تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 7 از 14
پھر جب امام بخاری رحمۃاللہ نیشاپور سے بخارا آئے تو اہلِ بخارا نے ان کی آمد پر زبردست استقبال کیا، امام بخاریؒ نے وہاں درس شروع کیا، لوگ جوق در جوق حدیثیں سننے کے لیے آنے لگے۔ 
ادھر خالد بن احمد ذہلی حاکمِ بخارا نے امام سے درخواست کی کہ آپ دربار شاہی میں تشریف لا کر مجھے بخاری شریف اور تاریخ کا درس دیں، امام صاحب نے کہلا بھیجا: أنا لا أذل العلم ولا أحمله إلى أبواب الناس اور فرمایا اگر تمہیں ضرورت ہو تو میری مسجد یا گھر میں حاضر ہو کر درس میں شرکت کرو، اگر تمہیں یہ بات پسند نہ ہو تو تم حاکم ہو مجھے درس سے روک دو تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے میں اپنا عذر پیش کرسکوں، کیونکہ میں علم کو چھپا نہیں سکتا، حضورﷺ نے فرمایا ہے: من سئل عن علم فكتمه ألحم بلجام من نار
(سنن أبي داود، كتاب العلم: رقم 3658
جامع ترمذی کتاب العلم: رقم 2649
وسنن ابن ماجه، مقدمه: رقم 261، 264، 265، 266، 
ومسند أحمد: جلد 2، صفحہ 263، 305، 344، 353، 490) 
بہرکیف امام صاحبؒ وہاں سے نکل کر بیکند پہنچے، وہاں بھی آپ کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہو گیا، ایک فریق آپ کے موافق تھا اور دوسرا فریق آپ کے مخالف، اس لیے وہاں بھی قیام مناسب نہیں سمجھا، اسی دوران اہلِ سمرقند نے آپ کو دعوت دی، آپ نے ان کی دعوت قبول فرمالی بیکند سے روانہ ہوئے راستہ میں "خرتنگ" میں رک گئے جہاں آپ کے کچھ رشتہ دار تھے۔ 
غالب بن جبریل جو آپ کے میزبان تھے ان کا بیان ہے کہ میں نے امام بخاریؒ کو رات کے وقت تہجد کے بعد دعا کرتے ہوئے سنا "اللهم إنه قد ضاقت على الأرض بما رحبت فاقبضنی إليك" اس کے بعد مہینہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ رمضان کے آخر میں اہلِ سمرقند کی متفقہ دعوت پر آپ سمرقند کے لیے روانہ ہونے لگے، امام نے سواری طلب کی، دو آدمیوں کے سہارے چند قدم چلے تھے کہ فرمایا: مجھے بٹھاؤ، ضعف بہت بڑھتا جا رہا تھا، آپ نے کچھ دعا کی اور وہیں "خرتنگ" میں شب عید الفطر 256ھ میں وصال فرمایا، عید کے دن ظہر کے بعد وہیں آپ کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ 
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 493 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 466، 467
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 34
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 14، 15 
وتهذیب الکمال: جلد 24، صفحہ 466 
وکشف الباری: صفحہ 153 مقدمہ)
ایک بشارت
عبد الواحد بن آدم طواویسی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ نبی کریمﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں، میں نے سلام کیا، آپﷺ نے سلام کا جواب دیا، میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ! آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ہم محمد بن اسمعیل بخاریؒ کا انتظار کر رہے ہیں۔ چند دنوں کے بعد امام بخاریؒ کی وفات کی اطلاع پہنچی تو یہ بعینہ وہی وقت تھا جس وقت نبی کریمﷺ کو میں نے دیکھا تھا۔ 
(تہذیب الکمال: جلد 24 صفحہ 467 
وتاریخ بغداد: جلد 2 صفحہ 34 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 468، 
وهدی الساری: صفحہ 493 
وطبقات السبکی: جلد 2 صفحہ 14)
تصانیف
امام بخاری رحمۃاللہ نے اٹھارہ سال کی عمر میں "قضايا الصحابة والتابعین" لکھی۔
(ھدی الساری: صفحہ 478، 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 400
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 5
وتاریخ احدی بغداد: جلد، 2 صفحہ 7) 
اس کے بعد مدینہ منورہ میں چاندنی راتوں میں "تاریخ کبیر" لکھی 
(حوالہ جاتِ بالا)
امام اسحاق بن راھویہ رحمۃاللہ نے یہ کتاب امیر عبداللہ بن طاہر کے سامنے یہ کہتے ہوئے پیش کی کہ "میں آپ کو جادو نہ دکھاؤں؟" امیر نے دیکھ کر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ان کی تصنیف ہو گی۔ 
(هدی الساری: صفحہ 483 
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 7  
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 403  
وطبقات: جلد 2، صفحہ 7)
امام بخاریؒ کی تصانیف درج ذیل ہیں
1: صحيح بخاری شریف 
2: قضايا الصحابة والتابعين
3: الأدب المفرد 
4: جزء رفع اليدين 
5: جزء القراءة خلف الإمام
6: تاريخ كبير
7: تاريخ أوسط 
8: تاريخ صغير 
9: خلق أفعال العباد 
10: كتاب الضعفاء
11: بر الوالدين
ان کتابوں کے علاوہ چند تصنیفات اور ہیں جن کا ذکر مختلف محدثین نے کیا ہے:
12: جامع کبیر، اس کو محدث ابنِ طاہر نے ذکر کیا ہے۔ 
13: مسند کبیر 
14: تفسیر کبیر، اس کو فربری نے ذکر کیا ہے۔
15: کتاب الاشربہ، اس کا ذکر امام دار قطنی رحمۃاللہ نے کیا ہے۔ 
16: کتاب الہبہ، اس کا ذکر وراقِ بخاری ابنِ ابی حاتمؒ نے کیا ہے۔ 
17: اسامی الصحابہ، اس کا ذکر محدث ابوالقاسم بن مندہ نے کیا ہے۔ 
18: کتاب الوحدان 
19: کتاب المبسوط، ذكره الخليلی في الإرشاد
20: كتاب العلل، اس کا ذکر بھی ابنِ مندہؒ نے کیا ہے۔ 21: كتاب الكنىٰ، ذكره الحاكم أبو أحمد
22: كتاب الفوائد، ذكره الترمذی فی أثناء كتاب المناقب من جامعه
(دیکھئے ھدی الساری: صفحہ 491، 492)
بخاری شریف کا نام
ان تمام تصانیف میں سب سے مشہور صحیح بخاری ہے، امام نووی رحمۃاللہ نے اس کا نام "الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" لکھا ہے۔ 
(دیکھیے تہذیب الاسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 73
ومقدمہ لامع الدراری: صفحہ 83)
جبکہ حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے اس کا نام "الجامع الصحيح المسند من حديث رسول صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" تحریر کیا ہے۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 8، الفصل الثانی فی بيان موضوعه والكشف عن مغزاه فيه)
"جامع" اُمورِ ثمانیہ کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔
"مُسنَد" اس لیے کہ سندِ متصل کے ساتھ مرفوع روایات نقل کی ہیں اور جو آثار وغیرہ مذکورہ ہیں وہ ضمناً و تبعاً ہیں۔
"صحیح" اس لیے کہ اس میں صحت کا التزام کیا گیا ہے۔
"مختصر" اس لیے کہا کہ تمام صحیح احادیث کا اس میں احاطہ نہیں کیا، خود امام بخاریؒ کا قول ہے "ما أدخلت فی هذا الكتاب إلا ماصح، وتركت من الصحاح کی لا يطول الكتاب"۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 402
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 9
وتهذیب الأسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 74
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 7
وهدی الساری: صفحہ 7)
"من أمور رسول الله صلى الله عليه و سلم" يا "من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم" سے آپﷺ کے اقوال مراد ہیں۔
"سنن" سے افعال و تقریرات کی طرف اشارہ ہے
صفحہ 7 از 14