تعارف امام مسلم رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مسلم رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 6

امام مسلم رحمۃاللہ

نام: ابو الحسین عساکر الدین مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کوشاذ القشیری النیشا بوری۔

نسب و نسبت:

امام مسلم رحمۃاللہ نسباً عربی ہیں اور قشیر (بضم القاف وفتح الشين المعجمة وسكون الياء) قبیلہ سے آپ کا تعلق ہے اس لیے ان کو قشیری کہا جاتا ہے۔ 

(دیکھیے الانساب: جلد، 4 صفحہ، 105 مزید لکھتے ہیں: هذه نسبة الى قشير بن كعب بن ربيعه بن عامر بن صعصة قبيله كبيرة ينسب اليها كثير من العلماء) 

اور چونکہ شہر نیشاپور آپؒ کا مولد اور مسکن ہے تو اس کی طرف نسبت کر کے نیشاپوری بھی کہتے ہیں۔

مختصر تاریخ نیشاپور:

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں لشکرِ اسلام کے مجاہدین اہلِ نیشاپور سے صلح کر کے اس شہر میں داخل ہوئے اس کا بانی شاہ پور بتایا جاتا ہے جب اس علاقہ سے اس کا گزر ہوا تو اس نے کہا: اچھی جگہ ہے یہاں شہر بسانا چاہیئے اس کی طرف نسبت سے اس کا نام شاہ پور ہو گیا۔

(غیاث اللغات میں لکھا ہے: دراصل یہ شاہ پور یعنی شہر شاہ پور چراکہ نہ بالکسر شہر راگویند و ہائے ہوز بیائے تحتانی بدل شده، غیاث اللغات: 536)

نیشاپور خراسان کے مشہور شہروں میں سرِ فہرست تھا اس میں مختلف قسم کی معدنیات موجود تھیں اور اس کے باشندے خوشحال زندگی بسر کرتے تھے احمد بن طاہر کہتے ہیں: 

ليس فج الأرض مثل نيشابور بلد طيب ورب غفور۔ 

(معجم البلدان میں اس قول کی نسبت ابو العباس زوزنی معروف بما مونی کی طرف کی گئی ہے دیکھیے: معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 332)

618ھ میں جب چنگیز خان کے لشکر نے شہر نیشاپور کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو شہر والوں میں سے کسی نے تیر مارا جس کے نتیجہ میں چنگیز خان کا داماد قتل ہوا اس کے بعد چنگیز بذات خود نیشاپور پر یلغار کرنے کے لیے آیا اور مغول لشکر نے کسی زندہ انسان کو نہیں بچنے دیا، شہر نیشا پورا ایسا ویران ہوا کہ مؤرخین کہتے ہیں اس کے بعد کبھی اس کو وہ مقام و شرف حاصل نہ ہوا اب بھی نیشاپور موجود ہے لیکن پہلے کی نسبت بہت ہی چھوٹا مؤرخین کے مطابق نیشاپور اس زمانے میں دس لاکھ کی آبادی پر مشتمل تھا جبکہ فی الحال اس کی آبادی پچاس ہزار سے زیادہ نہیں۔

(دیکھیے لغت نامہ دہخدا: جلد، 48 صفحہ، 1008) 

اور نہ ہی اس میں وہ دینی، مذہبی اور علمی رونقیں اور بہاریں ہیں جس کی وجہ سے شہر نیشاپور کا نام آج تک تاریخ میں محفوظ ہے۔

دنیائے اسلام میں سب سے پہلا دارالعلوم:

مشہور یہ ہے کہ دنیائے اسلام میں سب سے پہلا مدرسہ نظامیہ بغداد ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ مدرسہ بیہقیہ نیشاپور کو تقدم حاصل ہے نظامیہ بغداد سے پہلے نیشاپور میں کئی دار العلوم قائم ہو چکے تھے جن میں سے نظامیہ نیشاپور، سعدیہ، نصریہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ 

(دائرہ معارف اسلامیہ اردو: جلد، 20 صفحہ، 157، 158) 

امام الحرمین نے (متوفی 478ھ اور امام غزالیؒ کے استاذ) اسی مدرسہ بیہقیہ میں تعلیم حاصل کی تھی، شیخ ابوحفص حدادؒ 

(صحیح قول کے مطابق ان کا نام عمرو بن سلمہ ہے، علم و عرفان میں مشہور تھے، کسی نے آپ سے کہا کہ آپ کے یہاں کوئی خاص بات کرامت نظر نہیں آئی تو شیخ اس کا ہاتھ پکڑ کر لوہار کی دکان پر گئے اور ایک آتشیں لوہے کو ہاتھ میں لیا تو وہ فوراً ٹھنڈا ہوگیا تب سے آپ کو حداد کہا جاتا ہے وفات کے بارے میں 265، 267، 270 کے مختلف اقوال ملتے ہیں دیکھیے الانساب: جلد، 2 صفحہ، 181) 

1: ابو محمد مرتعشؒ متوفی 323ھ، ابو علی ثقفیؒ متوفی 328ھ۔

2: ابنِ راہویہؒ 

(ابنِ راہویہ رحمۃاللہ، امام بخاری رحمۃاللہ اور امام مسلم رحمۃاللہ کے استاد ہیں ان کی تاریخ وفات کے بارے میں 230، 237، 238 کے مختلف اقوال ملتے ہیں ان کے والد سفر کے دوران مکہ کے راستے میں پیدا ہوئے اس لیے ان کو راہویہ کہتے ہیں، فارسی میں "راہ" کے معنیٰ راستہ کے ہیں اور یہ ملنے کے معنیٰ میں ہے كأنه وجد فی الطريق۔ دیکھیے الرسالة المستطرفتہ: صفحہ، 55)

3: عمر خیام 

(یہ ابوالفتح عمر بن ابراہیم ہیں۔ ریاضی، فلکیات، لغت، فقہ اور تاریخ کے بڑے ماہر تھے لیکن ان کی شہرت ان کی رباعیات کی وجہ سے ہے جو کہ دنیا کی کئی اہم زبانوں میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہے دیکھیے الاعلام: جلد،  5 صفحہ، 38) 

وغیرہ اسی سرزمین نیشاپور کے مدارس کے فیض یافتگان ہیں، امام مسلمؒ کے والد حجاج بھی نیشاپور کے مشایخ میں سے تھے۔ 

(دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 129)

ولادت: 

آپؒ کی ولادت میں کئی اقوال ہیں: 202، 204ھ، 206ھ۔

حافظ ابنِ کثیرؒ متوفی 774ھ کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک 204ھ راجح ہے، فرماتے ہیں: وكان مولده فی السنة التی مات فيها الشافعی وهی سنة اربع و مائتين۔ (البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 34) 

لیکن علامہ ذہبیؒ نے 204ھ کو "یقال" کے ساتھ نقل کیا ہے۔

(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 577)

دوسرے محققین نے 206ھ کو راجح قرار دیا ہے، چنانچہ ابنِ خلکانؒ نے وفیات الاعیان میں (وفیات الاعیان: جلد، 5 صفحہ، 195) 

اور علامہ ابنِ اثیر جزریؒ نے مقدمہ جامع الاصول میں 

(جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 188) 

اس کی تصریح کی ہے وفات بالاتفاق 261ھ میں ہے اس لیے راجح قول کے مطابق کل عمر 55 سال اور حافظ ابنِ کثیرؒ کے قول کے مطابق کل عمر 57 سال بنتی ہے حافظ ابنِ کثیرؒ نے تصریح کی ہے: فكان عمره سبعا وخمسين سنة۔

(البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 34)

سماع حدیث:

علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ آپؒ کے سماع حدیث کی ابتداء 217ھ میں 12 سال کی عمر میں ہوئی۔

(تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 577) 

بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ابتدائی سماع نیشا پور میں امام ذھلیؒ متوفی 357ھ سے کی، لیکن امام ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ آپؒ نے ابتدائی سماع 218ھ میں یحییٰ بن یحییٰ التمیمی رحمۃاللہ سے کیا۔

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد 120 صفحہ 557)

پھر 220ھ میں حج کیا، وہاں امام قعنبی رحمۃاللہ سے سماع کیا امام قعنبیؒ آپ کے سب سے بڑے استاذ ہیں۔

علمی رحلات مشہور اساتذہ و تلامذہ:

صفحہ 1 از 6