تعارف امام مسلم رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مسلم رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 6

امام مسلمؒ نے صرف اپنے شہر میں موجود ائمہ فن سے استفادہ کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس زمانے کے دستور کے مطابق انتہائی ذوق و شوق سے آپؒ نے مختلف بلاد و امصار کا سفر کیا اور اس فن کے مشہور و معروف ائمہ اعلام سے سیراب ہوئے، خراسان میں اسحاق بن راہویہؒ، یحییٰ بن بکیؒ، عراق میں احمد بن حنبلؒ اور عبد اللہ بن مسلمہ قعنبیؒ، حجاز میں سعید بن منصورؒ اور ابو مصعبؒ، مصر میں حرملہ بن یحییٰ و عمرو بن سوادؒ، رَی میں محمد بن مہرانؒ و ابوغسانؒ 

(علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ امام مسلمؒ ابو غسانؒ سے نہیں ملے، بلکہ ان کی روایات کو کسی واسطے سے نقل کرتے ہیں اس لیے کہ ابو غسانؒ 219ھ میں وفات پا چکے تھے، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 561) 

سے اور نیشاپور میں امام بخاریؒ سے بہت استفادہ کیا، احمد بن مسلمہؒ کی رفاقت میں بلخ و بصرہ کا بھی سفر کیا۔

(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 210)

بغداد بار ہا جانا ہوا بغداد کا آخری سفر 259ھ میں ہوا اس کے دو سال بعد انتقال ہوگیا۔ (دیکھیے تاریخ ابنِ خلکان: جلد، 5 صفحہ، 194 جامع الاصول میں لکھا ہے کہ بغداد کا آخری سفر 275ھ میں تھا، دیکھیے جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 187) 

بغداد میں بھی آپ نے درس دیا 

(جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 187، تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 499)

آپؒ کے تلامذہ میں ابو عیسیٰ ترمذی صاحب السننؒ، ابوحاتم رازیؒ، ابراہیم بن ابی طالبؒ، ابنِ صاعدؒ، ابو حامد ابنُ الشرقیؒ 

(آپ کے والد کا نام محمد بن حسن ہے، نیشاپور کی شرقی جانب میں سکونت پذیر تھے اس لیے ان کو الشرقی کہا جاتا ہے۔ دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد، 150 صفحہ، 37) 

ابو احمد بن حمدانؒ، ابراہیم بن محمد بن سفیانؒ، ابو حاتم مکی بن عبدانؒ، محمد بن مخلدؒ، احمد بن سلمہؒ، موسیٰ بن ہارونؒ اور ابو عوانہؒ جیسے آئمہ فن شامل ہیں۔

امام مسلم رحمۃاللہ کے وہ اساتذہ جن کی روایت صحیح مسلم میں نہیں:

امام مسلمؒ کے اساتذہ کی ایک فہرست ایسی بھی ہے جن کی روایات آپ نے صحیح میں نہیں لی، ان حضرات میں سے ایک امام ذھلیؒ ہیں، ان کا قصہ مشہور ہے کہ جب امام بخاری رحمۃاللہ نیشاپور تشریف لائے اور آپؒ کی تشریف آوری سے وہاں کی تمام علمی مجالس بے رونق ہو گئیں تو حسد کی آگ شعلہ زن ہوئی حتیٰ کہ امام ذھلیؒ نے بھی مسئلہ خلقِ قرآن میں امام بخاریؒ سے نہ صرف یہ کہ اختلاف کیا بلکہ اپنے سبق میں اعلان کر دیا: 

الا من كان يقول بقول البخاری فی مسئلة اللفظ بالقرآن فليعتزل مجلسنا۔

اس اعلان کو سن کر امام مسلمؒ اور احمد بن سلمہؒ فوراً مجلس سے اٹھے اور ان کی روایات کا پورا ذخیرہ ان کو واپس کر دیا اور امام ذھلیؒ سے روایت کرنا ترک کر دیا۔

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد، 12 صفحہ، 572 البدایۃ والنہایۃ: جلد،1 صفحہ، 35، تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 579 تاریخِ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 103)

امام مسلمؒ نے امام بخاری رحمۃاللہ کے ساتھ کمالِ حسن عقیدت و محبت کے باوجود ان سے کوئی روایت نہیں لی اس بارے میں علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: ثم ان مسلماً لحدة فی خلقه انحرف ايضا عن البخارى ولم يذكر له حديثا ولا سماه فی صحیحہ۔ 

(سیر اعلام النبلا: جلد، 12 صفحہ، 573)

لیکن اس سے بہتر بات حافظ ابنِ حجرؒ نے کی ہے، فرماتے ہیں: قلت قد أنصف مسلم، فلم يحدث فی كتابه عن هذا ولا عن هذا۔

(هدی الساری مقدمة فتح الباری: صفحہ، 491 دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور پاکستان)

اسی طرح علی بن الجعدؒ متوفی 230ھ، علی بن المدینیؒ متوفی 234ھ محمد بن عبد الوہاب الفراءؒ متوفی 272ھ وغیرہ بھی آپؒ کے اساتذہ ہیں لیکن ان کی روایات صحیح مسلم میں نہیں ہیں۔

حلیہ مبارک:

امام حاکمؒ فرماتے ہیں کہ آپ دراز قد اور بہت ہی خوبرو تھے، سر اور ریش مبارک کے بال سفید تھے، عمامہ کا سرا شانوں کے درمیان لٹکائے رکھتے تھے۔

 (مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 60 سیر اعلام النبلا: جلد، 120 صفحہ، 566، 570)

سیرت و اخلاق:

آپ نے پوری زندگی میں نہ کسی کی غیبت کی کسی کو برا بھلا کہا اور نہ کسی کو ناحق مارا۔ 

(بستان المحدثین: صفحہ 280، ایچ ایم سعید) 

اساتذہ اور مشائخ کا بے حد احترام کرتے تھے لیکن اگر کسی مسئلہ میں اساتذہ سے اختلاف ہو جاتا اس کا صاف اظہار فرماتے، چھپاتے نہیں تھے، جیسے مسئلہ خلقِ قرآن میں ہوا، علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے: كان مسلم بن الحجاج يظهر القول باللفظ ولا يكتمه۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 572)

خراج عقیدت:

اکابر امت نے ہمیشہ امام مسلمؒ کے علم و فضل کا اعتراف کیا ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، چنانچہ امام بخاریؒ و امام مسلمؒ کے شیخ محمد بن بشارؒ فرماتے ہیں: دنیا میں چار حفاظ ممتاز ہیں ابوزرعہؒ ری میں، مسلم بن الحجاجؒ نیشاپور میں، عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمیؒ سمرقند میں اور محمد بن اسماعیلؒ بخارا میں

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد، 13 صفحہ، 423، 564، تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 579 تاریخ بغداد: جلد، 2 صفحہ 16) 

ابوزرعہ رازیؒ اور ابو حاتمؒ نے ان کو اپنے زمانے کے تمام شیوخ پر فائق بتایا ہے، احمد بن سلمہؒ کہتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات احادیث کی صحت و سقم کے بارے میں امام مسلمؒ کو اپنے ہمعصر تمام مشایخ پر ترجیح دیتے تھے۔(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589 سیر اعلام النبلا: جلد، 12 صفحہ، 563، البدايہ والنہايہ: جلد، 1 صفحہ، 33، طبقات حنابلہ: جلد، 1 صفحہ، 338 تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 101، جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 187) 

امام مسلمؒ کے استاد الحق بن راہویہؒ نے کسی موقع پر فرمایا: ای رجل هذا اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ کتنا بلند مقام حاصل کرے گا 

(سیر: جلد، 12 صفحہ، 564 تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589 تاریخِ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 103) 

صفحہ 2 از 6