تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 7 از 9

امام ابو داؤدؒ، شوکانیؒ، منذریؒ نے اس پر سکوت کیا ہے، ابنِ حجرؒ نے بھی کوئی کلام نہیں کیا ہے، البتہ فتح الباری میں اس کو حسن قرار دیا ہے، ان تمام حضرات کے سکوت کے بعد حضرت مولانا خلیل احمد سہار پوری علیہ الرحمۃ والغفر ان نے اس پر زبردست کلام کیا ہے وہ فرماتے ہیں: سكوت المحدثين عليه وقول الحافظ : إسناده حسن، عجيب، فإن حسن بن ذكوان راوی الحديث ضعفه كثير من المحدثين، فكيف يصلح للاحتجاج به، فقد قال ابن معين وأبو حاتم: ضعيف، وقال أبو حاتم والنسائی أيضاً: ليس بالقوى، قال يحيىٰ بن معين: منكر الحديث وضعفه، وقال ابن أبی الدنيا: ليس عندى بالقوى، وقال أحمد: أحاديثه أباطيل۔ (بذل المجهود: جلد، 1 صفحہ، 29 باب كراهية استقبال القبلة عند قضاء الحاجة)

ابن سید الناس نے روایات ابو داؤدؒ کے متعلق آراء علماء کو رد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ امام مسلمؒ اور امام ابوداؤدؒ کی شرائط ایک جیسی ہیں امام مسلمؒ نے فرمایا تھا کہ رواۃ کے تین طبقے ہیں: ایک وہ جو حفظ و عدالت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہے، دوسرا وہ جو صرف عدالت میں پہلے طبقہ کے برابر ہے اور تیسرا ضعفاء و مجاہیل کا طبقہ ہے اور ہم صرف پہلے دو طبقے کی روایات کو لائیں گے، امام ابو داؤدؒ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ وہ صحیح یعنی طبقہ اولیٰ و ما یشبھہ اویقاربہ یعنی طبقہ ثانیہ کی روایت کو لائیں گے، اور ان کی کتاب کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف طبقہ اولیٰ اور ثانیہ کی روایات کو درج کیا ہے اور طبقہ ثالثہ کی روایات کو نظر انداز کیا ہے، البتہ اتنی بات ہے کہ امام مسلمؒ نے اپنی کتاب میں صحیح کی شرط لگائی ہے اور وہ صرف صحیح احادیث کی تخریج فرماتے ہیں، بخلاف امام ابو داؤدؒ کے کہ وہ حدیث ضعیف کو بھی لیتے ہیں اور ان کا ضعف بھی بیان فرماتے ہیں اور احادیث ضعیفہ کو جاننا بھی اپنی جگہ بہت اہم چیز ہے۔ 

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 168، النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 432)

حافظ ابنِ حجرؒ نے حافظ صلاح الدین علائی کی طرف سے اس اعتراض کا جواب یہ دیا ہے، کہ ام مسلمؒ طبقہ اولیٰ کی روایات کو اصالہ اور طبقہ ثانیہ کی روایات کو متابعات میں ذکر کرتے ہیں اور امام ابو داؤدؒ دونوں کی روایات اصالۃ لاتے ہیں، لہٰذا دونوں کتابوں کے درمیان فرق واضح ہے۔

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 433)

علامہ عراقی نے اس بات کا یوں جواب دیا ہے کہ امام مسلمؒ نے صحیح احادیث کا التزام کیا ہے، لہٰذا ہم ان کی کتاب کی کسی حدیث پر حسن کا حکم نہیں لگا سکتے، اس لیے کہ حسن کا درجہ صحیح سے کم ہے، بخلاف امام ابو داؤدؒ کے کہ انہوں نے فرمایا ہے: ماسكت عنه فهو صالح اور صالح میں صحیح اور حسن دونوں داخل ہیں اور احتیاطاً حسن ہی مراد لیا جائے گا جب تک کہ صحیح ہونے کا یقین نہ ہو۔

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 169، النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 432) بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ دراصل امام مسلمؒ نے رجال کے تین طبقے بتائے ہیں اور امام ابو داؤدؒ نے متون حدیث کی تین قسمیں بنائی ہیں یعنی امام مسلمؒ کی تقسیمِ رجال سے متعلق ہے اور امام ابو داؤدؒ کی تقسیم متنِ حدیث سے اور یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی حدیث متن کے اعتبار سے صحیح ہو اور وہ امام ابو داؤدؒ کی شرط پر پوری اترتی ہو، لیکن اس کے بعض رجال ضعیف ہوں جس کی وجہ سے امام مسلمؒ اس کو رد کرتے ہیں۔ 

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 169)

بعض علماء نے کہا ہے کہ امام مسلمؒ رواۃ کے پانچ طبقات میں سے طبقہ اولیٰ اور ثانیہ کی روایت کو اصالۃ اور طبقہ ثالثہ کی روایات کو متابعات میں ذکر کرتے ہیں اور امام ابو داؤدؒ تینوں کی روایات کو اصالۃ لاتے ہیں، لہٰذا دونوں میں فرق واضح ہے، بعض نے کہا کہ امام ابو داؤدؒ کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضعف غیر شدید کے بیان کا التزام نہیں فرماتے، لہٰذا ان کی کتاب کا درجہ مسلم سے کم ہے۔

(دیکھیے محولہ بالا)

سنن ابو داؤد رحمۃاللہ میں کوئی حدیث ثلاثی نہیں:

نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ سنن ابو داؤد میں ایک حدیث ثلاثی ہے جو اس سند و متن کے ساتھ مروی ہے: حدثنا مسلم بن إبراهيم حدثنا عبد السلام بن أبی حازم أبو طالوت قال: شهدت أبابرزة دخل على عبیدالله بن زياد فحدثنی فلان۔(قال الحافظ: عبد السلام بن أبی حازم، حدثنی فلان، عن أبی هريرة، هو عمه، ولم أقف على اسمه التقريب باب المبهمات بترتيب من روى عنهم: صفحہ، 735 وقد أخرج الإمام أحمد فی مسنده حديث الحوض هذا برواية عبد السلام أبی طالوت فسماه فيه من حدثه وهو العباس الحريری انظر مسند الإمام أحمد

: جلد، 4 صفحہ، 424) 

سماه مسلم وكان فی السماط فلما رآه عبيد الله قال ان محمديكم هذا الدحداح، ففمهما الشيخ فقال: ما كنت احسب انی ابقی فی قومی يعيرونى بصحبة محمدﷺ فقال له عبيدالله: ان صحبة محمدﷺ لك زين غير شين، ثم قال: انما بعثت اليك لاسالك عن الحوض سمعت رسول اللهﷺ يذكر فيه شيئا قال: فقال ابو برزه نعم الامرة ولا ثنتين ولاثلاثا ولا اربعا ولا خمسة فمن كذب به فلا سقاه الله منه، ثم خرج مغضبا۔

بقول نواب صاحب کے اس حدیث میں امام ابو داؤدؒ اور جناب رسول اللہﷺ کے درمیان تین واسطے ہیں: ایک مسلم بن ابراہیم، دوسرا عبدالسلام اور تیسرا ابوبرزہ، لہٰذا یہ حدیث ثلاثی ہے، لیکن نواب صاحب کی یہ بات نظر سے خالی نہیں اس لیے کہ عبدالسلام نے صرف یہ کہا کہ میں نے حضرت ابو برزہ کو عبید اللہ کے پاس جاتے ہوئے دیکھا، باقی ان دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کو ابو طالوت از خود نقل نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے شخص (جس کا نام امام ابو داؤدؒ کو یاد نہیں رہا) سنِ عقل کرتے ہیں تو گویا واسطے چار ہو گئے نہ کہ تین۔

حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نور اللہ مرقدہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بذل المجہود میں فرماتے ہیں: (شهدت ابا برزه دخل على عبيد الله بن زياد) ولم ادخل معه الا عبيد الله بن زياد فلم اسمع الحديث من غيرواسطة۔

(بذل المجہود: جلد، 18 صفحہ، 287)

علامہ شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں: ولم يكن عبدالسلام حاضرا مع ابی برزه فلم يسمع من ابی برزة نفسه ما جرى بين ابی برزة وبين عبيدالله بن زياد۔

صفحہ 7 از 9