تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 9

سننِ ابو داؤدؒ مطبوعہ بیروت کے مقدمہ میں ہے کہ یہ سن 35 کتابوں پر مشتمل ہے، تین کتابوں میں باب قائم نہیں کیا گیا ہے، باقی کتابوں میں 1871 باب ہیں اور کل احادیث 5274 ہیں اور یہ تعداد امام ابو داؤدؒ کی بیان کردہ تعداد روایات سے زیادہ اس لیے ہے کہ سننِ ابو داؤد کے نسخے تعداد روایات میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ بعض احادیث مکرر بھی ہیں، ہو سکتا ہے کہ جو تعداد امام ابو داؤدؒ نے بتائی ہے کسی ایک نسخہ کی روایات غیر مکررہ کی ہو۔

منتخبات:

امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجموعہ احادیث میں سے چار احادیث انسان کے دین اور فلاح و کامیابی کے لیے کافی ہیں انما الاعمال بالنيات

(أخرجه ابو داود فی الطلاق: باب فيما عنى به الطلاق والنيات: جلد، 1 صفحہ، 300)

 من حسن اسلام المر تركه ما لا يعنيه

(اخرجه الترمذى في جامعه فی كتاب الزهد وابن ماجه فی كتاب الفتن)

لا يكون المؤمن مؤمنا حتى يرضى لأخيه ما يرضى لنفسه۔

(بعض حضرات نے اس کی جگہ ازهد فی الدنيا يحبك الله کو ذکر کیا ہے۔ اخرجه ابن ماجه فی السنن فی كتاب الزهد)

 الحلال بين والحرم بين، وبين ذلك أمور مشتبهات۔ 

(اخرجه البخاری فی الصحيح فی كتاب الايمان باب فضل من استبرأ لدينه: وفی كتاب المساقاة باب الحلال بين والحرام بين ومسلم فی الصحيح فی كتاب المساقاة باب أخذ الحلال وترك الشبهات)

لیکن علامہ ذہبی کو ان کی اس بات پر اشکال ہے اور وہ فرماتے ہیں: ھذا ممنوع بل يحتاج المسلم الى عدد كثير من السنن الصحيحة مع القرآن۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 210)

حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ ان کے رد میں فرماتے ہیں کہ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ شریعت مطہرہ على صاحبها الصلاة والسلام کے قواعد کلیہ اور احکام مشہورہ کا علم حاصل ہو جانے کے بعد دوسرے اخلاقی و اصلاحی مسائل میں کسی مجتہد کی ضرورت نہیں رہتی، اس لیے کہ حدیث انما الاعمال بالنيات تمام عبادات و اعمال کی درستگی کے لیے کافی ہے اور دوسری حدیث سے وقت عزیز کی اہمیت اور حفاظت کی تاکید ظاہر ہوتی ہے، حدیث لا يكون المؤمن مؤمنا سے حقوق العباد کی رعایت اور پاسداری معلوم ہوتی ہے اور چوتھی حدیث تقویٰ و تشرع کی حفاظت اور اختلاف علماء کے حل کے لیے بہترین نسخہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہی چیز میں نجات کی کنجی ہیں۔

(بستان المحدثین: 282)

 حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہ نے اوجز المسالک میں جامع اصول الاولیاء کے حوالے سے فرمایا کہ امام ابو داؤدؒ سے پہلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نے بھی اپنے صاحبزادے حماد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پانچ احادیث کو اپنی بنیاد بناؤ جن کو میں نے پانچ لاکھ احادیث سے منتخب کیا ہے، چار وہی ہیں جن کو امام ابو داؤدؒ نے ذکر فرمایا ہے اور ایک حدیث المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ ہے حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے امام ابو داؤدؒ نے اس حدیث کو تیسری حدیث یعنی لا يكون المؤمن مؤمنا میں داخل فرمایا ہو کہ دونوں کا مضمون ایک ہے تو لہٰذا التعداد چار ہو گئی (اوجز المسالک: جلد، 14 صفحہ، 122 کتاب ما جاء فی حسن الخلق)

شرائط و خصوصیات:

1: ان احادیث کی تخریج جو صحیح علی شرط الشیخین ہوں۔

(شروط الائمه الستة مطبوع مع سفن ابنِ ماجه: صفحہ، 70)

2: ان رواۃ کی احادیث جن کے ترک پر اجماع نہ ہو۔

(مختصر سنن ابی داؤد للمنذری: صفحہ، 8)

3: موضوع، مقلوب یا مجہول روایت کو نہیں لیتے مگر بوقتِ ضرورت مثلاً اس باب سے متعلق کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو یا خصم کی دلیل بیان کر کے اس پر جرح وغیرہ کرنی ہو، البتہ انہوں نے یہ التزام کیا ہے کہ اکثر مواضع میں اس حدیث کا سقم بیان کرتے ہیں۔

(معالم السنن للخطابی مطبوع مع مختصر سنن ابی داؤد: صفحہ، 11)

4: رواۃ کے طبقات خمسہ میں سے طبقہ اولیٰ، ثانیہ اور ثالثہ کی احادیث کو بالاستیعاب لاتے ہیں اور کبھی طبقہ رابعہ کی احادیث کو متابعات میں ذکر کرتے ہیں۔

(شروط الائمه الخمسه مطبوع مع سننِ ابن ماجہ: صفحہ، 80)

امام ابو داؤدؒ نے اہلِ مکہ کی درخواست پر ان کو ایک خط لکھ کر اس میں اپنی کتاب میں روایات کی نوعیت بیان فرمائی ہے۔ 

(خط کے تفصیلی مندرجات کے لیے دیکھیے: مقدمہ بذل المجهود: صفحہ، 35) 

اس خط میں وہ لکھتے ہیں: ذکرت فیه الصحيح وما يشبهه ويقاربه ومافيه وهن شديد بينته، وما لا يفهم منه وما بعضه اصح من بعض۔

صدیق حسن خان اس عبارت کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس میں حدیث کے ان اقسام کی طرف اشارہ ہے جو سنن ابو داؤد میں موجود ہیں۔

1: الصحیح یعنی صحیح لذاتہٖ 

2: ما يشبهه يعنى صحيح لغيرهٖ

3: ما يقاربه يعنى حسن لذاتهٖ

4: مافيه وهن شديد یعنی قم بیان کرنے کے بعد

5: ما لا يفهم منه يعنى جس میں وطن شدید نہ ہو جب تک اس کا کوئی مؤید نہ ہو 

6: اگر اس کی کوئی مؤید حدیث مل جائے تو وہ حسن لغیرہ بن جائے گی۔ 

(المحطة فی ذکر صحاح الستہ: صفحہ، 253)

5: امام ابو داؤدؒ کی عادت ہے کہ وہ اقدم کی روایت کو احفظ پر ترجیح دیتے ہیں چنانچہ اہلِ مکہ کی طرف ارسال کردہ خط میں لکھتے ہیں: فاعلموا أنه كذلك كله إلا أن يكون قدروى من وجهين إحدهما أقوى إسناداً، والآخر صاحبه أقدم فی الحفظ، فربما كتبت ذلك۔

6: کبھی طویل حدیث کو مختصر بیان کرتے ہیں تاکہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔

7: اختصار کے پیشِ نظر ترجمۃ الباب ثابت کرنے کے لیے ایک ہی حدیث پر اکتفا فرمایا کرتے ہیں اور کسی باب میں اگر ایک سے زیادہ حدیث لاتے ہیں تو کسی خاص فائدہ کے لیے اس خط میں ہے: وإذا أعدت الحديث فی الباب، من وجهين او ثلاثة مع زيادة كلام فيه، وربما فيه كلمة زائدة على الحديث الطويل لانی لو كتبته بطوله لم يعلم بعض من سمعه ولا يفهم موضع الفقه منه، فاختصرته لذلك۔

8: علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسئلے میں احادیث متعارض ہوں تو ایک باب قائم کرنے کے بعد دوسرے باب میں امام ابو داؤدؒ معارض حدیث کی تخریج کرتے ہیں۔ (شروط الأئمة الستة: صفحہ، 70 و شروط الأيمة الخمسة: صفحہ، 83 مطبوعه مع سنن ابنِ ماجه)

9: اقاویل ابو داؤدؒ بھی ان خصوصیات میں سے ہیں جس میں امام صاحب منفرد ہیں، مختصر اور بہترین انداز میں کبھی الفاظ حدیث میں رواۃ کے اختلاف یا تعدد طرق کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔

صفحہ 4 از 9