تعارف امام مسلم رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مسلم رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 5 از 6

یہ طے شدہ بات ہے کہ امام صاحب رحمۃاللہ علیہ نے صحیح کے لیے تراجم قائم نہیں فرمائے اس وجہ سے کہ کہیں حجم کتاب زیادہ نہ ہو جائے یا یہ مقصد تھا کہ کتاب کے اندر سوائے صحیح احادیث کے کوئی خارجی بات نہ آئے۔

علامہ نووی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کے امام مسلم رحمۃاللہ نے اگرچہ تراجم قائم نہیں فرمائے لیکن تراجم کا لحاظ کرتے ہوئے صحیح کی ترتیب دی ہے چنانچہ بعد کے آنے والے اہلِ علم حضرات نے تراجم قائم کرنے کی کوشش کی ہے جن میں بعض مناسب اور بعض غیر مناسب ہیں علامہ نووی رحمۃاللہ نے یہ بھی فرمایا کے میں بہتر تراجم قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔

(دیکھیے شرح نووی مطبوع مع الصحیح: جلد، 1 صفحہ، 15)

لیکن علامہ عثمانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کے اس جلیل القدر امام کے شایان شان تراجم قائم نہیں کئے جاسکے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو اس کی توفیق دے تاکہ کما حقہ تراجم کرے۔

(فتح الملہم: جلد، 1 صفحہ، 278)

کیا صحیح مسلم جامع ہے؟:

جامع اصطلاح محدثین میں حدیث کی اس کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں اصناف ثمانیہ موجود ہوں جنہیں علامہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ نےاس شعر میں جمع کردیا ہے۔

سیر وآداب ، تفسیر وعقائد

رقاق واحکام ، اشراط ومناقب

(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 18)

اس تعریف کے پیشِ نظر حضرت مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃاللہ نے فرمایا کہ مسلم کو جامع نہیں کہا جائے گا اس لیے کہ اس میں تفسیری روایات بہت کم ہیں۔ 

(عجالہ نافعہ: صفحہ، 158) 

ان کے مقابلے میں مؤلف قاموس مجد الدین شیرازی (متوفی 806ھ یا 807) استاد ابنِ حجر نے صحیح کو جامع کہا ہے اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں:

ختمت بحمدللہ جامع مسلم 

بجوف دمشق الشام جوف الاسلام

(دیکھیے مقدمہ تاج العروس: جلد، 1 صفحہ، 14 منشورات دار مکتبۃ الحیاۃ بیروت)

ملاعلی قاری رحمۃاللہ نے بھی مشکوٰۃ میں مسلم کو جامع کہا ہے لکھتے ہیں۔

ولہ مصنفات جلیلۃ غیر جامعہ۔

(مرقاۃ المفاتیح: جلد، 1 صفحہ، 17 ملتان، پاکستان)

حاجی خلیفہ نے بھی کشف الظنون میں حرف الجیم میں مسلم کو جامع لکھا ہے الجامع الصحیح للامام الحافظ ابی الحسین مسلم بن الحجاج۔ 

(کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 555)

علامہ شبیر احمد عثمانی اور نواب صدیق حسن خان نے نے بھی حضرت شاہ صاحب کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلم جامع ہے۔ 

(الحطۃ: صفحہ، 72 فتح المہلم: جلد، 1 صفحہ، 294)

باقی قلتِ روایات تفسیریہ کا ایک جواب یہ ہے کہ روایات تفسیریہ کم ہی ہیں اور بخاری میں جو بظاہر زیادہ نظر آتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بخاری میں تکرار احادیث اور اقوال لغویہ بکثرت موجود ہیں اسی طرح آثار موقوفہ بھی کافی ہیں جن سے امام مسلم رحمۃاللہ بہت پرہیز کرتے ہیں۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ تفسیر میں جتنی روایات مرفوعہ مسندہ ہیں ان کی کافی تعداد مسلم میں موجود ہے البتہ وہ اپنے اپنے مقام پر پھیلی ہوئی ہیں۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ احادیثِ تفسیریہ کا کم ہونا جامع ہونے کے منافی نہیں ہے، کیونکہ جامع سفیان ثوری اور جامع سفیان بن عینیہ بالاتفاق اسلام کی اولین جوامع میں شمار کی جاتی ہیں، حالانکہ ان میں تفسیر کی روایات بہت کم ہیں علامہ کتانی لکھتے ہیں ثم جامع سفیان الثوری وسفیان بن عینیہ فی السنن والآثار وشیئ من التفسیر فھذہ الخمسۃ اول شئ وضع فی الاسلام۔

(الرسالۃ المستطرفہ: صفحہ، 9 تفصیل کے لیے دیکھیے فتح المہلم: جلد، 1 صفحہ، 293)

خصوصیات مسلم:

عموماً مصنف کی کوشش و خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کی کتاب ایسی خوبیوں سے آراستہ ہو جن سے دیگر مصنفین کی کتابیں خالی ہوں صحیح مسلم میں بھی ایسی کئی امتیازی خصوصیات ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

1: صحیح مسلم: 

سے استفادہ بہت ہی آسان ہے چونکہ امام مسلم رحمۃاللہ ہر حدیث کو اس کے مناسب مقام پر بیان فرماتے ہیں اور پھر اسی جگہ پر اس حدیث کے متعدد طرق اور مختلف الفاظ کو ذکر کر دیتے ہیں بخلاف امام بخاری رحمۃاللہ کے کہ وہ روایات میں تقدیم و تاخیر حذف و اختصار کرتے رہتے ہیں جس سے بعض مرتبہ تعقید پیدا ہوجاتی ہے۔ 

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 283 جوازِ اختصارِ حدیث کےلیے دیکھیے الباعث الحثیث: صفحہ، 121)

 2: تفاوت الفاظ کی نشاندہی:

یعنی اگر کسی کے پاس کوئی روایت دو یا اس سے زیادہ راویوں سے پہنچی ہے جس کا مضمون ایک لیکن الفاظ مختلف ہوں تو اس کے لیے جائز ہے کہ دونوں کو ایک سند میں جمع کر کے ایک راوی کے الفاظ کو بیان کرے لیکن بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس سند سے جو لفظ سنا ہے اس کی تعیین کرے امام مسلمؒ نے اسی افضل صورت کو اختیار کیا ہے مثلاً فرماتے ہیں حدثنا فلان و فلان و اللفظ لفلان۔ 

 3: دفع التباس: 

کبھی یہ ہوتا ہے کہ ایک طبقہ میں ایک ہی نام کے متعدد راوی ہوتے ہیں تو امتیاز کے لیے نسب یا نسبت کا اضافہ کرنا پڑتا ہے کبھی کسی لفظ کی تشریح کی ضرورت پڑتی ہے شیخین (بخاری و مسلم) نے اس بات کا التزام کیا ہے چنانچہ روایت نقل کرتے وقت وہ ایسے لفظ کا اضافہ کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ توضیح و تشریح ان کی طرف سے ہے شیخ کے الفاظ نہیں ہیں مثلاً حدثنا عبداللہ بن سلمۃ حدثنا سلیمان یعنی ابن بلال عن یحییٰ وھو ابن سعید یعنی ابنِ بلال اور وھو ابن سعید کا اضافی اسی نکتہ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

 4: حدثنا اور اخبرنا میں فرق:

محدثین کے یہاں تدریس کے دو طریقے ہیں ایک یہ ہے کہ استاد پڑھے اور شاگرد سنے دوسرا اس کے برعکس ہے امام مسلمؒ کا مذہب یہ ہے کہ حدثنا کا اطلاق اس صورت پر ہوتا ہے جب کہ شاگرد استاد سے سنے اور اخبرنا جب کہ شاگرد استاد کو سنائے اور استاد سنے باقی اخبرنا کا اطلاق حدثنا پر یا حدثنا کا اطلاق اخبرنا پر جائز نہ ہوگا یہی مذہب ہے امام شافعیؒ ابنِ جریج اور اوزاعی ابنِ رجب اور جمہور اہلِ شرق کا امام بخاریؒ  کے یہاں یہ فرق نہیں ہے اور ان کے ساتھ زہری مالک سفیان بن عینیہ اور یحییٰ بن معین بھی ہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ شرح النووی مطبوع مع الصحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 15) بہر حال ظاہر ہے کہ کمال احتیاط امام مسلمؒ کے طریقے میں ہے۔

 5: قلت آثار وتعلیقات: 

صفحہ 5 از 6