تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 6 از 10

البتہ امام ترمذیؒ یہ اصطلاح بہت استعمال کرتے ہیں اس لیے ابنِ صلاح نے فرمایا: كتاب أبی عيسىٰ الترمذى أصل فی معرفة الحديث الحسن۔ 

(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 15، 16 مکتبہ فاروقی ملتان)

هذا حديث حسن صحیح: 

امام ترمذیؒ نے یہاں حسن اور صحیح کو جمع کر دیا ہے یہ جمع قابلِ اعتراض ہے اس لئے کہ صحیح اور حسن میں تضاد ہے، صحیح میں حافظہ اعلیٰ درجے کا ہونا چاہیئے اور حسن میں حافظہ کے اندر قصور ہوتا ہے، لہٰذا صحیح حسن جمع نہیں ہو سکتے۔

1: یہاں صحیح اور حسن کے اصطلاحی معنیٰ مراد نہیں جو اعتراض کیا جائے بلکہ لغوی معنیٰ مراد ہیں یعنی ما تميل إليه النفس وتستحسنه۔ 

(دیکھیے الکوکب الدری: جلد، 1 صفحہ، 31

اسی طرح ابنُ الصلاح لکھتے ہیں: إن المراد بالحسن فقط معناه اللغوى "دون الصحيح" مقدمہ ابنُ الصلاح : صفحہ، 19) 

لیکن یہ جواب غلط ہے، اول تو حضورِ اکرمﷺ  کی ہر حدیث ایسی ہوتی ہے جس کو نفس پسند کرتا ہے، پھر امام ترمذیؒ کا "هذا حدیث حسن صحیح" کہنے کا کیا فائدہ؟

دوم یہ کہ اگر معنیٰ لغوی مراد لیا جائے تو یہ بات موضوع اور ضعیف حدیثوں پر بھی صادق آئے گی۔ 

(حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: هذا الإلزام عجيب لأن ابن الصلاح إنما فرض المسألة حيث يقول القائل حسن صحيح، فحكمه عليه بالصحة يمنع معه أن يكون موضوعاً، قلت هذا إذا كان الحسن فقط بالمعنىٰ اللغوى، وأما إذا كان المراد بالصحيح أيضا معناه اللغوى (كما ذكره الشيخ الجنجوهی) فالإيراد وارد

کیونکہ جو آدمی موضوع یا ضعیف حدیث بناتا ہے تو وہ اس کا مضمون اچھا ہی بناتا ہے اور امام ترمذیؒ موضوع اور ضعیف کے لیے یہ عنوان استعمال نہیں کرتے۔

سوم یہ کہ کتاب حدیث کی ہے اور باقی تمام اصطلاحات محدثین کی استعمال کر رہے ہیں پھر "حسن صحیح" میں اصطلاحِ قوم سے اعراض، اصول کے خلاف ہے۔

(تینوں اعتراضات کا ذکر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ نے فرمایا ہے، دیکھیے الکوکب الدرى: جلد، 1 صفحہ، 31)

2: علامہ ابنِ دقیق العید فرماتے ہیں کہ صحیح کو بشرط الشییٔ کے درجے میں لیا جائے یعنی اس میں کمالِ ضبط و اتقان و عدالت وغیرہ کی رعایت رکھی جائے اور حسن کو لا بشرط الشییٔ کے درجے میں لیا جائے، یعنی نہ قصور حافظہ کی قید ہو نہ کمال حافظہ کی تو اب ہر صحیح حسن ہوگی لیکن ہر حسن صحیح نہیں ہوگی، عموم خصوص مطلق کی نسبت ہوگی، لہٰذا دونوں جمع ہو جائیں گے۔ 

(دیکھیے تدریب الراوی للسیوطی: جلد، 1 صفحہ، 123) 

حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے بھی اس جواب کو پسند فرمایا۔

(حافظ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: فی الجملة أقوى الأجوبة ما أجاب به ابن دقيق العید دیکھیے النكت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 478، مولانا محمد یوسف بنوری لکھتے ہیں: هذا الجواب هو الصواب عن شيخنا الشيخ أنور شاه الكشميریؒ وهو من أحسن ما أجيب به، 

دیکھیے معارف السنن : جلد، 1 صفحہ، 44) 

لیکن یہ جواب بھی اس لیے مشکوک ہے کہ محدثین کی اصطلاح کے خلاف ہے، ان کی اصطلاح میں حسن میں قصورِ ضبط شرط ہے۔ 

3: حافظ ابنِ کثیر رحمۃاللہ نے فرمایا کہ حسن اور صحیح کے درمیان ایک متوسط درجہ ہے جسے حسن صحیح کہا جاتا ہے یعنی وہ روایت جس کے راوی میں ضبط کا نقصان اتنا نہ ہو جتنا حسن کے راوی میں ہوتا ہے اور اتنا کمال بھی نہ ہو جتنا صحیح کے راوی میں ہوتا ہے، یعنی بین بین ہو۔

(اختصار علوم الحديث مع شرح الباعث الحثيت: صفحہ، 36) 

جیسے حلو میٹھا، حامض کھٹا اور حلو حامض کٹھا میٹھا، یہ جواب محلِ نظر ہے، کیونکہ یہ بھی اصطلاح محدثین کے خلاف ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ امام ترمذی رحمۃاللہ نے حسن صحیح کا اطلاق کئی جگہ ان حدیثوں پر کیا ہے جو بالکل صحیح ہوتی ہیں تو اگر یہ جواب صحیح تسلیم کیا جائے تو وہ تمام حدیثیں جو عند المحدثین صحیح ہیں، امام ترمذی رحمۃاللہ کے ہاں صحیح کے درجے سے گری ہوئی ہوں گی حالانکہ ایسا نہیں، یہ اعتراض علامہ زرکشی  اور ابنِ حجر رحمۃاللہ نے ابنِ کثیر رحمۃاللہ پر کیا ہے۔

(دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 477) 

4: علامہ زرکشی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہوتی ہے اور حسن کا لفظ بطورِ تاکید کے بڑھا دیتے ہیں، اس پر یہ اعتراض ہے کہ تاکید بعد میں آیا کرتی ہے اور امام ترمذیؒ حسن پہلے کہتے ہیں۔

(حافظ ابنِ حجرؒ یہ اعتراض کر کے لکھتے ہیں: التأسيس أولى من التأكيد النكت على كتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 478)

5: علامہ زرکشی نے دوسرا جواب یہ دیا کہ محدث جب تک ضبط و عدالت کے اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچتا اس کی حدیث حسن ہوتی ہے اور جب اس بلند مقام تک پہنچتا ہے اس کی حدیث صحیح کے درجے میں آ جاتی ہے تو حسن صحیح کہنا دو مختلف زمانوں کے اعتبار سے ٹھیک ہے۔ 

(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 200)

6: انہوں نے تیسرا جواب یہ دیا کہ وہ حدیث امام ترمذیؒ کی نظر میں حسن اور دوسرے محدثین کے نزدیک صحیح ہوتی ہے یا اس کا عکس ہوتا ہے، اس لیے امام ترمذیؒ دونوں کو ذکر کرتے ہیں۔ 

(حوالہ بالا)

7: حافظ ابنِ حجرؒ نے یہ جواب دیا ہے اگر حدیث ایک ہی سند سے مروی ہو تو راوی کے بارے میں مصنف کو تردد پیش آیا ہے کہ اس کو کامل الضبط قرار دیا جائے یا نہیں، اس صورت میں عبارت کے اندر "او" مقدر ہوگا حسن او صحیح۔

8: اگر وہ حدیث کئی سندوں سے مروی ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ ایک سند کے اعتبار سے حسن اور دوسری سند کے اعتبار سے صحیح ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی: حسن بسند و صحيح بسند۔

صفحہ 6 از 10