، 47) 

کسی نے امام شافعیؒ سے پوچھا کہ جن علماء سے آپ کی ملاقات ہوئی ہے کیا ان میں کوئی امام مالکؒ جیسا بھی ہے؟ تو فرمایا: جو حضرات علم و عمر میں ہم سے مقدم ہیں ان سے سنا ہے کہ ہم نے امام مالکؒ جیسا عالم نہیں دیکھا تو میں امام مالکؒ جیسا آدمی کہاں سے دیکھ سکتا؟  

(التعليق الممجد: صفحہ، 14)

حماد بن سلمہ کہتے ہیں: اگر مجھ سے کہا جائے کہ امت محمدیہ علی صاحبھا الف الف تحیات کے لیے ایسے عالم کا انتخاب کر دو جس سے وہ استفادہ کرے تو میں امام مالکؒ ہی کو اس منصب پر فائز کروں گا۔ 

(المصدر السابق)

امام مالک رحمۃاللہ اور امام اعظم رحمۃاللہ کے تعلقات:

عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہؒ امام مالکؒ کے پاس آئے ، امام مالکؒ نے ان کو نہایت اکرام و اعزاز کے ساتھ اوپر بٹھایا پھر ان کے تشریف لے جانے کے بعد فرمایا: تم ان کو جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا نہیں، فرمایا کہ یہ ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ہیں جو اگر دعویٰ کریں کہ یہ ستون سونے کا ہے تو ستون ان کے قول کے مطابق نکل آئے اللہ نے فقہ کو ان کے لیے ایسا آسان بنایا ہے کہ ان کو اس میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی پھر سفیان ثوریؒ آئے تو ان کو نیچے بٹھایا اور ان کے جانے کے بعد ان کے فقہ اور پر ہیزگاری کا تذکرہ کیا 

(المناقب للكردی: جلد، 1 صفحہ، 39)

ابن دراوردی کا قول ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ نے ایک مرتبہ نماز عشاء کے بعد سے مذاکرہ شروع کیا تو صبح کی نماز تک اسی میں مشغول رہے، جب کسی مسئلہ میں کوئی دوسرے سے مطمئن ہو جاتا تو بے تامل اسے اختیار کر لیتا تھا۔ 

(اقوم المسالک للکوثری: صفحہ، 97، 98 نقلا عن أخبار أبی حنيفة وأصحابه اللصیمری

امام مالکؒ بہت سارے مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کے قول کو معتبر سمجھتے تھے۔

دور ابتلاء:

امام صاحبؒ گردشِ زمان اور سلاطین وقت کے شر و فساد کی وجہ سے اس قدر دل برداشتہ ہو گئے کہ اختلاط مع الانام کو یکسر چھوڑ کر گھر میں یکسوئی اختیار فرمالی حتیٰ کہ نمازِ جنازہ اور عیادت کے لیے بھی باہر جانا پسند نہ فرماتے کسی نے اس بارے میں پوچھا تو فرمایا: آدمی اپنا ہر عذر بیان نہیں کر سکتا۔

ابو مصعب کہتے ہیں کہ امام صاحبؒ پچیس سال تک اس طرح عزلت و یکسوئی میں رہے کہ نماز کے لیے بھی مسجد میں نہیں آتے تھے، جب پوچھا گیا تو فرمایا اس خوف سے کہ کوئی منکر نظر آئے اور اس کو روکنے کی ضرورت پڑے۔ 

(ان تمام اقوال کے لیے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 64 بعض حضرات نے لکھا ہے کہ: کان تخلفه عن المسجد لأنه سلس بوله، فقال عند ذلك: لا يجوز أن أجلس فی مسجد رسولﷺ وأنا على غير طهارة، فيكون ذلك استخفافاً

(حالانکہ اس زمانہ جور میں یہ مشکل کام ہے) حضرت شیخ الحدیث غالباً اسی وجہ کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں: میرے نزدیک اصل وجہ یہ ہے کہ امام مالکؒ صلاۃ خلف الفاسق کو باطل سمجھتے تھے۔ 

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 32) 

اور اس زمانے کے امراء جو امام بھی ہوا کرتے تھے اکثر فسق و فجور میں مبتلا تھے اور ان کو منصبِ امامت سے ہٹانا امام صاحبؒ کے بس کی بات نہیں تھی) ابو العباس (ابو العباس اور ابو جعفر کی خلافت کی تفصیل کے لیے دیکھیے: تاریخ اسلام از شیخ حسن ابراہیم: جلد، 2 صفحہ، 23) سفاح کے بعد جب ابو جعفر منصور خلیفہ بنا تو اس کی عدمِ موجودگی میں محمد بن عبداللہ بن حسن معروف بہ نفسِ زکیہ نے اس کے خلاف اعلانِ خلافت کر کے لوگوں سے بیعت لینی شروع کی، ابنِ کثیرؒ نے بحوالہ ابن جریر کہا کہ امام مالکؒ نے محمد بن عبداللہ کے ہاتھ بیعت کرنے اور منصور کی بیعت سے دست بردار ہونے کا فتویٰ دیا، لوگوں نے کہا کہ ہم پہلے منصور سے بیعت کر چکے ہیں، تو فرمایا کہ تم سے جبراً بیعت لی گئی ہے وليس لمکرہ بیعة۔

(البدايہ والنہایہ: جلد، 10، صفحہ، 84 ذكره فی ما حدث سنة خمس و أربعين و مائة من الحوادث

اور یہ مسئلہ اس بناء پر ہے کہ طلاق مکرہ امام مالکؒ کے نزدیک صحیح نہیں، بعد میں جب نفسِ زکیہ مارا گیا تو منصور کے اشارے پر والی مدینہ جعفر بن سلیمان نے امام صاحبؒ کو بلوا کر کوڑے لگوائے اور دونوں ہاتھ کھینچ کر مونڈھے اتروا دیئے گئے جس کے بعد امام صاحبؒ ہاتھوں کو نہیں اٹھا سکتے تھے، لیکن کوڑے لگتے وقت امام صاحبؒ یہی کہتے رہے: اللهم اغفر لهم فانهم لا يعلمون اس واقعہ سے امام صاحبؒ کا عوام میں ذکرِ خیر متاثر نہ ہوا بلکہ ان کی مزید عزت افزائی ہوئی۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 79) 

صفحہ 3 از 6