تعارف امام مسلم رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مسلم رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 6

ابو عمرو حمدانؒ کہتے ہیں: میں نے ابنِ عقدہ سے پوچھا امام بخاریؒ احفظ ہیں یا امام مسلمؒ؟ فرمایا بھائی یہ دونوں عالم ہیں، جب میں نے کئی مرتبہ یہی سوال دہرایا تو فرمایا کہ امام بخاریؒ اہلِ شام کی احادیث میں کبھی غلطی کر جاتے ہیں، بایں طور کہ کبھی کسی راوی کا ذکر کرتے ہیں اور پھر دوسرے مقام پر اسی راوی کی کنیت ذکر فرماتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ اشخاص ہیں، جبکہ امام مسلمؒ ایسا نہیں کرتے۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 128  البدايہ والنہايہ: جلد، 1 صفحہ، 34 تاریخِ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 102، 103، جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 188 طبقات حنابلہ: جلد، 1 صفحہ، 338) 

اسحاق بن منصورؒ نے امام مسلمؒ کو دیکھ کر فرمایا: لن نعدم الخير ما ابقاك الله للمسلمین۔

 یعنی آپ کا وجود مسلمانوں کے لیے باعث خیر و برکت ہے۔

(دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 128 تذکرة الحفاظ: جلد، 2  صفحہ، 588)

بعد میں آنے والے علماء و مصنفین نے بھی انتہائی وقیع الفاظ میں امام مسلمؒ کا تذکرہ کیا ہے، چنانچہ حافظ ذہبیؒ متوفی748ھ فرماتے ہیں:

 هو الامام الكبير الحافظ المجود الحجة الصادق۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 557) 

اور اپنی دوسری تصنیف تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں: الامام الحافظ، حجة الاسلام۔ (تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 588) 

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں: انه امام لا يلحقه من بعد عصره وقل من يساويه بل يدانيه من اهل وقته و دهره۔

(مقدمہ شرح نووی: صفحہ، 12)

وفات کا المناک واقعہ:

اس بات پر تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ امام مسلمؒ کی وفات 261ھ میں ہوئی ہے ابنِ خلکانؒ لکھتے ہیں کہ آپ نے بروز یکشنبہ وفات پائی اور بروز دو شنبہ نیشاپور کے باہر نصیر آباد میں دفن کئے گئے۔

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 136)

 علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ ان کی قبر زیارت گاہ بنی ہوئی ہے۔

(تذكرة الحفاظ: جلد 2 صفحہ، 590)

کہا جاتا ہے کہ مجلس درس میں آپؒ سے کسی حدیث کے متعلق سوال کیا گیا، اتفاق سے اس وقت آپؒ کو یاد نہ آیا جب گھر تشریف لائے اُن کی خدمت میں کچھ کجھوریں پیش کی گئیں، آپؒ حدیث تلاش کرتے رہے اور خرما بھی کھاتے رہے، یہاں تک کہ حدیث مل گئی اور کھجور بھی ختم ہو گئیں، یہی واقعہ آپؒ کے وصال کا سبب بنا۔

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد 120 صفحہ 564، البدایہ والنہایہ: جلد، 1 صفحہ، 34 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 127 تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 103)

وفات کے بعد ابو حاتم رازی رحمۃاللہ نے امام مسلم رحمۃاللہ کو خواب میں دیکھا، حال پوچھا تو فرمایا! اللہ نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا ہے، جہاں چاہتا ہوں پھرتا ہوں۔ (بستان المحدثین: صفحہ، 281)

ابو علی زاغونیؒ کو کسی نے خواب میں دیکھا، پوچھا کس عمل سے آپ کی نجات ہوئی، انہوں نے صحیح مسلم کے کچھ اجزاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان کی بدولت 

(حوالہ بالا) 

امام مسلم رحمۃاللہ کا مسلک:

امام مسلم رحمہ اللہ کے مسلک کی تعیین میں اقوال علماء کافی مختلف ہیں، علامہ انور شاہ کشمیریؒ فیض الباری میں لکھتے ہیں کہ امام مسلمؒ کا مذہب معلوم نہیں ہے اور صحیح مسلم کے تراجم سے بھی ان کے مذہب کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ وہ تراجم دوسروں نے قائم کیے ہیں۔

(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58)

 اسی طرح العرف الشذی میں فرماتے ہیں: أما مسلم فلا أعلم مذهبه بالتحقيق۔ 

(العرف الشذى مطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 2) 

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ نے الانصاف میں 

(الانصاف فی بیان سبب الاختلاف: صفحہ، 79، 80) 

نواب صدیق حسن خانؒ نے الحطہ میں 

لحملة فی ذكر الصحاح الستہ: صفحہ، 328 پاکستان لاہور) 

حاجی خلیفہؒ نے کشف الظنون میں 

شف الظنون عن اسامی الكتب والفنون: جلد، 1 صفحہ، 555 بیروت)

 امام مسلمؒ کو شافعی کہا ہے صاحب الیانع الجنیؒ نے لکھا ہے کہ امام مسلمؒ اصولی طور پر شافعی ہیں اور بہت کم مسائل میں انہوں نے امام شافعیؒ سے اختلاف کیا ہے۔ 

(لامع الدراری: جلد، 1 صفحہ، 70) 

علامہ ابراہیم بن شیخ عبداللطیف سندھیؒ فرماتے ہیں: کہ امام مسلمؒ کے بارے میں عمومی خیال یہ ہے کہ آپ شافعی ہیں لیکن در حقیقت آپ مجتہد ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اکثر مسائل میں آپ کا اجتہاد امام شافعیؒ سے جا ملتا ہے۔

(ما تمس اليه الحاجة مطبوع مع سنن ابن ماجه: صفحہ، 25 واسم كتابه سحق الاغبياء من الطاعنين فی كمل الأولياء واتقياء العلماء، وقال الشيخ محمد ادريس الكاندهلوى فی تعليقه على لامع الدراری: هذا الكتاب من محفوظات خزانة مدرسة: مظهر العلوم بكراتشی: انظر لامع الدراری: جلد، 1 صفحہ، 28) 

شیخ طاہر جزائریؒ نے بھی لکھا ہے کہ آپ مقلد محض نہیں تھے البتہ فقہ میں  امام شافعیؒ کی طرف مائل تھے۔ 

(توجيه النظر إلى أصول الأثر: صفحہ، 185)

اس طرح ابنِ حجرؒ اور ابن اثیرؒ کے کلام سے امام مسلمؒ کے مجتہد ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ 

(ما تمس اليه الحاجة لمن يطالع سنن ابنِ ماجہ: صفحہ، 25، 26) 

ابنِ قیم رحمۃاللہ نے امام مسلم رحمۃاللہ کو حنبلی کہا ہے۔

(دیکھیے اعلام الموقعین: جلد، 2 صفحہ، 242 مطبوع دار الجیل، بیروت) 

اور ابنِ ابی یعلیٰؒ نے بھی آپؒ کا ذکر طبقاتِ حنابلہ میں کیا ہے، علامہ ابراہیم سندہیؒ نے اتحاف الاکابر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام مسلمؒ مالکی مذہب پر تھے، البتہ آپؒ کا ذکر طبقات مالکیہ میں نہیں ملتا۔

ا تمس اليه الحاجة لمن يطالع سفن ابنِ ماجه: صفحہ، 25، 26 )

تصانیف:

امام مسلم رحمۃاللہ نے صحیح مسلم کے علاوہ بہت سی کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جن سے آپ کے علمی ذوق و مشغلہ کا اندازہ ہوتا ہے، ان کتابوں کی ایک اجمالی فہرست پیش خدمت ہے:

1: مسند کبیر 

2: الاسماء والکنی 

3: جامع کبیر 

4: کتاب العلل 

5: کتاب التميز 

6: كتاب الوحدان

7: کتاب الأقران 

8: کتاب حدیث عمر و بن شعیب 

9: کتاب الانتفاع با هب السباع

10: کتاب مشایخ مالک 

11: کتاب مشایخ الثوری 

12: کتاب مشایخ شعبة

13: کتاب المخضرمین

14: کتاب اولاد الصحابة 

15: کتاب أوهام المحدثین 

16: کتاب الطبقات 

17: کتاب افراد الشامیین 

18: کتاب سولاته احمد بن حنبل

19: کتاب من ليس له الاراو واحد 

20: کتاب رواۃ الاعتبار

(تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 590 مقدمہ صحیح مسلم للنووی: صفحہ، 12)

صفحہ 3 از 6