تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 10

نے امام ترمذیؒ کو شافعیؒ کہا ہے، شیخ ابراہیم سندھی نے کہا کہ امام ترمذیؒ امام شافعیؒ کے مقلد نہیں تھے بلکہ خود مجتہد تھے، اگرچہ اکثر مواقع میں ان کی تخریج امام شافعیؒ کے مذہب سے ملتی جلتی ہے۔ 

(ماتمس اليه الحاجة: صفحہ، 25، 26) 

امام ابنِ تیمیہؒ نے ان کو اہلِ حدیث قرار دیا ہے۔ (توجیه النظر الی اصول الاثر: صفحہ، 185) 

اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ کی رائے میں یہ مجتہد منتسب الی احمد و اسحاق ہیں 

(ما تمس اليه الحاجة: صفحہ، 26)

کتاب کا نام:

جامع ترمذی میں اضاف ثمانیہ (سیر، آداب، تفسیر ، عقائد، فتن، احکام، اشراط، مناقب) موجود ہیں لہٰذا اس پر جامع کا اطلاق کیا جاتا ہے، صاحب کشف الظنون نے کہا کہ عموماً اس کی نسبت مؤلف کی طرف کی جاتی ہے اور جامع الترمذی کہا جاتا ہے۔

(کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 559 مقدمه تحفۃ الاخودی: صفحہ، 181)

(جس طرح صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں ہوتا ہے) اسی طرح یہ کتاب ابوابِ فقہیہ کی ترتیب پر ہے، لہٰذا اسے السنن، بھی کہا جاتا ہے، حاکم اور خطیب نے جامع ترمذی پر صحیح کا اطلاق کیا ہے لیکن ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ اطلاق تغلبی ہے، وگرنہ اس میں احادیث ضعیفہ بھی موجود ہیں، لہٰذا اس پر تغلیباً الجامع الصح کا اطلاق بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن پہلا نام زیادہ مشہور ہے۔

عادات امام ترمذی رحمۃاللہ:

1: اکثر ابواب خصوصاً ابوابِ متعلقہ بالاحکام میں ایک ہی روایت لاتے ہیں اور اس باب کے تحت آنے والی باقی روایات کی طرف وفی الباب عن فلان و فلان سے اشارہ کرتے ہیں۔

2: جتنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روایت پیشِ نظر ہوتی ہیں وفی الباب میں ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 

(نفع قوت المغتذى المطبوع مع جامع الترمذى: جلد 1، صفحہ 2، 

الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 33 مقدمہ تحفة الاحوذی: صفحہ، 190) 

علامہ عراقیؒ فرماتے ہیں کہ وفی الباب، سے صرف اوپر والی حدیث کی طرف اشارہ نہیں بلکہ وہ تمام روایات پیشِ نظر ہیں جو باب میں آ سکتی ہیں۔ 

(تحفۃ الاحوذی: جلد، 1 صفحہ، 9) 

بعد کے علماء و مصنفین نے وفی الباب کی روایات کی تخریج و تشریح پر کام کیا ہے، حافظ ابنِ حجرؒ کی کتاب اللباب فیما یقولہ الترمذی وفی الباب اور علامہ عراقی کی ایک کتاب کا تذکرہ ملتا ہے، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے بھی اس سلسلہ میں اہم کام شروع فرمایا تھا اور اس کا نام لب اللباب تجویز فرمایا تھا معارف السنن میں فرماتے ہیں: قد بدأت والحمد لله فی تأليف كتاب فی تخريج أحاديث ما فی الباب بنمط بديع وأسلوب جيد، ولو تم الكتاب لوقع فی جذر قلوب أولى الألباب۔ 

(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 36 مزید فرماتے ہیں: وأكبر عون على تخريج ما فی الباب بعد الصحاح مسند أحمد بن حنبل و زوائد الهيثمی، وكتب التخريجات ومن أنفعها وأوسعها نصب الراية للحافظ جمال الدين الزيلعی ثم تلخيص الحبير للحافظ ابنِ حجر، انتھی)

3: کبھی مشہور حدیث کو ترجمہ کے تحت نہیں لاتے بلکہ دوسری غیر مشہور حدیث لاتے ہیں، پھر وفی الباب میں اس مشہور حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس طریق کار میں غیر مشہور حدیث سے واقف کرانا اور اس کی علت خفیہ یا متن کی کمی زیادتی پر متنبہ کرنا مقصود ہے۔ 

(نفع قوت المعتدى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد،1 صفحہ، 2 مقدمہ تحفۃ الاحوذی علامہ محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ فرماتے ہیں: هذا غير مطرد فی الأبواب، نعم تارة يكون الأمر هكذا معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 35)

4: بالعموم امام ترمذیؒ کی عادت ہے کہ وفی الباب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسماء مبارکہ کو ذکر کرتے ہیں لیکن کبھی عن فلان عن أبيه کہتے ہیں یہاں مقصود بالذکر باپ ہی ہوتا ہے لیکن بیٹے کا نام اس وجہ سے ذکر کرتے ہیں کہ اس صحابی سے سوائے ان کے بیٹے کے کوئی اور روایت کرنے والا نہیں ہے مثلاً باب ماجاء لا تقبل صلاة بغير طهور میں وفى الباب عن أبی المليح عن أبيه کہا، يا باب ماجاء فی الزكاة من التشديد  میں   وفى الباب عن قبيصة بن هلب عن أبيه کہا، تو تنبیہ اس بات پر  کرتے ہیں کہ اسامہ بن عمیر ھذلی بصری۔

(ابنِ حجرؒ تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں: أسامة بن عمير بن عامر بن الأفيشر الهذلی، البصری، والد أبی المليح صحابی، تفرد ولده عنه دیکھیے تقریب التہذیب: صفحہ، 98)

ان کے بیٹے ابو الملیح کے علاوہ اور ھلب طائی (هلب، بضم أوله وسكون اللام ثم موحدة، الطائی صحابی، قبل اسمه یزید و هلب لقب، وقد على النبیﷺ وهو أقرع، فمسح رأسه فنبت شعره سكن الكوفة، وروى عن النبیﷺ وعنه ابنه قبيصة دیکھیے تقریب التہذیب: صفحہ، 574 تہذیب التہذیب: جلد، 11 صفحہ، 26) 

سے ان کے بیٹے قبیصہ کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں کرتا، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صحابی کے نام میں اختلاف ہوتا ہے تو التباس دور کرنے کے لیے بیٹے کا نام ذکر کرتے ہیں۔

5: عام طور پر جس صحابی کی روایت ذکر کرتے ہیں پھر دوبارہ وفی الباب میں ان کا ذکر نہیں ہوتا، لیکن بعض مقامات پر اس کے خلاف بھی موجود ہے مثلاً باب حرمة خاتم الذهب میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی ہے: قال: نهانی رسول اللهﷺ عن التختم بالذهب وعن لباس القسى۔ 

(دیکھیے جامع ترمذی: ابواب اللباس، باب كراهية خاتم الذهب: جلد، 1 صفحہ، 304)

پھر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے پھر وفی الباب عن علیؓ فرمایا، علامہ عراقیؓ فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ حضرت علیؓ کی مذکورہ روایت کے علاوہ کسی دوسری روایت کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ روایت جسے امام احمدؒ، ابو داؤدؒ اور نسائیؒ نے نقل کیا ہے: إن النبیﷺ أخذ حريراً فجعله فی يمينه، وأخذ ذهبا فجعله فی شماله، ثم قال: إن هذين حرام على ذكور أمتى۔ 

(مقدمۃ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 191 والحدیث اخرجہ ابو داؤد فی کتاب اللباس باب فی الحرير للنساء: جلد، 2 صفحہ، 205) 

6: امام ترمذیؒ جب کسی حدیث پر حسن و غریب کا حکم لگاتے ہیں تو عموماََ حسن کو مقدم کر کے حسن غریب کہتے ہیں لیکن بعض مقامات پر اس کا عکس بھی کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام ترمذیؒ اجتماع و صفین کے وقت وصف غالب کو مقدم کرتے ہیں، اگر غرابت غالب ہو تو غریب کو مقدم کرتے ہیں اور اگر وصف حسن غالب ہو تو حسن کو مقدم لاتے ہیں۔

صفحہ 4 از 10