تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 10

(بذل المجہود: جلد، 20 صفحہ، 199٫198) بعض حضرات نے کہا کہ احادیث نہی مرفوع متصل نہیں، ابنِ ابی شیبہ والی روایت مرسل ہے اور حضرت عمرؓ کا اثر کہ انہوں نے اپنے لڑکے کو مارا وہ بھی مرفوع کے حکم میں نہیں، لہٰذا بظاہر جواز ہی معلوم ہوتا ہے اور اگر حدیث کو مرفوع مان بھی لیا جائے تو اس میں ابوعیسیٰ کنیت رکھنے سے منع تو نہیں، بلکہ جناب رسول اللہﷺ نے مزاحاً ایک امرِ واقع کا بیان فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں ہے تو تم کہاں سے ابوعیسیٰ بن گئے اس طرح کے مزاح احادیث میں وارد ہیں۔

(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 170) 

بہرحال شامی میں ہے: لا ینبغی أن يسمى بهذا۔ 

(ردالمختار کتاب الخطر والا باحتہ: جلد، 6 صفحہ، 418 مطبوع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

ولادت، وفات: 

آپ کی ولادت 209ھ میں ہوئی۔

(علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: ولد فی حدود سنة عشر و مئتین دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد 13، صفحہ، 271) 

تاریخِ وفات میں اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ بروز دو شنبہ تیرہ رجب 279ھ میں انتقال ہوا اور ترمذ ہی میں مدفون ہوئے۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277 البدايہ و النہايہ: جلد، 11 صفحہ، 27  دفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 278 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ 635) 

سمعانی نے لکھا ہے کہ 275ھ میں قریہ بوغ میں انتقال ہوا۔ 

(الانساب: جلد، 1 صفحہ 415، اس کے بعد صفحہ، 460 میں لکھتے ہیں: توفى بقرية بوغ سنة نيف و سبعين و مائتين احد قرى ترمذ) حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ نے تیرہ رجب کے بجائے سترہ رجب فرمایا ہے۔

(بستان الحمدثین: صفحہ، 293) 

مشہور قول پہلا ہے اور اس کے مطابق کل عمر ستر سال بنتی ہے، کسی نے آپ کی عمر اور تاریخ وفات کو اس شعر میں ظاہر کیا ہے:

الترمذی محمد ذوزین

عطر وفاة عمره فی عين۔

عطر سے تاریخ وفات اور عین سے کل عمر کی طرف اشارہ ہے۔

(العرف الشذى مطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 2  معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 14)

کیا امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ پیدائشی نابینا تھے؟ 

بعض حضرات نے کہا ہے کہ امام ترمذیؒ پیدائشی نابینا تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 270) 

لیکن یہ بات غلط ہے بلکہ امام صاحب آخر عمر میں نابینا ہوئے تھے، حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ لکھتے ہیں: زہد و خوف بحدے داشت کہ فوق آن متصور نیست، بخوف الہی بسیار گریہ و زاری کرد، و نابینا شد۔ 

(بستان المحد ثین: صفحہ، 290) 

امام ترمذی رحمۃاللہ کی خدا ترسی تصور انسانی سے بالا تر تھی اللہ کے خوف سے روتے روتے نابینا ہو گئے، اسی طرح عمر بن ملک کا بیان ہے: بکی حتیٰ عمى وبقى ضرير العينين۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 234 تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 379 میں راوی کا نام عمران بن علان آیا ہے، ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں: والذی يظهر من حال الترمذى أنه إنما طرأ عليه العمى بعد أن رحل و سمع و كتب و ذاكر وناظر وصنف البدايہ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 67 علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: والصحيح أنه أضر فی كبره بعد رحلته وكتابته العلم،

سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 270)

تحصیل علم: 

امام ترمذی رحمۃاللہ نے تحصیل علم کے لیے خراسان، عراق، حجاز کی طرف سفر کیا اور وہاں کے علماء سے کسبِ فیض کیا، البتہ مصر اور شام تشریف نہیں لے گئے۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 271 تہذیب الکمال: جلد، 26 صفحہ، 251)

حیرت انگیز حافظہ: 

اللہ تعالیٰ نے امام ترمذیؒ کو حیران کن قوت حافظہ عطا فرمائی تھی، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: قال أبو سعيد الإدريسی: كان أبو عيسىٰ يضرب به المثل فی الحفظ۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 273 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 634) 

امام ترمذیؒ قوتِ حافظہ میں ضرب المثل تھے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ امام ترمذیؒ نے ایک شیخ کی روایات کے دو جز نقل کئے تھے، مکہ کے راستہ میں اسی شیخ سے ملاقات ہوئی، امام صاحب نے سوچا کہ کیوں نہ براہِ راست شیخ سے سماعت کروں، درخواست لے کر شیخ کے پاس گئے، انہوں نے منظور کر کے کہا میں پڑھتا جاؤں گا اور آپ اپنے نسخہ میں مقابلہ کرتے جاؤ، اتفاق سے وہ دو جزء امام صاحب کے سامانِ سفر میں نہ ملے تو وہ سادہ کاغذ لے کر بیٹھ گئے، شیخ کی نظر پڑ گئی، بہت سخت ناراض ہوئے، امام صاحب نے واقعہ سنایا اور کہا کہ وہ دو جزء مجھے ازبر یاد ہیں اور پھر شیخ کے کہنے پر سنانا شروع کیا، شیخ نے کہا کہ آپ پہلے سے یاد کر کے آئے ہو، امام ترمذیؒ نے کہا امتحان کر لیجیئے، انہوں نے چالیس غریب حدیثیں امام ترمذیؒ کے سامنے پڑھیں، پھر اسی وقت امام صاحب نے بغیر کسی غلطی کے ان کو وہ سب حدیثیں سنا دیں۔ 

(دیکھیے تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 235 سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 273 

تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 388 الانساب: جلد، 1 صفحہ، 45 بتغیر یسیر واللہ اعلم)

جلالت قدر: 

حضرت امام بخاریؒ کو اپنے اس شاگرد رشید پر ناز تھا، وہ فرماتے ہیں: ما انتفعت بك أكثر مما انتفعت بی۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 389)

علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ یہ بات بظاہر بعید نظر آتی ہے اس لیے کہ امام ترمذیؒ اگرچہ فنِ حدیث میں علم کے پہاڑ ہیں، لیکن امام بخاریؒ علمِ حدیث کی دنیا کا چمکتا ہوا سورج ہیں جو اپنی روشنی میں کسی کے محتاج نہیں تو اس قول کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے تلامذہ کی بنسبت آپ نے مجھ سے زیادہ علم حاصل کیا اور ظاہر ہے کہ شاگرد جتنا علم حاصل کرے استاد کا فائدہ ہوتا ہے، چونکہ جس طرح شاگرد استفادہ کا محتاج ہے استاد بھی افادہ اور اپنے علم کی اشاعت کا ذمہ دار ہے، اگر شاگرد ذکی ہو تو اشاعت علم کا بہترین ذریعہ ہونے کے ساتھ دورانِ درس بھی ایسے سوالات کرتا ہے جو استاد کے لیے فائدہ سے خالی نہیں ہوتے۔ 

(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 2 معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 15) 

علامہ ابنِ حجرؒ نے ادریسی کا قول نقل کیا ہے: "كان الترمذى أحد الائمة الذين يقتدى بهم فی علم الحدیث۔

(تہذیب التہذيب: جلد، 9 صفحہ، 388) 

امام ترمذیؒ کے لیے ایک قابلِ فخر بات یہ بھی ہے کہ حضرت امام بخاریؒ نے ان سے دو حدیثیں سنی ہیں۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 387)

صفحہ 2 از 10