تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 9

ابو عبداللہ بن مندہ کہتے ہیں: جن حضرات محدثین نے احادیث صحیحہ اور غیر صحیحہ کی نشاندہی کی ہے وہ چار ہیں امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ابو داؤدؒ اور امام نسائیؒ (تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 172، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 365) 

ابوبکر خلال کا بیان ہے: ابو داؤد الإمام المقدم فی زمانه، رجل لم يسبقه إلى معرفته بتخريج العلوم، ونصره بمواضعه أحد فی زمانه۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 364، البدايہ والنہایہ: جلد، 2 صفحہ، 592 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 211)

ایک دن دورانِ درس ایک ساتھی آپ کے پاس آیا اور آپ سے قلم کی روشنائی مانگی استمد من هذه المحبرة؟ کیا اس دوات سے استفادہ کر سکتا ہوں؟ امام صاحب نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: جو اپنے بھائی کے مال کو اجازت لے کر استعمال کرنا چاہے تو وہ شرم کے مارے محروم رہ جاتا ہے اس دن سے آپ کو دانشمند کہا جانے لگا۔

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405)

 بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ امام ابو داؤدؒ خصائل و شمائل میں امام احمد بن حنبلؒ کے مشابہ تھے اور امام احمد بن حنبلؒ وکیعؒ کے اور وہ حضرت سفیان ثوریؒ کے اور وہ امام منصورؒ کے اور وہ ابراہیم نخعیؒ کے اور وہ علقمہؒ کے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جناب رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے 

(البدايہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 55، تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 592 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212)

 اور امام ابو داؤدؒ کے لیے سب سے زیادہ قابلِ فخر بات یہ ہے کہ ان کے استاد احمد بن حنبلؒ بھی ان سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں، قال الحافظ ابن كثير: هو مارواه أبوداؤد من حديث حماد بن سلمة عن أبی معشر الدارمی عن أبيه أن رسول اللهﷺ سئل عن العتيرة فحسنها (البدايہ والنہایہ: جلد، 1 صفحہ، 55، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 364، تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171) 

امام ابو داؤدؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں امام احمد بن حنبلؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں ابو جعفر بن ابی سمیہ بھی موجود تھے، امام صاحب نے ابوجعفر سے فرمایا کہ ابو داؤد کے پاس ایک غریب حدیث ہے اس سے لکھ لو تو میں نے ابوجعفر کو بھی لکھوائی۔

(تاریخ بغداد: جلد، 9 صفحہ، 57)

امام ابوداؤد رحمۃاللہ بحیثیت فقیہ:

امام ابو داؤد رحمۃاللہ علم حدیث میں مہارت تامہ کاملہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے بڑے فقہاء میں سے بھی تھے، ابنِ خلکان فرماتے ہیں کہ شیخ ابو اسحاق شیرازیؒ نے امام صاحب کا نام طبقات الفقہاء میں ذکر کیا ہے

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404)

 اسی طرح ابو حاتم بن حبانؒ کا بیان ہے: ابو داؤدؒ أحد أيمة الدنيا فقها۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212) 

علامہ ذہبیؒ سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں: کان أبوداؤد مع إمامته فی الحديث وفنونه من كبار الفقهاء فكتابه يدل على ذلك۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 215)

مسلک:

امام ابو داؤدؒ کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ وہ حنبلی ہیں، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: وهو من نجباء أصحاب الإمام احمد لازم مجلسه مدة (سیر: جلد، 13 صفحہ، 215) 

ابنِ ابی یعلیٰؒ نے ان کو طبقات الحنابلہ میں ذکر کیا ہے۔ 

(ماتمس اليه الحاجة: صفحہ، 26)

اسماعیل پاشا بغدادیؒ نے ہدیۃ العارفین میں ان کو جنبلی لکھا ہے۔

(ہدية العارفين: جلد، 1 صفحہ، 395) 

علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے بھی ان کو حنبلی قرار دیا ہے۔ 

(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58 العرف الشذی: 2)

 ابنِ خلکانؒ نے فرمایا ہے کہ ابو اسحاق شیرازیؒ نے اپنی تصنیف طبقات الفقہاء میں آپ کو احمد بن حنبلؒ کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ 

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404) 

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے بھی اس کو اختیار کیا ہے۔

(مقدمہ لامع الدراری: صفحہ، 71 )

 تاج الدین سبکی اور نواب صدیق حسن خان نے ان کو شافعی کہا ہے (ما تمس اليه الحاجة لمن يطالع سنن ابن ماجه: صفحہ، 25، 26) 

ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ مجتہد مطلق ہیں (یہ ابنِ تیمیہؒ کا قول ہے، دیکھیے توجیہ النظر: صفحہ، 185) 

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وہ مجتہد منتسب الی احمد و اسحاق ہیں

 (یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ کا قول ہے دیکھیے، ماتمس الیہ الحاجة: صفحہ، 26)

 بعض متاخرین کے نزدیک یہ اہلِ حديث ہيں ليس بمجتهد ولا هو من المقلدين۔ 

(ماتمس اليه الحاجة: صفحہ، 27)

 البتہ سنن ابی داؤد کے مطالعہ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ رائج پہلا قول ہے، اس لیے کہ بہت سے مسائل میں امام ابو داؤدؒ نے ثابت و معروف روایات کے مقابلہ میں ان روایات کو اختیار فرمایا ہے جو امام احمدؒ کی تأیید میں ہیں۔

تالیفات:

امام صاحب نے اپنی زندگی میں مختلف کتابیں تصنیف فرمائی ہیں، جن کی فہرست درج ذیل ہے:

1: مراسیل

2: الرد على القدرية

3: الناسخ والمنسوخ 

4: التفرد ما تفرد بہ اہل الامصار 

5: فضائل انصار

 6: مسند مالک بن انس 

7: المسائل 

(یہ ان سوالات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اصول و فروع کے متعلق امام احمد سے کئے ہیں)

 8: كتاب الزهد

 9: دلائل النبوة

 10: كتاب الدعاء

 11: ابتداء الوحی 

12: اخبار الخوارج 

(تہذیب التہذیب: 1، 6، 4، 170، تقریب التہذیب: صفحہ، 76 هدية العارفین: جلد، 5 صفحہ، 395) 

13: کتاب البعث 

14: تسمية الاخوان 

(الاعلام: جلد، 3 صفحہ، 122)

 اور ان کی کتاب 

15: السنن تو شہرہ آفاق ہے ہی۔

زمانہ تألیف:

یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ امام صاحبؒ سنن کی تالیف سے کس سنہ میں فارغ ہوئے اس لیے کہ اس سلسلے میں کوئی صریح عبارت نہیں ملتی، البتہ اتنی بات یقینی ہے کہ امام صاحب نے تالیف کے بعد اپنی کتاب امام احمد بن حنبلؒ کے سامنے پیش کی تھی اور امام صاحب نے اسے بہت پسند فرمایا تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 363)

امام احمد بن حنبلؒ کا سن وفات 241ھ ہے، اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام صاحبؒ 39 سال کی عمر میں سنن کی تالیف سے فارغ ہوئے تھے۔

تعداد روایات:

امام ابو داؤدؒ اپنے رسالے میں فرماتے ہیں کہ میں نے پانچ لاکھ احادیث کے مجموعہ سے چار ہزار آٹھ سو (4800) احادیث کا انتخاب کر کے سنن کو ترتیب دیا ہے۔

صفحہ 3 از 9