تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 10 از 10

طبقات ابنِ سعد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول منقول ہے: إن أبا بكر نزلت به قضية لم نجد لها فی كتاب اللہ اصلا، ولا فی السنة اثراً، فقال: اجتهد رأئی، فان يكن صوابا، فمن اللہ وإن يكن خطأ، فمنى وأستغفر اللہ۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 178)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کر کے فرمايا: إنی رأيت فی الجدّ رايا، فان رأيتم أن تتبعوه، فقال عثمان إن نتبع رأيك فهو رشد، وإن نتبع رأى الشيخ قبلك فنعم ذو الرأی کان۔ (مستدرک حاکم: جلد، 4 صفحہ، 340) 

ان واضح اور بے غبار احادیث و آثار سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ غیر منصوص مسائل میں رائے اور اجتہاد جائز ہی نہیں بلکہ ضروری بھی ہے

جن حضرات نے رائے اور قیاس کی مذمت میں احادیث و آثار نقل کئے ہیں، ان سب کا بصورت تسلیمِ سند ایک ہی جواب کافی ہے کہ وہاں رائے سے وہ رائے مراد ہے جو دین کے کسی اصل کی طرف مستند نہ ہو۔

امام بخاریؒ نے بھی ایک باب قائم کیا ہے "باب ما يذكر من ذم الرأى وتكف الناس" یہاں بھی شراح یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ اس رائے کی مذمت ہے جو مستند الی اصل شرعی نہ ہو۔ محترم وحید الزمان صاحب کی بھی یہی تحقیق ہے وہ حضرات آیت: اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ الخ۔ 

(سورۃ المائدہ: آیت 3)

 اور تِبۡيَانًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ الخ۔

(سورۃ النحل: آیت 89)

 اور اس جیسی آیات سے استدلال کرتے ہیں اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ قیاس مظہر الحکم ہے مثبت للحکم نہیں ہے و التفصيل فی المطولات۔

شروح و مختصرات: 

جامع ترمذی کی چند شروح درج ذیل ہیں:

1: عارضه الاحوذی از قاضی ابوبکر بن عربی مالکی (متوفی 546ھ ) علامہ سیوطی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ ایک ہی شرح ہے ترمذی کی، جو مکمل ہے۔

2: شرح ترمذی از حافظ ابوالفتح محمد بن سید الناس (متوفی 734ھ) یہ نامکمل ہے۔ 

3: شرح ترمذی از حافظ زین الدین عراقی (متوفی 806ھ) یہ ابنِ سید الناس کی شرح کا تکملہ ہے۔

4: شرح زوائد الترمذی علی الصحیحین از سراج الدين محمد بن على ابى الملقن (متوفی 804ھ)

5: شرح ترندی از ابوالفرج زین الدین عبد الرحمٰن بن شہاب الدین احمد بن رجب (متوفی 795ھ)

6: شرح ترمذی از شهاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد العسقلانی المعروف بابن حجر (متوفی 852ھ) اس کا تذکرہ انہوں نے فتح الباری میں کیا ہے (قال الحافظ فی فتح البارى: ولم يثبت عن النبیﷺ فی النهی عنه أی عن البول قائماً شيئ كما بينته فی أوائل شرح الترمذى، فتح الباری: جلد، 1 صفحہ، 330، باب البول عند سباطتہ قوم)

7: العرف الشذی علی جامع الترمذی از محمد بن رسلان بلقینی شافعی (متوفی 805ھ) یہ نامکمل ہے۔

8: قوت المغتذی علی جامع الترمذی از جلال الدین عبد الرحمٰن بن الکمال السیوطی (متوفی 911ھ)

9: شرح ترمذی از علامہ محمد طاہر صاحب مجمع البحار (متوفی 686ھ)

10: شرح ترمذی فارسی از شیخ سراج احمد سرہندی (متوفی 1230ھ)

11: شرح ترمذی از ابوطیب سندھی۔

12: شرح ترمذی از عبد الهادی سندھی (متوفی 1138ھ)

13: الکوکب الدری از افادات مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (متوفی 1323ھ)

14: العرف الشذی از مولانا انور شاہ کشمیریؒ (متوفی 1352ھ)

15: معارف السنن از مولانا محمد یوسف بنوریؒ (متوفی 1397ھ 1977متوفی)

16: تحفة الاحوذی از عبد الرحمٰن مبارک پوری (متوفی 1352ھ)

17: جائزة الشعوذی از بدیع الزمان بن مسیح الزمان لکھنؤی (متوفی 1304ھ)

18: المسک الزکی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (متوفی 1323ھ) کی تقریر ہے- 

19: شرح ترمذی از شیخ فضل احمد انصاری۔

20: شرح ترمذی از مفتی صبغت اللہ بن محمد غوث شافعی (متوفی 1280ھ)

21: افادات درسیه حضرت شیخ الہند (متوفی 1339ھ) 

(دیکھیے کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 559 

و مقدمۃ الکوکب الدری جلد، 1 صفحہ، 6 

مقدمة تحفة الاحوذی: صفحہ، 183، 190)


صفحہ 10 از 10