سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دلوانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 2

یہ الاغانی کتاب کا مصنف ہے اور شیعہ ہے اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں اور ایسی روایات نقل کی ہیں جن کی صفت نہیں بیان کی جاسکتی خطیب بغدادیؒ نے اپنی سند سے شیخ ابو محمد حسن بن حسین کا قول نقل کیا کہ ابو الفرج سب سے بڑا جھوٹا تھا۔

(میزانُ الاعتدال (اردو)، جلد 5 ، صحفه 168)۔

معلوم ہوا کہ ابو الفرج بھی شیعہ اور کذاب ہے اس لئے اس کی کتاب کی کسی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے ہر گز استدلال جائز نہیں۔

چوتھی روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی چوتھی روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

حدثنی احمد بن عبيد الله بن عمار قال حدثنا عيسىٰ بن مہران قال حدثنا عبيد بن الصباح الخزاز قال حدثنی جرير عن مغيره قال۔

متن: مغیرہ کہتے ہیں سیدنا امیر معاویہؓ نے جعدہ کی طرف پیغام بھیجا کہ اگر تم سیدنا حسنؓ کو زہر دے دو گی تو تم کو ایک لاکھ درہم دوں گا اور اپنے بیٹے یزید سے تمہاری شادی کر دوں گا تو ( جعدہ نے) سیدنا حسنؓ کو زہر دے دیا تو (سیدنا امیر معاویہؓ نے) اس کو مال دے دیا لیکن یزید سے اس کی شادی نہیں کروائی۔

( مقاتلُ الطالبین لابی الفرج الاصفهانی (عربی) صحفہ 80)

یہ روایت مؤرخ بلخی نے بھی اسی حوالے سے کتاب البداء والتاریخ (عربی) جلد 2 صحفہ 238 پر نقل کی ہے۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت میں چار علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی عبید بن الصباح ضعیف ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔

امام ابوحاتمؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے (پھر اس کی نقل کردہ منکر روایات میں سے ایک کا ذکر کیا)۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 ، صحفه 56)۔

دوسری علت: اس روایت کا راوی احمد بن عبیداللہ بن عمار یہ شیعہ ہے اور شیعہ کے اکابرین میں سے ہے اس کا ترجمہ پچھلی روایت کے تعاقب میں گزر چکا ہے۔

تیسری علت: اس روایت کا راوی عیسیٰ بن مہران کذاب اور شیعہ ہے اس کا ترجمہ بھی پچھلی روایت کے تعاقب میں گزر چکا ہے۔

چوتھی علت: اس کتاب مقاتلُ الطالبین کا مصنف علی بن حسین ابوالفرج الاصفہانی بھی شیعہ اور کذاب ہے اس کا ترجمہ بھی سابقہ روایت کے تعاقب میں ملاحظہ فرمائیں۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے استدلال درست نہیں اور اس بارے میں کوئی ایک روایت بھی صحیح سند سے ثابت نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ سیدنا حسنؓ کو زہر سیدنا امیر معاویہؓ نے دلوایا اس لئے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض کرنا ایک الزام سے زیادہ کچھ نہیں۔

اور اس اعتراض کا رد کرتے ہوئے امام ذھبیؒ فرماتے ہیں

میں (ذھبیؒ) کہتا ہوں یہ بات صحیح نہیں (کہ سیدنا معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ بھی کو زہر دلوایا) اور ابات پر کون مطلع ہوسکا ہے؟ (کہ کس نے ان کو زہر دلوایا)۔

(تاریخ الاسلام للذہبي (عربی) جلد 4 صحفہ 40)

علامہ ابنِ کثیر بھی اس اعتراض کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:

'میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں کہ یزید نے سیدنا حسنؓ کو زہر دلوایا اور اس کے والد سیدنا معاویہؓ کے بارے میں یہ کہنا بطریق اولیٰ صحیح نہیں ہے۔

(البدایہ والنہایہ (عربی) جلد 11 صحفہ 209)۔

اس لئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کو زہر دلوایا کسی صورت درست نہیں۔


صفحہ 2 از 2