تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 5 از 10

(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 7 معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 86)

7: رواۃ کی جرح و تعدیل ذکر کرتے ہیں۔

8: راوی کے نام اور کنیت کی وضاحت کرتے ہیں۔

9: سلف کا تعامل بیان کرتے ہیں۔

10: ائمہ کے مذاہب پر تقریباً ہر باب میں تنبیہ کرتے ہیں۔

11: ترتیب عمدہ ہے تکرار بھی نہیں۔

12: امام ترمذیؒ کی تمام روایات معمول بہا ہیں، امام صاحب کتاب العلل میں فرماتے ہیں: اس کتاب میں دو حدیثوں کے علاوہ کوئی حدیث ایسی نہیں جس پر امت میں کسی نہ کسی کا عمل نہ ہو ایک حدیث ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جمع رسول اللهﷺ بين الظهر والعصر بالمدينة اور دوسری حدیث: من شرب الخمر فاجلدوه، فان عاد فی الرابعة فاقتلوہ (العلل الصغرىٰ للترمذى المطبوع فی آخر جامع الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 233) 

یہ امام ترمذیؒ کا اپنا خیال ہے ورنہ حنفیہ کے یہاں یہ دونوں حدیث معمول بہا ہیں بایں طور کہ پہلی حدیث جمع صوری پر محمول ہے اور دوسری سیاست و تعزیر پر تو گویا جامع ترمذی کی تمام روایات معمول بہا ہیں۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے معارف السنن: جلد، 2 صفحہ، 167 باب ما جاء فی الجمع بین الصلاتین العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: صفحہ، 233) 

13: امام ترمذیؒ احادیث کی اقسام بھی بیان فرماتے ہیں جیسے حسن، صحیح، ضعیف۔

تنبیہ: 

امام ترمذی رحمۃاللہ حدیث کی نوعیت تو بیان کرتے ہیں لیکن یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ امام ترمذی رحمۃاللہ تصحیح و تحسین میں تساہل ہیں۔ 

(مقدمہ اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 112

متقدمۃ الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 17

مقدمۃ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 171) 

اور بہت سی ضعیف روایات کو انہوں نے حسن قرار دیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1: حديث كثير بن عبداللہ عن أبيه عن جده: أن النبیﷺ كبّر فی العيدين فی الأولى سبعا قبل القراءة وفی الآخرة خمسا قبل القراءة اس حدیث کے متعلق امام ترمذیؒ  فرماتے ہیں: حدیث جد کثیر حدیث حسن، وهو أحسن شيئ روى فی هذا الباب۔ 

(جامع الترمذی ابواب العيدين باب فی التكبير فی العيد: جلد، 1 صفحہ، 19 حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ لکھتے ہیں: قال الحافظ أبو الخطاب بن دحية المغربی إن أقبح الأحاديث التی أخرجها الترمذی وحسنها رواية كثير بن عبداللہ فی تكبيرات العيدين وأما ابن دحية فمتكلم فيه، فقيل: إنه وضاع، ولكنى لا اسلمه، نعم إنه رجل غير مبالٍ انتھی، دیکھیے العرف الشذی المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 117) 

اور اپنی کتاب العلل الکبریٰ میں لکھتے ہیں: سالت محمدا عن هذا الحديث فقال: ليس شيئ فی هذا لباب أصح منه، و به أقول۔

(الكاشف و تعلیقاته: جلد، 2 صفحہ، 145، رقم 3746) 

امام ترمذی رحمۃاللہ نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، حالانکہ اس کی سند میں کثیر بن عبداللہ ہیں جن کی اکثر محدثین نے تضعیف کی ہے۔

قال ابن معين: لیس بشيئ وقال الشافعی وأبو داؤد: ركن من أركان الكذب وضرب أحمد على حديثه، قال الدارقطنی وغیره متروك۔

(میزان الاعتدال للذہبی: جلد، 3 صفحہ، 306)

حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: انكر جماعة تحسينه على الترمذی۔ 

(تلخيص الحبير كتاب الصلاة: جلد، 2 صفحہ، 84)

2: اسی کثیر بن عبداللہ کی ایک اور روایت جامع ترمذی میں ہے۔

إن رسول اللہﷺ قال: الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرّم حلالا أو أحّل حراما والمسلمون على شروطهم الا شرطا حرّم حلالا أو أحل حراما۔ 

(دیکھیے جامع ترمذی، ابواب الأحكام، باب ما ذكر عن النبیﷺ فی الصلح بين الناس: جلد، 1 صفحہ، 251) 

امام ترمذیؒ اس کی تحسین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: هذا حدیث حسن صحیح۔ 

(حوالہ بالا)

حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ نے فرمایا: قال أحمد: إنه لا يساوى در هماً۔ 

(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 250)

صاحبِ میزان الاعتدال لکھتے ہیں: وأما الترمذى فروى عن كثير بن عبداللہ الصلح جائز بين المسلمين وصححه فلهذا لا يعتمد العلماء على تصحيح الترمذی۔ 

(میزان الاعتدال للذہبی: جلد، 3 صفحہ، 407) البتہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ امام ترمذیؒ کے تساہل کے باوجود ان کی کتاب میں کوئی موضوع حدیث موجود نہیں۔

بعض اصطلاحات کی تشریح: 

ہذا حديث صحیح:

صحیح کی دو قسمیں ہیں:

1: صحیح لذاتہ: مارواه العدل تام الضبط باتصال السند من غير شذوذو لا علة۔

2: صحیح لغیرہ: جس کے قصورِ ضبط کی تعدد طرق سے تلافی ہو گئی ہو۔

ہذا حدیث حسن: 

حسن کی بھی دو قسمیں ہیں:

1: حسن لذاتہٖ: وہ حدیث ہے جس میں کوئی ایک راوی ضعیف الضبط ہو لیکن صحیح کی دوسری شرائط بدستور اس میں موجود ہوں۔

2: حسن لغیرہٖ: وہ ضعیف حدیث جو طرق متعددہ سے مروی ہو اور اس کا کوئی متابع موجود ہو۔ 

(تعریفات کے لیے دیکھیے مقدمہ اعلاء السنن: صفحہ، 24) 

امام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ نے کہا ہے کہ حدیث حسن، امام ترمذی رحمۃاللہ کی ایجاد ہے، ان سے پہلے جو محدثین تھے حدیث کی دو قسمیں بتاتے تھے، صحیح اور ضعيف (و أول ما عرف أنه قسم الحديث ثلاثة أقسام: صحيح و حسن و ضعيف هو أبوعيسىٰ الترمذی فی جامعه

(قاعدة جليلۃ فی التوسل والوسيلۃ: صفحہ، 82

و مجموع الفتاویٰ: جلد، 1 صفحہ، 251)

امام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ کی یہ بات نظر سے خالی نہیں، اس لیے کہ امام ترمذیؒ کے استاذ حضرت امام بخاری رحمۃاللہ اور دوسرے محدثین جو امام ترمذیؒ سے پہلے کے ہیں، نے بعض احادیث پر حسن کا حکم لگایا ہے، امام ترمذیؒ اپنی کتاب میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں: إن رسول اللهﷺ قال: من زرع فی أرض قوم بغير إذنهم، فليس له من الزرع شيئ وله نفقته۔ (دیکھیے جامع ترمذی ابواب الاحکام، باب ما جاء من زرع فی ارض قوم بغیر اذنهم: جلد، 1 صفحہ، 253) 

اس کے بعد فرماتے ہیں: سالت محمد بن إسماعيل عن هذا الحديث، فقال: هو حدیث حسن اور بھی احادیث اس طرح کی ہیں۔

حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام علی بن المدینی عموما احادیث پر صحیح یا حسن کا حکم لگاتے ہیں بظاہر وہ حدیث حسن کے موجد ہیں، ان سے یہ اصطلاح امام بخاریؒ  نے اور امام بخاریؒ سے امام ترمذیؒ نے اخذ کی۔

(دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 426 ثم اعلم أن الحافظ قد ذكر بحثا مشبعا فارجعه إن شئت النكت: المجلد الأول، من الصفحہ، 424، 429) 

صفحہ 5 از 10