تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 9 از 14
حافظ ابن الصلاح رحمۃاللہ نے مقدمہ میں لکھا ہے "جملة مافی كتابه "الصحيح" سبعة آلاف ومائتان وخمسة وسبعون حديثاً بالأحاديث المكررة، وقد قيل: إنها بإسقاط المكررة أربعة آلاف حدیث" یعنی مکررات کو شمار کر کے صحیح بخاری کی احادیث کی تعداد سات ہزار دو سو پچھتر حدیثیں ہوتی ہیں اور مکررات کو حذف کرنے کے بعد چار ہزار احادیث بنتی ہیں۔ امام نووی رحمۃاللہ نے "تقریب" میں اور حافظ ابنِ کثیر رحمۃاللہ نے "اختصار علوم الحدیث" میں اس کی اتباع کی ہے۔ 
(دیکھیے تقریب النووی مع تدریب الراوی: جلد 1، صفحہ 102 
واختصار علوم الحدیث مع شرح الباعث الحثيث: صفحہ 20)
امام نوویؒ نے اپنی "شرحِ بخاری"
(دیکھیے مقدمہ لامع الدراری: صفحہ 124، 125) 
میں اور تہذیب الاسماء واللغات 
(تهذيب الأسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 75) 
میں بھی یہی تعداد ذکر کی ہے لیکن ان دونوں کتابوں میں "مسندۃ" کی قید لگا دی، جس سے وہ تمام روایات نکل جاتی ہیں جو تعلیقات و متابعت کی صورت میں ہیں۔ پھر انھوں نے اپنی شرح بخاری میں حافظ ابوالفضل محمد بن طاہر کی کتاب "جواب المتعنت" سے تفصیلاً تمام روایات کی تعداد ذکر کی ہے، حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے ان تمام تفصیلات کو مقدمہ میں نقل کیا ہے اور جابجا ان پر تنقید کی ہے اور آخر میں فرمایا کہ میری تحقیق کے مطابق بخاری شریف میں مکررات سمیت سات ہزار تین سو ستانوے حدیثیں ہیں۔ 
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 465، 469 
الفصل العاشر فی عد أحاديث الجامع)
یہی تعداد قابلِ اعتماد ہے۔ تفصیل سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ صحیح بخاری میں کچھ روایات مرفوعہ موصولہ ہیں، کچھ معلقات ہیں اور کچھ متابعات، پھر معلقات کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ معلقات ہیں جن کی تخریج مؤلف نے خود اپنی صحیح میں کسی جگہ کر دی ہے اور دوسری قسم وہ معلقات ہیں جن کی تخریج انھوں نے نہیں کی، اب ان میں سے ہر ایک کی تفصیل سمجھ لیجئے ۔
رواياتِ مرفوعة موصولة مع مكررات: 7397
روايات معلقة مخرجة المتون فی الصحيح: 1341
متابعات: 344
(مقدمہ فتح الباری: صفحہ 469 میں متابعات کی تعداد تین سو اکتالیس مذکور ہے جو سہو کاتب ہے صحیح تعداد تین سو چوالیس ہے جو قسطلانیؒ نے حافظؒ سے نقل کیا ہے، اگر تین سو اکتالیس کا عدد ہو تو مجموعہ نو ہزار بیاسی نہیں بنتا جس کی حافظؒ نے تصریح کی ہے۔ فتنبہ)
میزان: 9082
رواياتِ مرفوعة موصولة بدون تكرار: 2602
روایاتِ معلقة غير مخرجة المتون فی الصحيح 159
میزان کل احادیث بدون تکرار: 2761                       
حافظؒ فرماتے ہیں کہ مذکورہ عدد آثارِ صحابہؓ و مقطوعاتِ تابعینؒ کے علاوہ ہے جن کی کل تعداد پوری کتاب میں ایک ہزار چھ سو آٹھ ہے۔
(دیکھیے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 543 خاتمہ)
موضوعِ کتاب
حافظ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری کا اصل موضوع تو ہے احادیثِ صحیحہ کا جمع کرنا، چنانچہ یہ موضوع اس کے نام سے ظاہر ہے
" الجامع الصحيح المسند من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اس کتاب میں پیشِ نظر ہے کہ فقہی استنباطات و فوائد کا بھی اس میں ذکر کیا جائے، چنانچہ امام بخاریؒ نے متون حدیث سے جو فقہی استنباطات کئے ہیں ان کو متفرق ابواب میں ذکر کر دیا ہے۔ 
(هدى الساری: صفحہ 8
الفصل الثانی فی بيان موضوعه والكشف عن مغزاه فيه)
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ علماءِ حدیث نے سب سے پہلے جب اس علم کو مدون کیا تو چار فنون پر تقسیم کیا ہے۔
1: فن السنۃ یعنی فقہ، جیسے موطا امام مالکؒ اور جامع سفیان۔
2: فن تفسیر، جیسے کتاب ابن جریج۔
3: فن سیر، جیسے محمد بن اسحاقؒ کی کتاب۔
4: فن زہد و رقائق جیسے امام ابن المبارکؒ کی کتاب۔
امام بخاریؒ کا ارادہ یہ ہوا کہ ان چاروں فنون کو یکجا کر دیا جائے اور صرف ان احادیث کو ذکر کیا جائے جن پر امام بخاریؒ سے پہلے یا ان کے زمانے میں صحت کا حکم لگایا جا چکا ہے، نیز یہ کہ اس کتاب کو مرفوع اور مسند احادیث کے لیے مختص کر دیا جائے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی کتاب کا نام ”الجامع صحیح المسند" رکھا ہے، جہاں تک آثار وغیرہ کا تعلق ہے سو وہ تبعاً ذکر کیے گئے ہیں اصالۃً نہیں۔
پھر امام بخاریؒ کا یہ مقصود بھی ہے کہ احادیث سے خوب استنباط کیا جائے، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا ہے، ایک ایک حدیث سے وہ بہت سے مسائل مستنبط کرتے ہیں، یہ طریقہ ان سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا۔
(دیکھیے ابتداءِ رسالہ شرح تراجم ابواب صیح البخاری مطبوعه من صحیح بخاری: صفحہ 13)
شروطِ صحیح بخاری
(قال الإمام الكوثری رحمه الله تعالىٰ فی تعليقه على "شروط الأئمة الخمسة للحازمی" صفحہ 73
المطبوع مع سنن ابن ماجه: "أول من ألف فی شروط الأئمة. فيما نعلم هو الحافظ أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن منده المتوفى سنة خمس وتسعين وثلاثمائة، وقد ألف جزء أسماه "شروط الأئمة فی القراءة والسماع والمنازلة والإجازة" ثم الحافظ محمد بن طاهر المقدسی التوفی سنة سبع وخمس مائة ألف جزء أسماه "شروط الأئمة السنة" وهما موضع أخذ ورد، ثم أتى الحافظ البارع، فألف هذا الجزء وأجاد، وهو جم العلم، جليل الفوائد، على صغر حجمه،يفتح للمطلعين عليه أبواب السبر والفحص وينبهم على نكت قلما ينتبه إليها".
شروط کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مصنفینِ کتب تالیف کے وقت بعض امور کو پیشِ نظر رکھتے ہیں، انہی کے مطابق کتاب میں مضامین لاتے ہیں ان سے ہٹ کر کچھ ذکر نہیں کرتے، ائمہ ستہ نے بھی اپنی کتابوں میں کچھ شروط کا لحاظ کیا ہے لیکن ان حضرات سے یہ تصریح منقول نہیں کہ میں نے فلاں شرط پیشِ نظر رکھی ہے، بعد کے علماء نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کر کے ان شروط کا استنباط کیا ہے۔ 
(چنانچہ حافظ ابو الفضل محمد بن طاہر مقدسیؒ لکھتے ہیں "اعلم أن البخاری و مسلماومن ذكرنا بعدهم لم ينقل عن واحد منهم أنه قال: شرطت أن أخرج فی كتابی ما يكون على الشرط الفلانی، وإنما يعرف ذلك من سبر كتبهم، فيعلم بذلك شرط كل رجل منهم"
دیکھیے ابتداء شروط الائمۃ الستۃ: صفحہ 70، مطبوعه قدیمی کتب خانہ کراچی مع سنن ابی ماجہ)
صفحہ 9 از 14