تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 8 از 14
اور "ایام" سے غزوات اور ان تمام واقعات کی جانب اشارہ ہے جو آپﷺ کے عہدِ مبارک میں پیش آئے۔
امامؒ نے بہت سی روایتیں ایسی ذکر کی ہیں جن میں آپﷺ کا قول یا فعل یا تقریر مذکور نہیں، ایسے مقامات میں لوگوں کو اشکال پیش آتا ہے اگر کتاب کا پورا نام پیشِ نظر ہو تو اشکال نہیں ہوتا۔
سببِ تالیفِ صحیح بخاری
اس کتاب کی تالیف کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں:
1: ابراہیم بن معقِل نسفیؒ کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ کا بیان ہے کہ ہم اپنے استاذ اسحاق بن راھویہؒ کی مجلس میں تھے کہ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا "لو جمعتم كتاباً مختصراً لسنن النبی صلى الله علیه وسلم" مقدمہ فتح کے الفاظ ہیں "لو جمعتم كتاباً مختصراً لصحيح سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم" اس قول کی وجہ سے میرے دل میں اس کتاب کی تالیف کا داعیہ پیدا ہوا۔ 
(دیکھیے تاریخِ بغداد: جلد 2، صفحہ 8
وتہذیب الکمال: جلد 24، صفحہ 442
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 401
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 7
وهدی الساری: صفحہ 7
وتہذیب الاسماء واللغات: جلد1، صفحہ 74)
تنبیہ: 
ان تمام مراجع میں "لو جمعتم...." والا قول ایک مبہم شخص کی طرف منسوب ہے سوائے "هدی الساری" کے کہ اس میں امام اسحاق بن راھویہؒ کی طرف منسوب ہے، بظاہر یہ درست نہیں ہے کیونکہ تقریباً حضرات نے خطیبِ بغدادیؒ کی سند سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور اس میں "فقال بعض أصحابنا" ہے، خود ھدی الساری نے بھی اسی سند سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ فانتبہ
2: محمد بن سلیمان بن فارسؒ کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاریؒ سے سنا ہے، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے خواب میں حضور اکرمﷺ کو دیکھا، میں آپ کے سامنے کھڑا تھا، میرے ہاتھ میں پنکھا تھا جس سے میں آپﷺ سے مکھیاں اڑا رہا تھا، بعض معبّرین سے میں نے تعبیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ "أنت تذب عنه الكذب" اس خواب کے واقعہ سے میرے دل میں احادیثِ صحیحہ جمع کرنے کا شوق ہوا۔
(تہذیب الاسماء واللغات: جلد1، صفحہ 74
وهدی الساری: صفحہ7) 
ان دونوں اسباب میں منافات نہیں، دونوں سبب ہو سکتے ہیں، خواب بھی محرک بنا ہو گا اور امام اسحق بن راھویہؒ کی مجلس کے واقعہ سے بھی داعیہ پیدا ہوا ہو گا۔
تالیف کی ابتداء و انتہاء
صحیح بخاری کی تالیف کی ابتداء کب ہوئی؟ اور اختتام کب ہوا؟ کتبِ رجال و تاریخ میں اس کی کوئی تصریح نہیں۔ البتہ حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ نے بعض واقعات سے اخذ کر کے فرمایا ہے کہ 217ھ میں اس کی ابتداء ہوئی اور 233ھ میں اختتام ہوا..... اس کی تفصیل یہ ہے کہ ابو جعفر محمود بن عمرو عقیلی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے جب اپنی کتاب تالیف کی تو امام احمد بن حنبلؒ، یحییٰ بن معین اور علی بن المدینی رحمہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کو پیش کیا، سب نے تحسین فرمائی اور صرف چار احادیث میں اختلاف کیا، عقیلی فرماتے ہیں کہ ان چار میں بھی بخاری کی رائے راجح ہے۔ 
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 7)
ان میں سے یحییٰ بن معینؒ کا انتقال 233ھ میں ہوا، 
(تقریب التہذیب: صفحہ 597، ترجمہ 7651)۔
علی بن المدینیؒ کا انتقال 234ھ میں
(تقریب: صفحہ 403، ترجمہ 4760)
اور امام احمدؒ کا انتقال 241ھ میں ہوا، 
(تقریب: صفحہ 84، ترجمہ 96)
ان تینوں ائمہ کے سامنے یہ کتاب جب ہی پیش ہو سکتی ہے جب 233ھ میں مکمل ہوگئی ہو اور یہ متعین ہے کہ کتاب سولہ سال میں مکمل ہوئی۔
(دیکھیے تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 14 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 405 
وتهذیب الاسماء واللغات: جلد 2 صفحہ 74 
وطبقات السبکی: جلد 2 صفحہ 7
وهدی الساری: صفحہ 489)
233ھ میں سے 16 نکال لیں تو 217 بچتے ہیں، (233-16 =217) لہٰذا کہا جائے گا کہ 217ھ میں اس کی تالیف کا آغاز ہوا، اس وقت امام کی عمر تیئیس سال تھی اور 233ھ میں اس کو مکمل کیا، اس وقت امام کی عمر انتالیس سال تھی۔
پھر امام بخاریؒ اس کے بعد تیس سال زندہ رہے تو حسبِ قاعدہ مصنفین اپنی کتاب میں گھٹاتے بڑھاتے رہے، اسی وجہ سے نسخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، چنانچہ حماد بن شاکر کے نسخہ میں، فربری کے نسخہ کے مقابلہ میں دو سو احادیث کم ہیں اور ابراہیم کے نسخہ میں تو تین سو احادیث کم ہیں۔
(دیکھیے مقدمہ لامع الدراری: 124، الفائدة السادسة)
صحیح بخاری رحمۃاللہ کا ایک امتیاز
ابنِ عدیؒ فرماتے ہیں کہ عبد القدوس بن ھمامؒ کا بیان ہے کہ میں نے بہت سے مشائخؒ سے سنا ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ نے صحیح بخاری کے تراجم ریاض الجنہ میں منبرِ مبارک اور روضہ مطہرہ کے درمیان لکھے ہیں اور وہ ہر ترجمہ کے لیے دو رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے۔ 
(تهذیب الاسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 74
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 404
وھدی الساری: صفحہ 489)
عمر بن محمد بن بجیر البجیریؒ کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے فرمایا میں نے یہ کتاب مسجدِ حرام میں لکھی ہے، ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے استخارہ کیا، دو رکعت نماز پڑھی اور جب تک اس کی صحت کا یقین نہیں ہوا اس کو کتاب میں درج نہیں کیا۔
(هدی الساری: صفحہ 489)
ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، ممکن ہے مسودہ مسجدِ حرام میں لکھا ہو اور تبيض رياض الجنہ میں کی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تراجم تو ریاض الجنہ میں لکھے ہوں اور احادیث لکھنے کی ابتداء مسجدِ حرام سے کی ہو، کیونکہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ کتاب سولہ سال میں مکمل کی گئی ہے اور یہ مدت کسی ایک جگہ بیٹھ کر نہیں گزاری گئی۔ 
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 489
قال النووى رحمة الله تعالىٰ: "قال آخرون منهم أبو الفضل محمد بن طاهر المقدسی صنفه ببخاری وقیل: بمكة، ويقل بالبصرة، وكل هذا صحيح، ومعناه أنه كان يصنف فيه فی كل بلدة من هذه البلدان فإنه بقى فی تصنيفه ست عشرة سنة  
تهذيب الأسماء واللغات: جلد 1 صفحہ 74)
تعدادِ روایات صحیح بخاری
صفحہ 8 از 14