تعارف امام مسلم رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مسلم رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 6 از 6

امام مسلمؒ چونکہ استنباط مسائل سے تعرض نہیں کرتے اس لیئے آثارِ موقوفہ اور تعلیمات بہت ہی شاذ و نادر ملتے ہیں اور وہ بھی تبعاً و استشہاداً بخلاف امام بخاریؒ کے۔

6: ضبط اسماء: 

امام بخاریؒ سے کبھی اہلِ شام کی روایات میں تسامح ہو جاتا ہے اور ایک ہی راوی کے نام و کنیت کو دو آدمی سمجھ لیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اہلِ شام کی روایات بطریقِ منقولہ ملی ہیں امام مسلمؒ کو یہ مغالطہ نہیں ہوتا۔ 

( تذکرۃالحفاظ: جلد، 2 صفحہ 589)

7:روایت باللفظ:

امام صاحبؒ نے چونکہ اپنی کتاب اپنے شہر میں تصنیف کی اور اس وقت ان کے بہت سے شیوخ زندہ تھے اس لیے الفاظ کے سیاق و سباق میں نہایت غور و فکر سے کام لیا ہے اور روایت بالمعنیٰ کے بجائے روایت بالفظ فرماتے ہیں امام بخاریؒ نے چونکہ اپنی کتاب کی تصنیف مختلف بلاد و امصار میں فرمائی ہے اور اکثر و بیشتر اپنے حافظہ پر اکتفاء فرمایا ہے جس سے بعض مرتبہ استاد کے الفاظ چھوٹ جاتے ہیں (امام بخاریؒ فرماتے ہیں رب حدیث سمعتہ بالبصرۃ کتبتہ بالشام ورب حدیث سمعتہ بالشام کتبتہ بالمصر، تاریخِ بغداد: جلد، 2 صفحہ، 11 النکت علی ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 283)

8: احادیث کے بعض مجموعے: 

ایسے ہیں جن میں ایک ہی سند سے کئی روایات ہیں جیسے صحیفہ ہمام مام بن منبہ وغیرہ اس میں سے حدیثِ اول کے علاوہ کوئی دوسری حدیث روایت کرنی ہو تو اس کے لیے محدثین کے یہاں دو طریقے ہیں ایک یہ کہ جب پہلی حدیث کے ساتھ سند بیان کر دی جائے تو باقی احادیث میں سند بیان کرنے کی ضرورت نہیں فقط بالاسناد السابق کہنا کافی ہے عموماً عمل اسی پر ہے اور وکیع بن جراح یحییٰ بن معین ابوبکر اسماعیلی رحہم اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے دوسرا احوط طریقہ یہ ہے کہ ہر حدیث کے ساتھ سند بیان کی جائے ابو اسحاق اسفرائینی جو اصولِ حدیث کے مسلم امام ہیں اسی کو ترجیح دیتے ہیں امام مسلمؒ نے بھی اسی احوط طریقہ کو اختیار فرمایا ہے مثلاً حدثنا محمد بن رافع حدثنا عبد الرزاق اخبرنا معمر عن ہمام بن منبه قال هذا ما حدثنا ابو هريره وذكر احاديث منها وقال رسول اللهﷺ اول زمرة تلج الجنة صورهم على صورة القمر ليلة البدر۔ 

(صحیح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 379 کتاب الجنہ وصفت نعیمھا واھلھا)

  اس باب میں امام بخاریؒ کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی صحیفے سے روایت لانا چاہتے ہیں تو پہلے اس صحیفے کی حدیث اول مع سند بیان کرتے ہیں پھر اپنے مقصد کی حدیث لاتے ہیں تو دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ ان دونوں احادیث میں کیا ربط ہے بات وہی ہے کہ پہلی حدیث سے دوسری حدیث کی سند کی طرف اشارہ ہے۔


صفحہ 6 از 6