تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 10

ایک ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت: أن النبیﷺ قال لعلی: لا يحل لأحد يجنب فی هذا المسجد غيرى و غيرك۔ 

(اخرجه الترمذی فی مناقب علی بن ابی طالب: جلد، 2 صفحہ، 214) 

قال الترمذى: سمع منى محمد بن إسماعيل دوسری حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہا کی روایت سورۃ حشر کی تفسیر میں 

(اخرجه الترمذی فی تفسير سورة الحشر: جلد، 2 صفحہ، 166)

علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ کا اپنے شاگرد سے حدیث سننا کوئی تعجب کی بات نہیں، وہ خود فرمایا کرتے تھے: لا يكون المحدث محدثا كاملا حتىٰ يكتب عمن هو فوقه، وعمن هو دونه وعمن هو مثله۔

(عمدة القاری: جلد، 1 صفحہ، 8)

عمران بن علان کہتے ہیں: امام بخاریؒ وفات پاگئے اور خراسان کی زمین میں اپنا ایک ہی جانشین چھوڑ گئے ہیں جو علم و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ ہیں اور وہ امام ترمذیؒ ہیں۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 389)

امام ترمذی رحمۃاللہ ابن حزم رحمۃاللہ کی نظر میں:

ابنِ حزمؒ نے اپنی کتاب الایصال میں امام ترمذی رحمۃاللہ کے بارے میں لکھا ہے: هو مجهول اور اپنی دوسری تصنیف میں لکھا ہے: ومن محمد بن عیسیٰ بن سورۃ؟ 

(البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 97 تہذیب التہذیب: جلد 9، صفحہ 388 مقدمہ اعلاء السنن مع تعليقات الشيخ عبد الفتاح: جلد، 1 صفحہ، 125 مقدمہ تحفۃ الاحوذی)

ابنِ حزمؒ کی اس تجہیل کو علماء نے بہت سخت رد کیا ہے۔

(ابنِ حزمؒ کا نام علی بن احمد بن سعید بن حزم اور کنیت ابومحمد ہے، 384ھ میں شہر قرطبہ میں ان کی ولادت ہوئی اور 456ھ میں وفات پائی) 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 18 صفحہ، 84 وفیات الاعیان: جلد، 3 صفحہ، 335 تذکرة الحفاظ: جلد، 3 صفحہ، 1146 البدايہ و النہايہ: جلد، 12 صفحہ، 91)

حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: كان واسع الحفظ جداً، إلا أنه لثقته بحافظته كان يهجم على القول في التعديل والتجريح وتبيين اسماء الرواة، فيقع له من ذلك أوهام شنيعة۔

(لسان المیزان: جلد، 4 صفحہ، 198) 

تاج الدین سبکی لکھتے ہیں: ابنِ حزمؒ ایک زبان دراز اور جرح و تعدیل میں بغیر کسی تحقیق کے اپنے گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کرنے والے ہیں، اپنے الفاظ میں ائمہ اسلام کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور ان کی کتاب الملل والنحل تو شرالکتب ہے، اس کتاب میں انہوں نے امام ابو الحسن اشعری پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کو کفر کے کنارے تک پہنچا دیا اور ان کے بدعتی ہونے کا فیصلہ کیا، محققین نے اس کتاب کے مطالعہ سے منع کیا ہے۔

(طبقات الشافعية الكبرىٰ: جلد، 1 صفحہ، 43)

امام ترمذیؒ کا دفاع کرتے ہوئے علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: الحافظ العالم أبوعيسىٰ الترمذى صاحب الجامع ثقة مجمع عليه، ولا التفات إلى قول أبی محمد بن حزم فيه فی الفرائض من كتاب الإيصال أنه مجهول، فإنه ما عرفه ولادرى بوجود الجامع ولا العلل اللذين له۔

(میزان الاعتدال: جلد، 3 صفحہ، 678 ترجمہ محمد بن عیسیٰ)

حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں: ابنِ حزمؒ نے امام ترمذیؒ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کر کے اپنے مرتبہ و مقام کو اہلِ علم کے نزدیک پست کیا ہے نہ کہ امام صاحب کے مقام و منزلت کو۔ 

(البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 17)

حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں: کوئی یہ نہ سمجھے کہ ابنِ حزم امام ترمذی رحمہما اللہ کو جانتے نہیں تھے اور ان کی تصانیف و قوتِ حفظ کی اطلاع ان تک نہیں پہنچی تھی، بلکہ یہ اس آدمی کی عادت ہے جیسا کہ انہوں نے بہت سارے ثقہ حفاظ کے بارے میں اس جیسے جملے استعمال کئے ہیں، حالانکہ حافظ ابنِ فرضی (جو ابنِ حزمؒ کے شہر کے ہیں) کی کتاب المؤتلف والمختلف میں امام ترمذیؒ کی تعریف و توثیق موجود ہے تو کیا ابنِ حزمؒ نے اپنے شہر کے محقق و مصنف کی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا؟ 

(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 388)

شیوخ و تلامذہ:

امام ترمذیؒ نے اپنے زمانے کے ہر خرمنِ علم سے خوشہ چینی کی، امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ جیسے ائمہ فن سے استفادہ کے ساتھ ساتھ ان کے بعض شیوخ میں بھی ان کے ساتھ شریک ہیں، جیسے قتیبہ بن سعید علی بن حجر محمد بن بشارؒ، اسحاق بن راھویہؒ، ان کے تلامذہ میں ایک محمد بن احمد۔ 

(یہ ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب الجبوبی امروزی ہیں، 265ھ میں امام ترمذیؒ سے استفادہ کرنے آئے جبکہ آپ کی عمر 16 برس کی تھی، 346ھ میں ان کا انتقال ہوا، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 537 شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 373) 

جو جامع کے رواۃ میں سے ہیں اور ہیثم بن کلیب۔

(یہ ابوسعید الہیثم بن کلیب الشاش الترکی اور المسند الکبیر کے مصنف ہیں، 335ھ میں سمرقند میں انتقال ہوا، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 359، تذکرة الحفاظ: جلد، 3 صفحہ، 848) 

جو شمائل کے رواۃ میں سے ہیں وغیرہ مشہور ہیں۔

تصانیف:

جامع ترمذی کے علاوہ بہت سی کتابیں یادگار چھوڑ گئے ہیں، جیسے علل صغریٰ جو جامع ترمذی کے ساتھ مطبوع ہے علل کبریٰ یہ نایاب ہے شمائل النبیﷺ یہ اپنے موضوع کی بہترین کتاب ہے اور اس کے پڑھنے میں بہت برکت ہے، شیخ عبد الحق اشعۃ اللمعات میں لکھتے ہیں:

خواندن آن برای مهمات مجرب اکابر است 

یعنی مشکلات میں اس کا پڑھنا بزرگوں کا مجرب ہے۔

التاريخ، الزهد، الأسماء والكنى، الجرح و التعدیل۔ 

(الاعلام: جلد، 6 صفحہ، 322 البدايہ و النہايہ: جلد، 1 صفحہ، 26، 27) 

بھی ان کی تصنیفات ہیں۔

مسلک:

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ

(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58 العرف الشذی: صفحہ، 2)

مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ

(مقدمه معارف السنن: صفحہ، 22 قال صاحب التحفة معترضا على الشيخ أنور شاه: أن الترمذی لم يكن مقلداً للشافعی ولا لغيره، ولهذا اعترض على تأويل الشافعی فی حديث الإبراد فانه ليس من شأن المقلد الاعتراض على إمامه۔ انتهى قال الشيخ محمد يوسف ياليت لو كان يعلم طبقات المقلدين و درجاتهم والفروق بينهم، و ياليت لو كان يعلم الفرق بين تقليد أكابر المحدثين من السلف وبين تقليد المتأخرين، معارف السنن: جلد، 3 صفحہ، 55، 56) سید صدیق حسن خان

(ما تمس اليه الحاجة: صفحہ، 25)

صفحہ 3 از 10