تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 7 از 10

(قال الحافظ وإنى الأميل إليه أى إلى هذا الجواب وأرتضيه، قال المحشى: كيف يميل إليه الحافظ مع أنه يرد عليه ماذكر الحافظ انه لو ارادلاتی بالواوالتی للجمع أو أتى بأوالتی هی للتخيير أو الترديد ويتوقف ايضاً على اعتبار الأحاديث التی جمع الترمذى فيها بين الوصفين فان كان فی بعضها مالا اختلاف فيه عند جميعهم فی صحته فيقدح فی الجواب النكت: جلد، 1 صفحہ، 477، 478، ثم اعلم أن الشيخ محمد يوسف البنوریؒ قال بعد نقل هذا الاعتراض إن الحافظ ايضاً اختار هذا الجواب فی شرح النخبة و ارتضاه وقوى جواب ابن دقيق العيد فی "نكته" فلعل ما أجاب به الحافظ فی شرح النخبة غير مرضى عنده أيضاً، وارى واللہ أعلم أن "نكته" آخر تاليفاً عن "شرح النخبة" انتهى معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 43، 44 الحافظ ذكر الجوابين فی "نكته" فيمكن أن يكون كلاهما مرضيين عنده، لأنه قال: جواب ابن دقيق العيد أقوى ولا يلزم من هذا أن لا يكون الجواب الثانی قوياً وإن شئت تفصيل هذا البحث كله فانظر النكت: المجلد الأول من صفحہ، 475، 478 وتدريب الراوى: جلد، 1 صفحہ، 161، 164 و مقدمة فتح الملهم: جلد، 1 صفحہ، 31 و معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 43، 44 و مقدمۃ تحفۃ الأحوذی: صفحہ، 200)

هذا الحديث أصح شيئ فی هذا الباب وأحسن:

اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ اس باب کی تمام حدیثیں صحیح ہیں اور یہ حدیث ان میں زیادہ صحیح ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس باب میں تمام روایت شدہ احادیث میں سے یہ روایت ارحج ہے چاہے تمام حدیثیں صحیح ہوں یا ضعیف۔

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 87، 88، فتح الملہم: جلد، 1 صفحہ، 31 شیخ عبد الفتاح ابوغدہ تعلیقات اعلاء السنن میں لکھتے ہیں: و كثيراً ما يطلق أهل الحديث هذه العبارة على أرجح الحديثين الضعيفين وهو كثير فی كلام المتقدمين، ولو لم يكن اصطلاحاً لهم لم تدل اللغة على إطلاق الصحة عليه، فإنك تقول لأحد الحديثين هذا أصح من هذا، ولا يدل على أنه صحيح مطلقاً، مقدمه اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 56)

هو مقارب الحديث: 

اگر لفظ مقارب کو بکسر راء (اسم فاعل ) پڑھا جائے تو معنیٰ یہ ہو گا حدیثه يقارب حديث غیرہ اور اسم مفعول ہونے کی صورت میں معنیٰ یہ ہوگا حدیثه يقاربه حدیث غیرہ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ای يقارب حديثه القبول أو الذهن۔

(الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 35) 

دونوں معنیٰ قریب قریب ہیں، اور جمہور محدثین کے یہ الفاظ تعدیل میں سے ہے، علامہ سیوطی نے ابنِ سید کا قول نقل کیا ہے کہ اسم فاعل کی صورت میں یہ الفاظِ تعدیل سے ہے اور اسم مفعول کی صورت میں الفاظ تجریح میں سے ہے۔ 

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 349) 

اس کے الفاظ تعدیل میں سے ہونے کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ امام ترمذیؒ کئی جگہ "ثقة مقارب الحديث" فرماتے ہیں۔ 

(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 75) 

مولانا محمد یوسف بنوریؒ فرماتے ہیں: وغاية ما يعبر عنه بأنه متوسط الحديث (درمیانی حدیث والا ) باللغة الأردية۔ 

(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 76، قال صاحب المعجم الوسيط فی مادة قرب: قارب فلان فی أموره اقتصد و ترك المبالغة المعجم الوسيط: جلد، 2 صفحہ، 723 وفی مصباح اللغات قارب فی الأمر: غلو کو چھوڑ دینا اور میانہ روی اختیار کرنا)

هذا حديث مضطرب وهذا حديث فيه اضطراب: 

1: فی المتن فی السند 

2: اضطراب کی دو قسمیں ہیں۔

اضطراب فی السند یہ ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی سند میں کمی بیشی کریں، کوئی تین اور کوئی چار واسطے بتائے یا ایک ہی راوی کے نام و نسب میں تبدیلی کرتے رہیں اضطراب فی المتن یہ ہوتا ہے کہ متنِ حدیث میں تبدیلی یا کمی بیشی آجائے۔

اضطراب کے تحقق کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس حدیث کے طرق مختلفہ میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح حاصل نہ ہو، اگر ایک طریق کو دوسرے پر ترجیح حاصل ہے پھر راجح اور مرجوح میں سے کوئی مضطرب نہیں، بلکہ طریق مرجوح کے راوی اگر ثقہ ہیں اسے شاذ اور اگر ضعیف ہیں اسے منکر کہا جائے گا، اضطراب فی السند کے بارے میں تفتیش کرنا محدث کا کام ہے، جبکہ فی المتن کی تحقیق مجتہد کرتا ہے اور اضطراب کا حکم یہ ہے کہ مورث ضعف ہوتا ہے 

(تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 44 و نخبة الفكر مع شرحه نزهة النظر: صفحہ، 81 تدريب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 226 

فتح المہلم: جلد، 1 صفحہ، 159 معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 79)

هذا حديث غير محفوظ: 

غیر محفوظ سے حدیث شاذ مراد ہے، یعنی وہ حدیث جس میں ثقہ راوی نے ثقات کی مخالفت کی ہو تو دوسرے ثقات کی روایت جو راجح ہیں اسے محفوظ اور منفرد ثقہ راوی کی روایت کو غیر محفوظ یعنی شاذ کہا جائے گا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: نخبة الفكر مع شرحہ نزهة النظر: صفحہ، 49 تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 232 مقدمہ ابنُ الصلاح: صفحہ، 36) 

شاذ روایت غیر مقبول مردود ہے، البتہ شاذ کا اطلاق اس روایت پر بھی ہوتا ہے جس میں ثقہ راوی متفرد ہو لیکن وہ دوسرے ثقات کی مخالفت نہ کرے اس لحاظ سے شاذ روایت مقبول ہے، شاذ غیر مقبول کی مثال وہ روایت ہے، جسے امام ترمذیؒ نے اضطجاع بعد رکعتی الفجر میں نقل کیا ہے: حدثنا بشر بن معاذ العقدی نا عبد الواحد بن زياد نا الأعمش عن أبی صالح عن أبى هريرة قال: قال رسول اللہﷺ إذا صلى أحدكم ركعتی الفجر فليضطجع على يمينه۔ 

(دیکھیے جامع ترمذی: ابواب الصلوٰة باب ماجاء فی الاضطجاع بعد ركعتی الفجر: جلد، 1 صفحہ، 96)

اس روایت میں عبدالواحد نے اعمش سے جناب رسول اللہﷺ کا قول نقل کیا ہے، حالانکہ اعمش کے دوسرے تلامذہ سب نبی کریمﷺ کا فعل بیان کرتے ہیں۔ 

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 235)

حافظ ابنِ حجرؒ عبد الواحد کے بارے میں لکھتے ہیں: فی حديثه من الأعمش وحده مقال۔

(تقریب التہذیب: صفحہ، 367) 

اگر ضعیف راوی ثقہ کی مخالفت کرے تو اس کی روایت کو منکر اور ثقہ کی روایت کو معروف کہا جاتا ہے۔

هذا حديث حسن غريب: 

امام ترمذیؒ علل صغریٰ میں حدیث حسن کی اس طرح تعریف کرتے ہیں: كل حديث يروى لا يكون فی إسناده من ينهم بالكذب، ولا يكون الحديث شاذا، ويروى من غير وجه نحو ذلك۔

(كتاب العلل الصغریٰ المطبوع منع جامع الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 238) 

صفحہ 7 از 10