تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 8 از 10

اس تعریف کے پیشِ نظر امام ترمذیؒ کی رائے میں حدیث حسن میں تعدد طرق ضروری ہے اور حدیث غریب میں تعدد نہیں ہوتا بلکہ تفرد ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ حدیث حسن اور غریب میں منافات ہے تو امام ترمذیؒ کس طرح ایک ہی حدیث پر حسن اور غریب کا حکم لگاتے ہیں؟

اس کا ایک جواب یہ ہے کہ امام ترمذیؒ نے حسن کی جو تعریف کی ہے وہ حسن مطلق کی تعریف ہے، یعنی جبکہ اس کے ساتھ دوسرے اوصاف نہ ہوں اگر دوسرے اوصاف ساتھ ہیں پھر ان کے یہاں حسن میں تعدد طرق ضروری نہیں ہوتا۔ 

(دیکھیے نخبۃ الفکر: صفحہ، 44) 

مولانا انور شاہ :کشمیری رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام ترمذیؒ نے علل صغریٰ میں غریب کی تین تعریفیں کی ہیں۔

1: هو الذی لا يروى إلا من طريق واحد كما هو عند الجمهور۔

2: ما يستغرب لزيادة تكون فی الحديث، ولا تكون هی فی المشهور۔

3: ما يستغرب لحال الإسنادو إن كان يروى من أوجه كثيرة۔ 

(كتاب العلل الصغرىٰ المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 238)

دوسری اور تیسری تعریف کے لحاظ سے حسن اور غریب جمع ہو سکتے ہیں ان میں کوئی منافات نہیں، منافات پہلی تعریف کے لحاظ سے ہے۔ 

(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 7)

مولانا بنوری رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ علامہ زرکشی رحمۃاللہ نے بھی تقریباً ایسا ہی جواب دیا ہے اگرچہ انہوں نے امام ترمذیؒ کے کلام کا حوالہ نہیں دیا اور ابن حجرؒ کی رسائی اس جواب تک نہ ہو سکی اور تفصیلات میں جانے لگے، حالانکہ حضرت شاہ صاحب کی بات بہت دلنشین ہے۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 86)

هذا حديث جيد: 

علامہ ابنُ الصلاح کی رائے ہے کہ "جید" اور "صحیح" دونوں ایک ہی درجے کے دو نام ہیں، جامع ترمذی کتاب الطب میں "هذا حدیث جید حسن" وارد ہوا ہے، عام محدثین کے نزدیک جید اور صحیح میں کوئی فرق نہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں ایک باریک نکتہ ہے یعنی جو حدیث "حسن لذاتہٖ" کے درجے سے اعلیٰ اور صحیح سے ادنیٰ ہو اسے "جید" کہتے ہیں۔ (مقدمة تحفة الاحوذی: صفحہ، 197)

اسنادہ لیس بذاک: 

یعنی اس کی سند قوی نہیں علامہ طیبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں "ذاک" کا مشار الیہ علمِ حدیث سے تعلق رکھنے اور سند قوی کو معتبر سمجھنے والے کے ذہن میں موجود ہے۔ 

(حوالہ بالا: صفحہ، 196)

هذا إسناد مشرقی: 

اسناد مشرقی کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں مذکور تمام رواۃ مشرق (بصرہ کوفہ اور ان کے قرب وجوار ) کے رہنے والے تھے ان میں اہلِ مدینہ میں سے کوئی نہیں ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ  فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ جرح میں سے نہیں، صرف یہ بتانا ہے کہ اس کے تمام رواۃ مشرقی تھے، حضرت شیخ الحدیث صاحب نے فرمایا کہ امام شافعیؒ  سے منقول ہے: کل حديث لا يوجد له أصل فی حديث الحجاز بين واهٍ اسی طرح علامہ حازمی نے بھی کہا کہ اگر دو متعارض حدیثوں میں سے ایک کی سند مشرقی اور دوسری کی حجازی ہو تو حجازی کو مشرقی پر ترجیح ہوگی والمخالف فيه مجال وسيع الکلام۔

(الكوكب الدرى: جلد، 1 صفحہ 85، 86 

معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 214)

هذا حديث مفسر: 

کلام کے سیاق و سباق کے اعتبار سے اس میں تین معنیٰ مراد ہو سکتے ہیں:

ایک یہ کہ مفسر کو اسم فاعل (بکسر عین) پڑھا جائے یعنی یہ حدیث کسی آیت یا دوسری حدیث کی تفسیر ہے، یا اسم مفعول (بفتح سین) پڑھا جائے یعنی کسی راوی یا کسی اور حدیث سے اس کی تفسیر کی گئی ہے، یا اس سے اصطلاحِ اصول والا مفسر مراد ہو جو نص کے مقابلہ میں ہوتا ہے، اس صورت میں بھی بفتح سین پڑھا جائے گا۔ 

(الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 129 

معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 334)

قد ذهب بعض اہل الكوفہ:

امام ترمذیؒ ہر باب میں بیان مذاہب کا التزام فرماتے ہیں اور اس میں یہ جملہ بعض اہلِ الکوفہ بھی استعمال کرتے ہیں نیز امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب جامع میں کسی جگہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ کا نام نہیں لیا، البتہ کتاب العلل کی ایک روایت میں امام ابو حنیفہؒ کا نام ملتا ہے لیکن وہ روایت بعض نسخوں میں نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ کتاب العلل خود مستقل ایک کتاب ہے، لہذا یہ جو کہا جاتا ہے کہ جامع ترمذی میں امام ابوحنیفہؒ کا نام نہیں ہے، اپنی جگہ صحیح ہے۔

شیخ سراج احمد سرہندیؒ  اور شیخ عبد الحق محدث دھلویؒ فرماتے ہیں کہ جامع ترمذی میں جہاں بھی اہلِ کوفہ کا لفظ آتا ہے اس سے امام ابوحنیفہؒ اور ان کے پیروکار مراد ہیں۔

(مقدمۃ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 208) 

ان حضرات کا یہ حکمِ عام، للاکثر حکم الکل کے اعتبار سے ہے ورنہ بعض ایسے مقامات ہیں جہاں اہلِ کوفہ سے حنفیہ کے علاوہ دوسرے حضرات مراد ہیں باقی رہا یہ سوال کہ امام ترمذیؒ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نام گرامی کو کیوں ذکر نہیں کرتے؟ بعض حضرات نے کہا کہ غایت تعصب کے بناء پر یہ طریقہ اختیار کیا ہے لیکن بہتر توجیہ جو امام ترمذیؒ کے شایانِ شان بھی ہے، یہ ہے کہ حنفیہ کا مذہب امام ترمذیؒ تک کسی قابلِ اعتماد سند سے نہیں پہنچا تھا اس لیے انہوں نے تصریح نہیں فرمائی۔ 

(حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ شرح بخاری کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ثم إن الترمذی لیس عنده إسناد مذهب الإمام أبی حنيفة، فلذا لا يذكر اسمه صراحة بخلاف مذاهب الأئمة الآخرين، فلها عنده أسانيد سردها فی كتاب العلل ويظن من ليس عنده علم أنه لا يذكر اسمه لعدم رضائه منه، مقدمة فيض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58)

بعض اہل الرائے: 

بعض نام نہاد علماء نے کہا ہے کہ اہلُ الرائے سے امام ابو حنیفہؒ اور ان کے متبعین مراد ہیں اور ان کو اہلُ الرائے اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ رائے اور قیاس کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں، یعنی بالفاظ دیگر یہ لفظ تنقیص کے لیے استعمال ہوتا ہے، ان حضرات کی دونوں باتیں غلط ہیں، اہلُ الرائے صرف حنفیہ ہی کو نہیں بلکہ دوسرے ائمہ فقہاء کو بھی کہا جاتا ہے۔

امام ربیعہ بن عبدالرحمٰن کا لقب کثرتِ اجتہاد ہی کی وجہ سے "الرای" پڑ گیا تھا۔

علامہ ذہبی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وكان إماماً حافظ فقيها مجتهداً بصيراً بالرأی ولذلك يقال له ربيعة الرأی۔

صفحہ 8 از 10