تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 6 از 9

(یہ ابومحمد عبداللہ بن عقیل ابن عم النبیﷺ ہیں، ان کی والدہ زینب بنتِ علیؓ بن ابی طالب ہیں، ابنِ معین وحی بن سعید نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے، بخاری نے ان کو مقارب الحدیث فرمایا ہے اور امام احمدؒ نے بھی ان کی روایات سے استدلال کیا ہے المتوفی 140ھ کے بعد، دیکھیے سیرا علام النبلاء: جلد 2 صفحہ 204، تہذیب الكمال: جلد، 16 صفحہ، 78) 

موسیٰ بن وردان متوفی 51ھ۔

(یہ ابو عمر مری ہیں، امام ابو داؤدؒ نے ان کو ثقہ اور ابو حاتمؒ نے ان کے بارے میں لیس بہ بأس کہا ہے، ابنِ معین نے ان کو ضعیف اور لیس بالقوی کہا ہے، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 5 صفحہ، 107، تہذیب الکمال: جلد، 29 صفحہ، 163) 

سلمۃ بن الفضل متوفی 191ھ۔

(یہ ابوعبداللہ الرازی ہیں، ابنِ معین اور ابنِ سعد نے ان کی توثیق، ابو حاتمؒ اور نسائیؒ نے تضعیف کی ہے، امام بخاریؒ نے فرمایا ہے: عنده مناكبر وهنه على: دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 49، 50 تہذیب الكمال: جلد، 11 صفحہ، 305) 

وغیرہ اور یہ سب اقسام امام صاحب کے یہاں حجت ہیں، اس لیے کہ وہ حدیث ضعیف کو رائے رجال پر فوقیت دیتے ہیں، یہی مذہب امام احمد بن حنبلؒ کا بھی ہے، اور ان کا قول ان کے صاحبزادے عبداللہ کے طریق سے مروی ہے:

 لا تكاد ترى أحداً ينظر فى الرأى الأوفى قلبه دغل، والحديث الضعيف أحب إلى من الرأی ان کے صاحبزادے کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ اگر کسی شہر میں ایک محدث ہو جو صحیح اور سقیم میں فرق نہ کر سکتا ہو اور ایک صاحبِ رائے، تو مسائل کس سے دریافت کئے جائیں، انہوں نے فرمایا: بسال صاحب الحديث ولا يسأل صاحب الرأى۔ (دیکھیے مقدمہ اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 59، 60)

 ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس مسئلہ میں امام ابو داؤدؒ امام احمدؒ کا اتباع کریں کیونکہ وہ امام احمدؒ کے اجل تلامذہ میں سے ہیں۔ 

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 437)

6: بعض مرتبہ ایسی روایات بھی لاتے ہیں جن کے رواۃ بہت ہی ضعیف اور متروک ہوتے ہیں جیسے حارث بن وحید۔

(یہ ابو محمد بصری ہیں یحییٰ بن معین نے فرمایا ہے: لیس حدیثه بشی امام بخاریؒ اور ابو حاتمؒ فرماتے ہیں: فی حديثه بعض المناكير امام نسائیؒ نے بھی ان کو ضعیف کہا ہے، دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 5 صفحہ، 304) اور عثمان بن واقد۔

(ان کا نسب حضرت عمرؓ سے جا ملتا ہے، احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: لا أرى به باسا یحییٰ بن معین نے ان کی توثیق کی ہے ابنِ حبانؒ نے ان کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے، امام ابو داؤدؒ نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے، دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 19 صفحہ، 504، لیکن حافظ ابنِ حجرؒ کا عثمان بن واقد کو متروکین میں شمار کرنا محل نظر ہے) وغیرہ۔

7: ایسی روایات بھی سنن میں ملتی ہیں جن کی سند میں انقطاع یا ابہام ہے اور ان پر امام صاحب نے سکوت فرمایا ہے تو صرف سکوت ابو داؤدؒ کی وجہ سے ان کو حسن نہیں کہا جائے گا، اس لیے کہ ان کا سکوت کبھی اس وجہ سے ہے کہ پہلے اس پر کلام ہو چکا ہے یا ڈھول کی وجہ سے یا شدۃ وضوح ضعف کے بنا پر، اسی طرح وہ بعض روایات کو نہایت ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن سنن میں اس پر سکوت فرماتے ہیں، مثلاً كتاب الطهارة باب التيمم فی الحضر میں محمد بن ثابت عبدی سے روایت کی ہے بغیر کسی تبصرے کے لیکن کتاب التفرد میں فرمایا ہے: لم يتابع أحد محمد بن ثابت علی هذا پھر امام احمد بن حنبلؒ کا قول نقل کیا ہے: ھو حدیث منکر لیکن غالباً یہاں حافظ صاحب سے کہو ہو گیا ہے کیونکہ امام صاحب نے ابو داؤدؒ میں اس روایت پر کلام کیا ہے۔

(حافظ ابنِ حجرؒ کی طرف سے یہ اعتراض ممکن ہے کہ ان کے پاس موجود نسخہ میں وہ عبارت نہیں تھی جس کی حافظ صاحب نفی فرما رہے ہیں تفصیل کے لیے دیکھیے ڈاکٹر ربیع بن ہادی کا حاشیہ بر النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 442)

علامہ منذریؒ نے کہا کہ امام ابو داؤدؒ نے بہت سی ضعیف احادیث پر سکوت فرمایا ہے اور میں نے ان کی نشاندہی کی ہے۔

(دیکھیے تعلیقات استاد عبد الفتاح ابوغده بر اعلاء السنن: 53) 

پھر علامہ شوکانیؒ نے فرمایا کہ ابوداؤدؒ اور منذریؒ نے بعض احادیث پر سکوت کیا ہے، حالانکہ وہ ضعیف ہیں اور میں نے ان پر کلام کیا ہے۔

(قال الشوکانیؒ فی نيل الأوطار: وماسكنا أى ابوداؤد والمنذرى عليه جميعا فلاشك أنه صالح للاحتجاج إلا فى مواضع يسيرة قد نبهت على بعضها فی هذا الشرح نيل الأوطار: جلد، 1 صفحہ، 33)

ابنِ قیمؒ نے بھی بعض روایات کے متعلق کہا ہے کہ وہ ضعیف ہیں اور کسی نے ان پر کلام نہیں کیا ہے۔ 

(ابنِ قیم کہتے ہیں: وزدت عليه، ای علی مختصر سنن ابی داؤدؒ للمنذری من الكلام على علل سكت أی المنذری عنها أولم يكملها شرح مختصر سنن أبی داؤد المطبوع مع معالم السنن: جلد، 11 صفحہ، 9)

 تو مطلب یہ ہوا کہ ان چار حضرات کے سکوت کے بعد وہ روایت قابلِ احتجاج ہو سکتی ہے، البتہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ابو داؤدؒ کی تمام ضعیف روایات کی نشاندہی کر دی گئی ہے، اور اب کسی کو ان کے متعلق تحقیق و تفتیش کا حق نہیں بلکہ ہر محقق عالم کو یہ حق حاصل ہے کہ تمام اصول و قواعد کو مدِنظر رکھ کر ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرے چنانچہ ابو داؤدؒ کے شروع میں ایک حدیث ہے: عن الحسن بن ذكوان عن مروان الصفر قال: رأيت ابن عمر أناخ راحلته مستقبل القبلة ثم جلس يبول إليها الخ۔ 

(ابوداؤد: جلد، 1 صفحہ، 2 باب كراهية استقبال القبلة عند قضاء الحاجة)

صفحہ 6 از 9