تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 9 از 10

(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 148) ابنِ قتیبہ رحمۃاللہ نے اپنی کتاب المعارف میں مستقل ایک فہرست اہلُ الرای کی بنائی ہے، جس میں یہ نام لکھتے ہیں ابنِ أبی ليلىٰ، أبو حنيفة، ربيعة الرأى، زفر، أوزاعی، سفيان ثورى، مالك بن أنس، أبو يوسف، محمد بن الحسن۔

(دیکھیے سیرۃ النعمان از شبلی نعمانی: صفحہ، 188)

دوسری بات یہ ہے کہ اہلُ الرائے ہونا ایک صفت محمود اور باعث فضیلت ہے نہ کہ مذموم اور موجبِ تنقیص، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: والرأى هو نظر القلب يقال رأى رأيا بدل دید و رای رؤیا بغیر تنوین بخواب دید و رأی رؤیه بچشم دید۔

(مقدمه فتح الملہم: صفحہ، 73) 

ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو قلب بینا عطاء فرمائیں یہ کوئی کم فضیلت کی بات نہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ فقہائے کرام کو اصحابِ رائے کیوں کہا جاتا ہے۔

ابنِ اثیر جزری رحمۃاللہ متوفی 606ھ کہتے ہیں:

والمحدثون يسمّون أصحاب القياس أصحاب الرأى، يعنون أنهم يأخذون برأيهم فيما يشكل من الحديث، أو مالم يأت فيه حديث ولا أثر۔ (دیکھیے النہایہ: جلد، 2 صفحہ، 117)

صاحب قاموس لکھتے ہیں: أصحاب الرأى أصحاب القياس لأنهم يقولون برأيهم فيما لم يجدوا فيه حديثا أو أثراً۔

(الكوكب الدرى: جلد، 2 صفحہ، 132)

ملا علی قاری رحمۃاللہ، علامہ طیبی رحمۃاللہ پر رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: إنما سموا بذلك لدقة رأيهم وحذاقة عقلهم۔ 

(مرقاة: جلد، 2 صفحہ، 78)

ان تصریحات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حنفیہ اور دوسرے فقہائے کرام کو ان کی باریک بینی اور استنباطِ مسائل کی وجہ سے اہلُ الرای کہا جاتا ہے نہ اس لیے کہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں محدثین اور فقہاء دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں لیکن درحقیقت ان میں کوئی تضاد و تنافی نہیں ہے، بات صرف اتنی ہے کہ جن حضرات نے حدیث کو من حيث الروایہ اپنا مشغلہ بنایا ہے انہیں محدث اور جن حضرات نے صرف حدیث کے ظاہری الفاظ اور عبارۃ النص پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اشارہ، دلالۃ، اور اقتضاء النص سے بھی احکام استنباط کر کے ان مستنبطہ احکام کی نشر و اشاعت کی ہے، انہیں فقیہ اور مجتہد کہا جاتا ہے۔

ابنِ خلدون اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے انہی دو فرقوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔

(دیکھیے مقدمہ ابنِ خلدون: صفحہ 446، 

حجۃ اللہ البالغة: جلد، 1 صفحہ، 161) 

یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ حدیث بغیر رائے کے سمجھ میں نہیں آتی، مولانا شبیر احد عثمانیؒ  نے امام محمد رحمۃاللہ کا قول نقل کیا ہے کہ حدیث بغیر رائے کے اور رائے بغیر حدیث کے ناقابلِ فہم ہے۔

(مقدم فتح المہلم: صفحہ، 72)

ابنِ حجر مکی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وقد قال المحققون لا يستقيم العمل بالحديث بدون استعمال الرأى فيه اذهو المدرك لمعانيه التی هی مناط الاحكام۔ومن ثمة لما لم يكن لبعض المحدثين تأمل لدرك التحريم فی الرضاع، قال بان المرتضعين بلبن الشاه تثبت بينهما المحرمية ولا العمل بالرأى المحض، ومن ثمة لم يفطر الصائم بنحو الأكل ناسياً۔

(الخيرات الحسان، الفصل الأربعون فی رد ما قيل إنه خالف الأحاديث الصحيحة: صفحہ، 172) 

یہ بات کہ امام حنیفہؒ اپنی رائے کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں بالکل بے جا اور بے دلیل ہے تاریخ بغداد میں امام صاحب کا اپنا بیان موجود ہے فرماتے ہیں: میں پہلے کتاب کو لیتا ہوں، اگر اس میں حکم نہیں ملتا تو سنتِ رسول کو لیتا ہوں، اگر اس میں بھی نہ ہو تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال میں سے کسی کا قول لیتا ہوں اور دوسروں کا قول چھوڑ دیتا ہوں لیکن ان کے اقوال سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں کرتا اور جب معاملہ ابراہیم، شعبی، ابنِ سیرین تک پہنچتا ہے تو جیسے انہوں نے اجتہاد کیا، میں بھی کرتا ہوں۔ 

(تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 368) 

امام ذہبی رحمۃاللہ نے بھی یحییٰ بن معین کے طریق سے امام صاحبؒ کا یہ قول نقل کیا ہے۔

علامہ شعرانی رحمۃاللہ باوجود شافعی ہونے کے ان لوگوں کے متعلق جو امام صاحبؒ کے بارے میں ایسے خیال خام رکھتے ہیں فرماتے ہیں: اعلم أن هذا الكلام صدر من متعصب على الإمام، متهور فی دينه، غير متورع فی مقاله، غافلا عن قوله تعالىٰ: اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۤئِكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡئُوۡلًا ۞

(میزان کبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 56)

پھر علامہ شعرانی نے سند متصل کے ساتھ نقل کیا ہے: عن الإمام أبی حنيفة أنه كان يقول كذب واللہ، وافترى علينا من يقول عنا أنا نقدم القياس على النص، وهل يحتاج بعد النص إلى القياس۔ 

(محولہ بالا: صفحہ، 61)

نواب صدیق حسن خان نے کہا کہ ابنِ حزمؒ ظاہری نے اجماع نقل کیا ہے کہ امام صاحب کے نزدیک حدیث ضعیف رائے و قیاس سے بہتر اور اس پر مقدم ہے۔

(دیکھیے الحطتہ: صفحہ، 60)

قیاس کی حیثیت: 

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا: 

فَاعۡتَبِـرُوۡا يٰۤاُولِى الۡاَبۡصَارِ‌ ۞

(سورۃ الحشر: آیت 2)

اس سے قیاس و رائے کی حجیت ثابت ہوتی ہے، صاحب نور الانوار لکھتے ہیں: الاعتبار رد الشيئ إلى نظيره، فكأنه قال قيسوا الشيئ إلى نظيره۔ 

(نورالانوار: صفحہ، 224) 

اسی طرح قول وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ الخ۔ 

(سورۃ آلِ عمران: آیت 159) 

اور وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ الخ۔ 

(سورۃ الشوریٰ: آیت 38)

 اور ان جیسی آیات سے بھی استدلال ہوتا ہے، صحیحین میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: أنه سمع رسول اللہﷺ يقول إذا حكم الحاكم فاجتهد فأصاب، فله أجران، وإذا حكم وأخطأ، فله أجر (أخرجه البخاری فی كتاب الاعتصام باب أجر الحاكم إذا اجتهد فاصاب أو أخطأ، ومسلم فی الأقضية فی نفس الباب)

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث بہت مشہور ہے جناب رسول اللہﷺ نے اُن سے پوچھا کہ جب کوئی حکم کتاب اللہ اور سنتِ رسول میں نہ ملے تو کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا "اجتهد برائی" آپﷺ نے انتہائی مسرور ہو کر فرمایا: الحمد للہ الذی وفق رسول اللهﷺ لما يرضى به رسول اللهﷺ۔ 

(دیکھیے مسند امام احمد بن حنبل: جلد، 5 صفحہ، 236، 242)

صفحہ 9 از 10