تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 5 از 9

ضروری تنبیہ: 

خصوصیات ابو داؤدؒ میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اول السنن ہے، یعنی کتب حدیث میں سنن سے متعلق سب سے پہلی کتاب جو لکھی گئی وہ سنن ابو داؤدؒ ہے، لیکن شیخ محمد بن جعفر الکتانی نے اس رائے سے اختلاف کیا ہے وہ الرسالۃ المتطرفہ میں لکھتے ہیں: قیل هو أول من صنف فی السنن، وفيه نظر يتبين مماياتی، مصنف نے کچھ صفحات کے بعد سنن امام شافعیؒ کا تذکرہ فرمایا ہے، امام شافعیؒ کی وفات 204ھ میں ہے جب کے امام ابو داؤدؒ کی ولادت 202ھ میں ہے تو مطلب یہ ہوا کہ سننِ امام شافعی پہلے ہے، لہٰذا سننِ امام ابو داؤدؒ کو اول السنن کہنا مخدوش ہے۔ 

(دیکھیے الرسالۃ المتطرفہ: 11، 29)

ماسکت عنہ ابوداؤد کی بحث:

امام ابو داؤدؒ تخریج روایات میں ایسے طریقے اختیار فرماتے ہیں کہ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ روایت کسی درجہ کی ہے، لیکن بعض مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ روایات نقل فرمانے کے بعد اس پر سکوت کرتے ہیں یعنی اس میں کسی قسم کا اضطراب بیان نہیں کرتے، اہلِ مکہ کی طرف ارسال کردہ خط میں وہ لکھتے ہیں: وما كان فی کتابی من حديث فيه وهن شديد، فقد بينته منه ما لا يصح سنده ومالم أذكر فيه شياً فهو صالح، وبعضها أصح من بعض۔

امام صاحب کا یہ آخری جملہ اور سنن میں ان کا یہ طریقہ کار ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بن گیا ہے کہ جس حدیث پر امام صاحب سکوت فرماتے ہیں وہ کسی درجہ کی ہو گی؟

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ اس قول کے پیشِ نظر اگر امام صاحب کسی حدیث پر سکوت فرماتے ہیں اور دوسرے محققین نے بھی اس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے تو وہ حدیث امام صاحب کے نزدیک حسن ہے۔ 

(تدریب الراوی فی شرح تقریب: جلد، 1 صفحہ، 167) 

ابنِ حجرؒ نے فرمایا کہ نوویؒ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جس حدیث پر امام صاحب نے سکوت فرمایا ہے، لیکن دوسرے محققین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے تو امام ابو داؤدؒ کے سکوت کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی بلکہ اس پر ضعیف کا حکم لگایا جائے گا، پھر ابنِ حجرؒ علامہ نوویؒ پر اعتراض کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگرچہ نوویؒ کا قول تحقیقی ہے لیکن وہ خود اپنے اس فیصلہ پر قائم نہیں رہے اور اپنی بعض تصانیف میں بہت کی احادیث کو صرف سکوت ابو داؤدؒ کی وجہ سے حسن کا درجہ دے دیا ہے، حالانکہ وہ حسن نہیں ہیں 

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 444) 

مثلاً حدیث مسور بن یزید مالکی کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

رواه أبو داود بإسناد جيد ومذهبه أن مالم يضعفه فهو عنده حسن۔

(المجموع شرح المهذب للنووی، فرع مذاہب العلماء فی تلقين الامام: جلد، 40 صفحہ، 241)

حالانکہ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کاہلی ہے جو کہ ضعیف ہے۔ 

(نسائی نے ان کو ضعیف اور حافظ ابنِ حجرؒ نے لین الحدیث کہا ہے، دیکھیے تقریب التہذیب: 595، ان کی حدیث کی تخریج امام ابو داؤد نے کتاب الصلاۃ باب الفتح على الامام میں فرمائی ہیں۔

ابنِ صلاح بھی علامہ نوویؒ کے قول کے موافق ہیں وہ لکھتے ہیں: فعلى هذا ما وجدناه فی كتابه مذكوراً مطلقاً وليس فی واحد من الصحيحين ولانص على صحته أحد ممن يميز عن الصحيح والحسن عرفناه بأنه من الحسن عند أبی داؤدؒ۔ 

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 445)

لیکن ابنِ کثیرؒ نے ابنِ صلاح کے قول پر نکتہ چینی کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سنن ابو داؤد کے نسخے زیادہ ہونے کے ساتھ ان میں کافی فرق بھی ہے، بعض نسخوں میں بعض احادیث پر کلام موجود ہے، جبکہ دوسرے نسخوں میں نہیں، اسی طرح ابو عبیدہ آجری کے سوالات کے جواب میں بعض احادیث پر انہوں نے جرح فرمائی ہے حالانکہ ان روایات میں سے کچھ سنن میں بھی موجود ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ ابنِ صلاح کے اس قول: ما سكت عنه ابو داؤد فهو حسن عنده، سے سکوت مطلق مراد ہے یا صرف سنن میں سکوت مراد ہے ابنِ صلاح نے اس کی تصریح نہیں کی ہے۔

 (اختصار علوم الحديث لابنِ كثير مع شرحه الباعث الحثيث لاحمد محمد شاکر: 34، 35)

علامہ عراقی نے اس اعتراض کا جواب یوں دیا ہے کہ امام صاحب ضعف شدید کے بیان کا اہتمام فرماتے ہیں اور یہ ہو سکتا ہے کہ سنن میں جن روایات پر انہوں نے سکوت کیا ہے اور دوسری تصانیف میں ان کو ضعیف قرار دیا ہے، ان میں ضعف شدید نہ ہو۔

(دیکھیے محولہ بالا)

علامہ سیوطیؒ نے فرمایا ہے کہ یہاں صالح سے مراد صالح للاحتجاج ہے جو صحیح اور حسن دونوں کو شامل ہے، لیکن احتیاطاً حسن مراد لیا جائے گا یا اس سے صالح للاعتبار مراد ہے تو اس صورت میں حدیث ضعیف کو بھی شامل ہوگا۔

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 168) 

محقق کوثری نے بھی انہی دو احتمالات کو بیان فرمایا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

فهو صالح اى للاعتبار أو للحجة، وتعيين أحدهما تابع للقرينة القائمة كما هو شان المشترك وادعاء أنه صالح للحجة تقويل لأبی داؤد مالم يقله۔

(دیکھیے تعلیقات استاد عبد الفتاح ابو غده بر اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 51)

ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ بعض نسخوں میں فهو صالح کے بجائے فهو حسن ہے۔

(اختصار علوم الحدیث: 34) اور حافظ صاحب فرماتے ہیں: فهذه النسخة إن كانت معتمدة فهو نص فی موضع النزاع فيتعين المصير إليه۔

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 432)

بعض حضرات نے کہا ہے کہ بظاہر یہ ایک روایت شاذہ ضعیفہ ہے اور صیح روایت فهو صالح ہے جیسا کہ امام صاحب کے خط میں موجود ہے۔ 

(دیکھیے تعلیقات استاد عبد الفتاح ابوغده بر اعلاء السنن: جلد،1 صفحہ، 51) 

اس سلسلے میں حافظ صاحب کا قول بہت ہی لطیف اور تحقیقی ہے۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے: النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 435) 

وہ فرماتے ہیں کہ امام ابو داؤدؒ کے قول وما كان فی كتابی من حديث فيه وهن شديد فقد بينته کا مطلب یہ ہے کہ وہ ومن ضعیف کے بیان کا التزام نہیں فرماتے، لہٰذا جن روایات پر سکوت فرماتے ہیں وہ سب حسن اصطلاحی کے قبیل میں سے نہیں، بلکہ ان کی مختلف نوعیت ہو گی۔

1: بعض تو وہ ہیں جو صحیحین میں موجود ہیں۔

2: بعض اگر چہ صحیحین میں نہیں لیکن شرط صحت پر پوری اترتی ہیں۔

3: بعض حسن لذاتہٖ ہیں۔

4: بعض حسن لغیرہٖ ہیں۔

5: بعض ضعیف ہیں لیکن ان رواۃ سے مروی ہیں جن کے ترک پر اجماع نہیں، مثلاً عبداللہ بن محمد بن عقیل متوفی 140ھ کے بعد۔

صفحہ 5 از 9