تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 6

امام صاحبؒ نے اس زمانہ میں آنکھ کھولی جب مدینہ منورہ میں علم و عرفان کے بے حد و حساب چشمے جاری تھے، ان کا گھرانہ خود علوم کا مرجع تھا، امام صاحبؒ نے دس سال کی عمر میں تحصیل علم کی ابتداء فرمائی اور امام القراء نافع بن (تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے غایۃ النہايۃ فی طبقات القراء: جلد، 2 صفحہ، 230، 434) عبد الرحمٰن متوفی 169 ھ سے علمِ قراءت حاصل کر کے اس کے بعد بقول علامہ زرقانی نو سو سے زائد اہلِ علم و فضل سے کسبِ فیض فرمایا، بارہ برس تک حضرت ابنِ عمرؓ کے خصوصی شاگرد حضرت نافع کے درس میں شریک رہے۔

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 34) 

اور اس دوران وہ تکالیف و مشقتیں برداشت کیں جو ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ گھر کی چھت توڑ کر لکڑیاں تک فروخت کرنے کی نوبت آئی۔

درس و تدریس:

علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ امام مالکؒ نے اکیس سال کی عمر میں تدریس شروع فرمائی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 55) 

بعض حضرات نے سترہ سال کا قول نقل کیا ہے امام صاحبؒ نے اپنے دستِ مبارک سے تقریباً ایک لاکھ احادیث لکھیں، ان کے دروازے پر شائقین علوم و سائلین مسائل کا ایسا ازدحام رہتا کہ دیکھنے والا کسی بڑے بادشاہِ وقت کا دربار سمجھ بیٹھتا۔

(تذكرة الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 208 و فيه قال عبد الرحمٰن بن واقد رأيت باب مالك كأنه باب الأمير) 

اور جب حاضرین زیادہ ہو جاتے تو امام صاحبؒ پہلے اپنے خاص تلاندہ و رفقاء کو بلواتے ان سے فارغ ہو کر پھر عوام کو اجازت ملتی، اس پر کسی نے شکوہ کیا تو فرمایا: أصحابی جيران رسول اللهﷺ۔

 (مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 39)

وقار مجلس درس:

امام صاحبؒ کا درسِ حدیث کے لیے اہتمام بھی ایک حیران کن حقیقت ہے چنانچہ مطرف کا کہنا ہے کہ جب لوگ امام صاحبؒ کے دروازے پر پہنچتے تو ان کی ایک خادمہ ان سے پوچھتی کہ فقہ پوچھنے آئے ہو یا حدیث؟ اگر کہتے کہ فقہی مسائل پوچھنے ہیں تو اطلاع ملنے پر امام صاحبؒ گھر سے نکل کر ان کے مسائل کا جواب دیتے لیکن اگر حدیث کی بات ہوتی تو پہلے غسل فرماتے، نئے کپڑے پہن کر خوشبو استعمال فرماتے، عمامہ باندھ کر پھر باہر آ جاتے۔ 

(دیکھیے محولہ بالا، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: وكان مجلسه مجلس وقار و حلم، قال كان رجلا مهيبا نبيلا، ليس فی مجلسه شی من المراء واللغط ولا رفع صوت، وكان له كاتب قد نسخ كتبه ويقال له حبيب يقرأ للجماعة، ولا ينظر أحد فی كتابه ولا يستفهم هيبة لمالك وإجلاله، وكان حبيب إذا قرأ فاخطأ، فتح عليه مالك وكان ذلك قليلا: سير اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 65 امام صاحبؒ کے کاتب حبیب بن ابی حبیب کے بارے میں امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں: لیس بثقة ابنِ معین رحمۃاللہ کہتے ہیں: كان حبيب يقرا على مالك وكان يسرع بالناس يصفح ورقتين ثلاثا امام نسائی رحمۃاللہ کہتے ہیں: أحاديثه كلها موضوعة عن مالك وغيره سیر اعلام النبلا: جلد،8 صفحہ، 65) اور درسِ حدیث کی مجلس میں برابر عود و لوبان کی دہونی ہوتی رہتی اور یہ اہتمام صرف زمانہ تدریس میں نہ تھا بلکہ طالبِ علمی کے زمانہ سے ہی حدیثِ رسول اللہﷺ کی توقیر تعظیم دل میں موجزن تھی، علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ امام صاحبؒ سے پوچھا گیا کہ آپ نے عمرو بن دینار کی حدیث کو کیوں نہیں لیا، تو جواباً فرمایا: أتيته، فوجدته يا خذون عنه قياماً، فاجللت حديث رسول اللهﷺ أن أخذ قائماً (دیکھیے سیر اعلام النیلا: جلد، 8 صفحہ، 27)

یعنی میں ان کی خدمت میں پہنچا تو دیکھا کہ تلامذہ کھڑے ہو کر ان سے پڑھتے ہیں، میں نے حدیث رسول اللہﷺ کو اس سے بالاتر سمجھا کہ کھڑے ہو کر پڑھی جائے اور یہ تعظیم کیوں نہ ہو کہ امام صاحبؒ کے دل میں عشقِ رسول علیہ الف الف تحیات کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا تھا، یہاں تک کہ امام صاحبؒ مدينة الرسول على صاحبها الف الف تحیات سے اتنی محبت فرماتے تھے کہ زندگی بھر صرف ایک حج کیا اور وقت کے بڑے بڑے سلاطین کی دعوتِ سفر کو مسترد کر دیا۔

(اس بارے میں علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ خلیفہ مہدی نے دو ہزار اور بعض روایات کے مطابق تین ہزار دنیار پیش کئے اس کے بعد ربیع نے امام صاحبؒ کے پاس آ کر کہا امیر المؤمنین کی خواہش ہے کہ آپ ان کے ساتھ مکہ چلے جائیں، آپ نے فرمایا: قال النبی عليه الصلاة والسلام: المدينة خيرلهم لو كانا يعلمون اور اگر امیر کو اپنے تحفہ پر ناز ہے تو وہ اسی طرح میرے پاس محفوظ ہے۔ سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 62، 63) 

کیونکہ ان کو فراقِ مدینہ قابلِ برداشت نہیں تھا اور خواہش یہ تھی کہ مدینہ میں انتقال ہو مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ امام صاحبؒ کے سامنے جب بھی رسول اللہﷺ کا نام گرامی آتا تو ان کا رنگ متغیر ہو جاتا اور کمر جھک جاتی، اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمايا: لو رأيتم ما رأيت لما أنكرتم۔ 

(دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 14) 

ابنِ خلکان لکھتے ہیں امام صاحبؒ انتہائی کمزوری کے باوجود گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے تھے اور پیدل ہی چلتے تھے اور فرماتے: لا اركب فی مدينة فيها جثة رسول اللهﷺ مدفونة، یہاں تک کہ آخر کار مدینہ الرسولﷺ على صاحبها الف الف تحیات میں مرنے کی تمنا پوری ہو گئی، اسی عشق و محبت کا نتیجہ تھا کہ امام صاحبؒ ہر رات کو خواب میں سرکارِ دو عالمﷺ کی ملاقات سے مشرف ہوتے تھے، چنانچہ مثنیٰ بن سعید کہتے ہیں: سمعت مالكا يقول: مابت ليلة إلا رأيت فيها رسول اللهﷺ۔

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 32) 

کوئی شب ایسی نہیں گزری کہ رسول اللہﷺ کو خواب میں نہ دیکھا ہو۔

ایک مرتبہ درسِ حدیث کے دوران ایک بچھونے سولہ مرتبہ امام صاحبؒ کو ڈنک مارا، جس کی وجہ سے آپ کا چہر متغیر ہوتا رہا لیکن درسِ حدیث کو بدستور جاری رکھا، حضرت عبداللہ بن مبارک نے جو آپ کے خصوصی شاگرد ہیں اس بارے میں دریافت کیا تو فرمایا حدیثِ رسول کی تعظیم کی وجہ سے میں نے برداشت کیا۔

(دیکھیے مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 23)

مسائل بتانے میں کمال احتیاط:

صفحہ 2 از 6