تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 8 از 9

(عون المعبود: جلد، 13 صفحہ 83، 84)

سنن ابو داؤد رحمۃاللہ کے نسخے: 

سننِ ابو داؤد کے متعدد نسخے ملتے ہیں، حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کے تین نسخے مشہور ہیں بلادِ مشرق میں نسخہ لؤلؤی مشہور ہے یہ ابوعلی محمد بن احمد بن عمرو بصری لؤلؤی کا نسخہ ہے، جو 20 سال تک امام صاحبؒ کی خدمت میں سنن پڑھتے رہے ان کو وراق ابو داؤد بھی کہا جاتا ہے۔

(والوراق فی لغةںاہل بصرہ القاری للناس سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 307) انہوں نے سنہ 333 ھ میں وفات پائی۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 308)

بلادِ مغرب میں نسخہ ابنِ داسہ کی شہرت ہوئی یہ نسخہ ابوبکر محمد بن بکر بن محمد بصری کا ہے ان کی وفات 346ھ میں ہوئی ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 538)

تیسرا نسخہ ابن الاعرابی کا ہے ان کا پورا نام ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری ہے ان کی ولادت سنہ 240ھ کے بعد ہے اور 340ھ میں وفات پائی ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 410) 

ابوعلی لؤلؤی کا نسخہ اصح النسخ سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے 275ھ میں امام ابو داؤد سے روایت کیا ہے اور یہ آخری املاء ہے جو کہ امام صاحبؒ نے کرایا ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 206 حاشیہ) 

ابن العرابی کے نسخے میں کافی کمی پائی جاتی ہے چنانچہ اس میں کتاب الفتن، کتاب الملاحم، کتاب الحروف اور کچھ حصہ کتاب اللباس کا موجود نہیں۔

(مقدمہ تحفةالحوزی: صفحہ، 62)

علامہ ذہبیؒ نے لؤلؤى کا قول نقل فرمایا ہے: والزيادات التی فی رواية ابن داسة حذفها ابو داؤد آخرا لامر رايه فی الاسناد۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 307)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابنِ داسہ کے نسخہ میں بنسبتِ نسخہ لؤلؤى کے کچھ زیادتی موجود ہے اگرچہ ان دونوں میں زیادہ تر اختلاف تقدیم و تاخیر کا ہے، سننِ ابو داؤد کے رواة کی فہرست میں ان کے علاوہ ابو طیب احمد بن ابراہیم بن اشنانی بغدادی،ابو عمر احمد بن علی بن حسن بصری، اسحاق بن موسیٰ رملی (عراق ابو داؤد) علی بن حسن بن عبد انصاری، ابو اسامہ محمد بن عبدالملک وغیرہ کے نام بھی ملتے ہیں۔

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 360، 361 وسیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 205، 206)

سنن ابو داؤد اہل فن کی نظر میں:

سننِ ابو داؤد کی سب سے بڑی قابلِ فخر خوبی یہ ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اس کی تعریف و تحسین فرمائی ہے۔

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 363)

ابنِ سبکی اپنے طبقات میں لکھتے ہیں: يمن دواوين الاسلام والفقهاء لا يتحاشون من اطلاق اللفظ الصحيح عليها  على سنن الترمذى۔

(الحطة فی ذکر صحاح الستہ: صفحہ، 346 کشف الظنون: جلد، 4 صفحہ، 1004)

حسن بن محمد بن ابراہیم کا بیان ہے کہ میں نے ایک رات جناب رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا، ارشاد فرما رہے تھے کہ جو شخص سنتیں سمجھ کر ان پر عمل کرنا چاہے تو سننِ ابو داؤد کا مطالعہ کرے یحییٰ بن زکریا ساجی کا قول ہے: اصل الاسلام كتاب الله وعمادة سننِ ابى داؤد ابن الاعرابی فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو کتاب اللہ اور سننِ ابو داؤد کا علم حاصل ہو جائے (تو مقدمات دین میں) اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہ ہوگی۔

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ علم فقہ میں دلچسپی لینے والوں کے لیے ضروری ہے کہ سننِ ابو داؤد کو اچھی طرح سمجھ کر اس کی معرفت حاصل کریں، اس لیے کہ احادیث احکام کا بہت بڑا ذخیرہ اس میں موجود ہے۔

(تمام اقوال کے لیے دیکھیے الحطةفی ذکر صحاح الستہ: صفحہ، 245، 246 و مقدمہ تحفةالحوزی: صفحہ، 61 بستان المحدثین: صفحہ، 287)

علامہ خطابیؒ بھی فرماتے ہیں کہ سننِ ابو داؤد ایسی شاندار و جاندار کتاب ہے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے تمام لوگوں کے درمیان مشہور و مقبول اور علماء کے اختلافی مسائل میں حکم ہے سب اس کی طرف رجوع کر کے خوشہ چینی کرتے ہیں اگرچہ اہلِ خراسان صحیحین کے گرویدہ ہیں جو ترتیب اور کثرت کے مسائل فقہیہ کے لحاظ سے سننِ ابو داؤد پر فائق ہے۔

(دیکھیے مختصر سننِ ابو داؤد: صفحہ، 10)

امام صاحبؒ خود اپنی کتاب کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: لا اعلم شيئا بعد القرآن الزم للناس أن يتعلموا من هذا الكتاب ولا يضر رجلا أن لا يكتب من العلم بعد ما يكتب هذا الكتاب شيئا واذا نظر فيه وتدبره وتفهمه حينئذ يفهم قدره۔

میرے خیال میں قرآنِ حکیم کے بعد سب سے زیادہ ضرورت اس کتاب کے سیکھنے کی ہے اگر کوئی آدمی حدیث کی دوسری  تمام کتابیں چھوڑ کر صرف اس کتاب کے لکھنے پر اکتفاء کرے تو اس کے لیے کافی ہے اس کی قدر وہی جانے گا جو اس میں غور و خوض کرے گا۔

(مقدمہ بذل المجہود: صفحہ، 36)

حافظ محمد مخلد دوری کا قول ہے:

لما صنف ابو داؤد السنن وقراه على الناسؤ صار كتابه لاهل الحديث كالمصحف يتبعونه۔

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 365)

شروح حواشی و مختصرات:

سننِ ابو داؤد پر کافی شروع و تعلیقات لکھی گئی ہیں جن سے اس کتاب کا حسن قبول واضح ہو جاتا ہے ان میں سے چند کا تعارف درج ذیل ہے:

1: معالم السنن از ابو سلیمان احمد بن محمد بن ابراہیم خطابی ممتوفی 388ھ۔

2: عجالة العالم من المعام از ابو محمود احمد  بن محمد مقدسی متوفی 765ھ یہ معالم السنن کی تلخیص ہے۔

3: المجتبیٰ از زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری متوفی 656ھ۔

4: زہر الربی علی المجتبیٰ از علامہ سیوطی متوفی 911ھ یہ علامہ منذری کی کتاب المجتبیٰ کی شرح ہے۔

5: شرح مختصر سننِ ابو داؤد از ابنِ قیم الجوزیہ متوفی 751ھ،یہ بھی المجتبیٰ کی شرح و تہذیب ہے۔

6: مرقاة الصعود از سیوطی متوفی 911ھ۔

7: درجاة مرقاة الصعود از علی بن سلیمان الدمنتی متوفی 1306ھ یہ علامہ سیوطی کی کتاب کی تلخیص ہے۔

8: شرح سننِ ابو داؤد از علامہ نووی متوفی 676ھ۔

9: شرح ابو داؤد از قطب الدین ابوبکر بن احمد متوفی 752ھ۔

10: شرح سننِ ابو داؤد از حافظ علاؤ الدین مغلطائی بن قلیج متوفی 762ھ، ناتمام۔

11: انتماء السنن والاقتفاء السنن از شہاب الدین ابو محمد بن محمد بن ابراہیم المقدسی متوفی 765ھ۔

12: شرح سننِ ابو داؤد از سراج الدین عمر بن علی بن الملقن شافعی متوفی 804ھ۔

13: شرح سننِ ابو داؤد از ابو زرعہ احمد بن عبدالرحیم عراقی متوفی 826ھ، سات جلدوں پر مشتمل ہے صرف سجود السہو تک ہے۔

صفحہ 8 از 9