تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 9

آپؒ کے تلاندہ میں امام ترمذیؒ اور امام نسائیؒ سر فہرست ہیں، امام نسائیؒ کتاب الکنی میں امام ابو داؤدؒ سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح سلیمان بن حرب نفیلیؒ، عبدالعزیز بن یحییٰ المدنی علی بن المدینیؒ، عمرو بن عونؒ، مسلم بن ابراہیمؒ، ابوالولید طیالسیؒ کے طریق سے امام نسائیؒ ابوداؤدؒ کی روایت لاتے ہیں اور ظاہراً ان تمام روایات میں امام ابوداؤدؒ سے مراد صاحبِ سنن، امام ابوداؤدؒ سجستانی ہی ہیں، اگرچہ امام نسائیؒ عموماً ابو داؤد سلیمان بن یوسف عبداللہ حرانیؒ سے روایت کرتے ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 207، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 361، تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171)

 ان کے علاوہ امام ابو داؤدؒ کے صاحبزادے ابو بکر بن ابی داؤدؒ بھی اپنے والد ماجد سے اور اپنے چچا محمد سے روایت کرتے ہیں۔

(دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 206، 221)

 ابوبکرؒ اپنے زمانے کے بڑے محدثین میں سے تھے، علامہ ذہبیؒ میزان الاعتدال میں ان کو الحافظ الشقہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں، امام ابو داؤدؒ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: ابنی عبدالله کذاب علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: وأما كلام أبيه فيه فلا أدرى أيش تبين له منه۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 228، میزان الاعتدال:جلد، 2 صفحہ، 433)

صاحبزادہ کے علاوہ ابن الاعرابی اور ابنِ دامسہ بھی امام صاحب کے ان تلامذہ میں سے ہیں جو اپنے فن میں انتہاء اور کمال کو پہنچے، ہم ان حضرات کے مختصر حالات سنن ابو داؤد کے رواۃ میں بیان کرینگے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

وفات:

امام ابو داؤدؒ ابنِ خلیفہ کی درخواست پر بصرہ تشریف لے گئے

(اس پر تفصیلی بحث آگے آئے گی) 

اور وہیں رہائش پذیر ہوئے اور 16 شوال 275ھ میں انتقال فرما گئے۔ 

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 367، سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 221، تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 593 وفيات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405) 

انتقال سے پہلے انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے حسن بن مثنیٰؒ غسل دیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو سلیمان بن حربؒ کی کتاب سے سمجھ کر غسل دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 173) 

نماز جنازہ عباس بن عبدالواحد نے پڑھائی۔ 

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 367، تاریخ بغداد: جلد، 9 صفحہ، 59) 

اور حضرت سفیان ثوریؒ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے۔ 

(البدايہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 55)

زہد و تقویٰ اخلاق و عادات اور امام ابو داؤد رحمۃاللہ کی شخصیت دوسرے علماء کی نظر میں:

امام صاحبؒ ہمیشہ پر تکلف زندگی سے دور اور سادگی کے خوگر تھے، کہا جاتا ہے کہ قمیص کی ایک آستین کو کشادہ، اور دوسری کو تنگ رکھا کرتے تھے، اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا گشادہ آستین میں اپنے کاغذات رکھتا ہوں اور دوسری کو کشادہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ 

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405، تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 593) 

ایک مرتبہ سہل بن عبد اللہ 

(یہ ابومحمد سہل بن عبداللہ بن یونس تستری ہیں جو اکابر صوفیاء میں سے تھے، حج کے موقع پر ذوالنون مصری سے ملاقات کر کے ان کی صحبت سے مستفید ہوئے دیکھیے۔ شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 182، وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 429، سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 230)

 آپ کے پاس آئے اور کہا مجھے آپ سے کام ہے اگر پورا کرنے کا وعدہ کریں تو بتاؤں گا فرمایا: قد قضيتها مع الامکان ممکن ہوا تو پورا کروں گا، کہا میں چاہتا ہوں کہ جس زبان مبارک سے آپ حدیثِ رسول اللہﷺ پڑھتے ہیں اسے بوسہ دوں، چنانچہ آپ نے زبان باہر نکالی اور انہوں نے بوسہ دیا۔

 (سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 214، وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404، مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 23، تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 172، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 366) 

آپ کے خادم ابوبکر بن جابرؒ کا بیان ہے کہ میں امام صاحب کے ساتھ بغداد میں تھا، مغرب کی نماز ہو چکی تھی کہ ابو احمد الموفق۔ 

(هو ولى عهد المؤمنين، الأمير المؤفق، أبو أحمد طلحة بن جعفر المتوكل على الله ومنهم من سماه محمداً ولد 229ھ ومات 287 تاریخِ بغداد: جلد، 2 صفحہ، 127 سير أعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 169 شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 182) 

آپ کے پاس آیا امام صاحب نے فرمایا: اس وقت کس کام کے لیے آنا ہوا؟ کہا تین درخواستیں لے کر حاضر ہوا ہوں، فرمایا وہ کونسی؟ کہا ایک تو یہ کہ آپ بصرہ تشریف لائیں تا کہ بصرہ اور قرب و جوار کے اہلِ علم آپ سے علمی استفادہ کر سکیں، فرمایا منظور ہے، کہا دوسری یہ کہ آپ میری اولاد کو سننِ ابو داؤد پڑھائیں، فرمایا کہ یہ بھی منظور ہے، کہا تیسری یہ کہ میری اولاد کے لیے الگ مجلس درس رکھیں، امام صاحب نے فرمایا کہ یہ منظور نہیں، کیونکہ تحصیل علم میں سب برابر ہوتے ہیں۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212، مقدمه تحفة الاحوذی: صفحہ، 24) 

محمد بن اسحاق صاغانی اور ابراہیم حربی کہتے ہیں: لما صنف ابو داود كتاب السنن ألين لابی داؤد الحديث كما ألين لداؤد الحديد۔ (تہذیب التہذیب: جلد، 2 صفحہ، 172، سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212، تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 593، البدايۃ والنہايۃ: جلد، 11 صفحہ، 55)

اسی مضمون کو حافظ ابو طاہر سلفی شعر کے پیرایہ میں یوں بیان کرتے ہیں:

لان الحديث وعلمه بكماله

لامام اهله أبی داؤد

مثل الذی لان الحديد

لنبی اهل زمانه داؤد 

(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 64)

محمد بن مخلد کا بیان ہے کہ جب امام صاحب نے سنن کی تصنیف فرمائی تو قرآن کی طرح آپ کی کتاب بھی مرجع تقلید بن گئی

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ 212، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 365) 

حافظ موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں: خلق أبوداؤد فی الدنيا للحديث، وفی الآخرة للجنة۔

(دیکھیے محولہ بالا) 

ابو عبد اللہ حاکم نے امام صاحب کے بارے میں کہا: آپ بغیر کسی نزاع کے اپنے زمانے میں علم حدیث کے امام ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212، تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 592)

صفحہ 2 از 9