تعارف امام مسلم رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مسلم رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 6

وجہ تالیف صحیح مسلم:

سب سے پہلے امام بخاریؒ نے احادیثِ صحیحہ کو یکجا کر کے صحیح بخاری کی تصنیف فرمائی، اس عمل کو دیکھ کر امام مسلمؒ کا بھی ارادہ ہوا کہ اسی عنوان سے دوسرے انداز میں احادیث صحیحہ کو جمع کریں، اس ارادے کو ان کے شاگرد احمد بن سلمہؒ یا ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیانؒ (علی اختلاف القولین) کی درخواست سے مزید تقویت ملی، جیسا کہ صحیح مسلم کے شروع میں مذکور ہے اور اس وقت کے حالات کا شدید تقاضا بھی یہی تھا کہ ایسی کتاب لکھی جائے، اس لیے کہ واضعین کا بازار گرم تھا اور کچھ سادہ لوح دیندار بھی ان کے ہمنوا ہو گئے تھے۔

امام بخاریؒ کا مقصود تخریج احادیث صحیحہ کے ساتھ ساتھ فقہ و تفسیر اور سیرت کا استنباط بھی تھا، اس لیے انہوں نے موقوف معلق اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ کے فتاویٰ بھی نقل کئے ہیں، لیکن امام مسلمؒ نے استنباط مسائل سے تعرض کئے بغیر احادیث صحیحہ اور ان کے مختلف طرق یکجا کرنے کو پیشِ نظر رکھا، اس وجہ سے احادیث منقطعہ وغیرہ ان کی صحیح میں شاذ و نادر ہیں۔

اہتمام تألیف:

امام مسلم رحمۃاللہ نے احادیث صحیحہ کی شناخت میں مہارت تامہ و کاملہ رکھنے کے باوجود اپنی صحیح کی تالیف میں ذاتی رائے تحقیق پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس فن کے جلیل القدر ائمہ کی آراء کو بھی پیشِ نظر رکھا، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں: لیس کل شی عندی صحیح وضعته فهنا، انما وضعت ههنا ما اجمعوا عليہ۔

(صحیح مسلم: کتاب الصلوة باب التشهد: جلد، 1 صفحہ، 417)

 یعنی میں نے اس کتاب میں ہر وہ حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہو، ذکر نہیں کی بلکہ ان احادیث کو ذکر کیا ہے جن کی صحت پر ائمہ فن کا اجماع ہو۔

امام مسلمؒ کا یہ جملہ علماء کے یہاں زیرِ بحث رہا ہے اور باعثِ تشویش بنا ہے اس لیے کہ صحیح مسلم میں کافی روایات موجود ہیں جن کی صحت میں کافی اختلاف ہے علامہ نوویؒ نے ابو عمرو بن صلاحؒ کے حوالے سے اس اشکال کے دو جواب نقل کئے ہیں۔

1: مقصد یہ ہے کہ صرف ان روایات کو ذکر کریں گے جن میں (امام مسلمؒ کے خیال کے مطابق) وہ تمام شرائط موجود ہوں جو صحت حدیث کے لیے مجمع علیہا ہیں، چاہے دوسرے حضرات کے یہاں وہ حدیث ان تمام شرائط کی حامل نہ ہو۔

2: یا یہ مراد ہے کہ انہوں نے کوئی ایسی حدیث اپنی صحیح میں ذکر نہیں کی جس میں ثقات کا نفس حدیث کے متن و سند دونوں میں اختلاف ہوا ہوتا، بعض رواۃ کی توثیق میں اختلاف سے قطع نظر 

(مقدمہ نووی: صفحہ، 5 علوم الحدیث لابن الصلاح: صفحہ، 20 دار الفکر )

لیکن ان جوابات سے زیادہ دلنشین توجیہ وہ ہے جو حضرت علامہ عثمانیؒ نے فتح الملہم میں کی ہے فرماتے ہیں کہ یہاں اجماع سے اجماع عام مراد نہیں بلکہ امام مسلمؒ کے چار شیوخ احمد بن حنبلؒ، ابو زرعہ رازیؒ، یحییٰ بن معینؒ، ابو حاتم رازیؒ کا اجماع مراد ہے۔

(فتح الملہم: جلد، 2 صفحہ، 4 وذكره فی المقدمہ أيضاً: صفحہ، 153)

لہٰذا کوئی اشکال نہیں رہا، البتہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ علامہ عثمانیؒ نے مقدمہ فتح الملہم میں ابو حاتمؒ اور ابوزرعہؒ کے بجائے عثمان بن ابی شیبہؒ اور سعید بن منصورؒ کا نام ذکر کیا ہے جو بظاہر پہلے قول سے متعارض نظر آتا ہے لیکن یہ کوئی تعارض نہیں بلکہ دونوں اقوال جمع ہو سکتے ہیں تو گویا چھ اکابر کا اجماع مراد ہو گا، علامہ سیوطیؒ نے بھی تدریب الراوی میں عثمان بن ابی شیبہ اور سعید بن منصور کے نام کے بجائے ابو حاتمؒ اور ابوزرعہؒ نقل کئے ہیں۔ 

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 98 المكتبة العلمية بالمدينة المنورة

ابن الشرقیؒ کا بیان ہے کہ میں نے امام مسلمؒ سے سنا، وہ فرمایا کرتے تھے:

 ما وضعت شيئا فی کتابی هذا المسند الابحجة وما اسقطت منه شيئا الا بحجة۔ 

(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 590)

 مکی بن عبدانؒ کہتے ہیں کہ امام مسلمؒ نے کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد اس کو حافظ ابو زرعہ کی خدمت میں پیش کیا اور جس روایت کے بارے میں کسی علت کی طرف اشارہ کیا اسے کتاب سے خارج کر دیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 528 مقدمه نووی: صفحہ، 15)

زمانہ تالیف:

احمد بن سلمہؒ فرماتے ہیں: 

كنت مع مسلم فی تأليف صحيحه خمس عشرة سنة۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 566 علامہ نوویؒ نے مقدمہ میں ست عشر سند نقل کیا ہے دیکھیے مقدمہ نووی مطبوع مع المسلم: صفحہ، 14 ہے)

پندرہ سال تک میں صحیح مسلم کی ترتیب و تالیف میں امام مسلم رحمۃاللہ کے ساتھ شریک رہا اسی طرح امام مسلمؒ کے خاص شاگرد ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیانؒ کا بیان ہے کہ 257ھ میں اس کتاب کی قرأت سے فراغت پائی۔

(دیکھیے فوائد جامعہ برعجالہ نافعہ: صفحہ، 67 رقم الترجمہ: 273 مطبوع نور محمد کتب خانہ کراچی) 

یعنی امام مسلمؒ کے انتقال سے کافی پہلے کتاب مکمل ہو چکی تھی۔

تعداد روایات:

امام مسلم رحمۃاللہ فرماتے ہیں: صنفت هذا "المسند الصحيح" من ثلث مائة الف حديث مسموعة۔

(تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 101، وفیات الاعیان: جلد، 5 صفحہ، 196 سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 565 تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589، مقدمہ نووی: صفحہ، 15)

احمد بن سلمہؒ کا قول ہے کہ اس میں بارہ ہزار حدیثیں ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 566،  تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589)

 ابو حفص میانجیؒ فرماتے ہیں کہ اس میں آٹھ ہزار احادیث ہیں، شیخ طاہر جزائریؒ اور شیخ ابنِ صلاحؒ، امام سیوطیؒ اور محی الدین نوویؒ کے نزدیک مکررات کے علاوہ بنیادی حدیثیں چار ہزار ہیں۔

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 296، تدریب الراوی: صفحہ، 104) 

حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں، کہ یہ قول قابلِ اشکال ہے۔ 

(النكت: جلد، 1 صفحہ، 296) 

لیکن در حقیقت دونوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ شمار دونوں کے نزدیک مختلف رہا ہو حال ہی میں مصر کے ایک عالم محمد فؤاد عبدالباقیؒ نے صحیح مسلم کی شروع سے آخر تک تمام احادیث پر رقم لگائے تو ان کی تعداد بغیر مکررات کے 3033 تھی۔ (دیکھیے حولہ بالا)

تراجم و ابواب:

صفحہ 4 از 6