تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 6 از 14
شوقِ عبادت
ہمیشہ کا معمول تھا کہ آخر شب میں تین رکعتیں پڑھا کرتے تھے 
(ھدی الساری: صفحہ 481 
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 13 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 241) 
اور رمضان میں اس پر بہت اضافہ ہو جاتا تھا حافظ ابو عبداللہ حاکم رحمۃاللہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جب رمضان شروع ہوتا تو امامؒ ایک مرتبہ قرآن تو عام تراویح کی جماعت میں ہر رکعت میں 20، 20 آیات پڑھ کر ختم کیا کرتے تھے، پھر خود تنہا آخر شب میں نصف یا ثلثِ قرآن پڑھتے، اس طرح ہر تیسرے دن ایک قرآن ختم فرماتے تھے، پھر دن بھر بھی تلاوت کرتے رہتے تھے اور روزانہ افطار کے وقت قرآن کریم ختم فرماتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہر ختم پر دعا قبول ہوتی ہے۔
(ھدی الساری: صفحہ 481)
قبولیتِ دعا
امام رحمۃاللہ نے فرمایا کہ میں نے دو مرتبہ اپنے رب سے دعا مانگی فورا قبول ہوئی اس کے بعد سے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اعمال کی جزا دنیا ہی میں تو نہیں مل رہی اس لیے میں اس کے بعد دنیا کے لیے کچھ مانگنا پسند نہیں کرتا تھا۔ 
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 448
وھدی الساری: صفحہ 480)
عللِ حدیث کی معرفت میں انفرادیت
اصطلاح میں "علت" پوشیدہ سببِ جرح کو کہتے ہیں، اس علم میں مہارت کے لیے بے پناہ حافظہ، سیال ذہن اور نقد میں کامل مہارت ضروری ہے، رواةِ حدیث کی معرفت، ولادت و وفات کے اوقات کا علم، اسماء، القاب، کنیتوں اور ان کی ملاقات کی تفصیل کا علم لازم ہے، الفاظِ حدیث پر پوری نظر ضروری ہے۔
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ 42 
النوع الثامن عشر معرفۃ الحدیث المعلل)
اسماء و کنیت کی معرفت کے سلسلے میں واقعہ مشہور ہے کہ امام فریابی رحمۃاللہ نے امام بخاری رحمۃاللہ کی موجودگی میں ایک حدیث بیان کی "حدثنا سفیان عن أبی عروۃ عن أبی الخطاب عن أبی حمزۃ" حاضرین سفیان کے بعد مشائخ میں سے کسی کو نہ پہچان سکے تو امام بخاریؒ نے فرمایا ابو عروہ معمر بن راشد ہیں ابو الخطاب قتادہ بن دعامہ سدوسی ہیں اور ابو حمزہ سے مراد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ نیز فرمایا کہ سفیان کی یہ عادت ہے کہ وہ مشہور شیوخ کی کنیت ذکر کرتے ہیں۔
(ھدی الساری صفحہ: 478) 
نقد و جرح کے سلسلے میں امام بخاری رحمۃاللہ کا طریقہ
جرح اور تعدیل کے باب میں محدثین نے ان کے مراتب مقرر کیے اور پھر ہر ایک کے لیے مخصوص اصطلاحیں مقرر ہوئیں، چنانچہ جرح کے مراتب میں "فلان کذاب" وغیرہ الفاظ شائع و ذائع ہیں۔ لیکن امام بخاریؒ عام محدثین کی طرح "وضّاع" اور "کذاب" کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ 
(چنانچہ حافظ ذہبیؒ سیر اعلام النبلا: جلد 12، صفحہ 439، 440 میں فرماتے ہیں "و قل ان يقول: فلان كذاب او كان يضع الحديث" شیخ عبدالفتاح ابو غدہؒ امام بخاریؒ سے چند راویوں کے بارے میں "كذاب يذكر بوضع الحديث" وغیرہ الفاظ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ويلاحظ من هذه الامثله القليلة، ان البخاری يحرص على ان يكون لفظ الجرح الذی يرتضيه من قول غيره اذا وجده فينقله عنه والا قاله من قبل نفسه وذلك من دقيق ورعه رحمۃالله تعالىٰ 
دیکھیے تعلیقات "الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل" صفحہ، 401، 402) 
وہ منکر الحدیث "فیہ نظر" اور "سکتوا عنہ" کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 439 
طبقات الشافعیۃ: جلد 2، صفحہ 9
وھدی الساری: صفحہ 480) 
چنانچہ وہ فرماتے ہیں "اذ قلت: فلان فی حدیثه نظر، فھو متھم واہٍ"
(سير اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 441 
ومیزان الاعتدال: جلد 2، صفحہ 416 
ترجمہ: عبداللہ بن داؤد واسطی)
نیز فرماتے ہیں "کل من قلت فیہ: منکر الحدیث، فلاتحل الروایة عنه 
(دیکھیے میزان الاعتدال: جلد 1، صفحہ 6، 
ترجمہ ابان جبلۃ الکوفی، 
حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال: جلد 2، صفحہ 416 
ترجمہ عبداللہ بن داؤد واسطی میں فرمایا ہے "و قد قال البخاری فیہ نظر ولا یقول ھذا الا فیمن یتھمه غالباً" 
اسی طرح حافظ عراقیؒ شرح الفیہ: صفحہ 176 میں فرماتے ہیں "فلان فیہ نظر و فلان سکتوا عنه، وھاتان العباراتان یقولھما البخاری فیمن ترکوا حدیثه" 
لیکن محدثِ جلیل حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ نے حافظ ذہبی اور حافظ عراقی رحمہمااللہ کے قول کو محقق اور مفصل طور پر رد کیا ہے۔
دیکھیے حاشیہ "الرفع والتکمیل" صفحہ 389، 391 
وحاشیہ قواعد فی علوم الحدیث صفحہ 155، 157 وحاشیہ سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 439، 440)
گویا امام بخاریؒ نے جرح کے باب میں بھی احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا۔ امام بخاریؒ کے وراق نے آپ سے کہا کہ لوگ آپ کی تاریخ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں غیبت کی گئی ہے تو آپؒ نے فرمایا ہم نے تاریخ میں متقدمین کے اقوال نقل کیے ہیں، اپنی طرف سے تو ہم نے کچھ بھی نہیں کہا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 441 
وھدی الساری: صفحہ 480 
مقدمہ قسطلانی: صفحہ 37)
پھر امام بخاری رحمۃاللہ نے اخذِ حدیث میں بھی بہت احتیاط سے کام لیا، ایک مرتبہ کسی شخص نے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا جس میں تدلیس کا گمان تھا تو امامؒ نے فرمایا کہ تم میرے بارے میں تدلیس کا شبہہ کر رہے ہو؟ میں نے تو ایک محدث کی 10 ہزار احادیث اسی اندیشے کی وجہ سے ترک کر دیں اور شبہہ کی بنیاد پر ایک اور محدث کی اتنی ہی یا اس سے زائد حدیثیں چھوڑ دیں۔
(ھدی الساری: صفحہ 481 
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 25)
امام بخاری رحمۃاللہ اہلِ علم کی نظر میں
امام بخاری رحمۃاللہ کے استاذ محمد بن سلام بیکندی رحمۃاللہ نے امام سے فرمایا "انظر فی کتبی، فما وجدت فیھا من خطأ فاضرب علیه، کی لا أرویه" امام بخاریؒ نے ان کی حدیثوں پر نظرِ ثانی کی، چنانچہ جن احادیث کے بارے میں امام صاحب نے اطمینان ظاہر کیا ان پر ان کے استاذ نے لکھ دیا "رضی الفتی" اور جو احادیث ضعیف تھیں ان پر لکھا "لم یرض الفتی"
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 24)
اسی طرح ان کے ایک استاذ عبداللہ بن یوسف تنیسی رحمۃاللہ نے بھی ان سے فرمایا "انظر فی کتبی و اخبرنی بما فیھا من السقط"
(ھدی الساری: صفحہ 483 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 419)
آپ کے استاذ اسماعیل بن ابی اویس رحمۃاللہ فرماتے  ہیں کہ جس لطیف طریقے سے امام بخاری رحمۃاللہ نے میری حدیثوں کی اصلاح کی اس طرح کسی نے نہیں کی، انہوں نے فرمایا کہ "أ تاذن لی أن أجددھا؟" یعنی میں ان کو دوبارہ لکھ دوں؟ انہوں نے اجازت دے دی، فرماتے ہیں "فاستخرج عامة حدیثی بھذہ العلة
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 430)
نیز خود امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ میں اسماعیل بن ابی اویس کی جن احادیث کا انتخاب کرتا تھا ان پر وہ لکھ لیتے تھے "ھذہ الاحادیث انتخبھا محمد بن اسماعیل من حدیثی"
(ھدی الساری: صفحہ 482) 
اسماعیل بن ابی اویسؒ ہی کا قول ہے انہوں نے اپنے شاگرد امام بخاریؒ سے فرمایا "انظر فی کتبی وما املکه لک، وانا شاکر لک ما دمت حیّا"
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 429)
وھدی الساری: صفحہ 482)
حافظ رجاء بن مرجی رحمۃاللہ فرماتے ہیں "فضل محمد بن اسماعيل على العلماء كفضل الرجال علی النساء" 
(تاریخ بغداد جلد 2، صفحہ 25 
وھدی الساری: صفحہ 483 
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 427)
نیز فرمایا "هو آية من آيات الله يمشی على ظهر الأرض"
(حوالا بالا)
امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں "ما تحت أدیم السماء اعلم بالحدیث من محمد بن اسماعیل"
(ھدی الساری: صفحہ 485
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 27 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 431)
حافظ رحمۃاللہ فرماتے ہیں "ولو فتحت باب ثناء الائمة علیه ممن تاخر عن عصرہ لفنی القرطاس ونفدت الانفاس فذاک بحر لا ساحل له" 
(ھدی الساری: صفحہ 485)
ابتلاء و وصال
امام بخاری رحمۃاللہ بہت بڑے آدمی تھے اور قاعدہ یہ ہے کہ جب آدمی ترقی کرتا ہے تو اس کے حاسد پیدا ہو جاتے ہیں اور اس کو طرح طرح سے تکلیف و اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ امام بخاریؒ کو بھی اس صورتحال کا سامنا رہا، چنانچہ ان کو اپنے وطن سے بھی نکلنا پڑا۔
پہلی جلا وطنی
صاحب جواہرِ مضیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ بغداد سے واپس آئے تو فتویٰ دینا شروع کیا، بخارا کے مشہور امام اور عالم ابو حفص کبیر جو امام محمدؒ کے شاگرد تھے، انھوں نے ان کو منع کیا کہ فتویٰ نہ دیا کرو، لیکن وہ نہ مانے، چنانچہ ان سے کسی نے رضاعت کا مسئلہ پوچھا کہ آیا اگر دو بچے ایک بکری یا گائے کا دودھ پی لیں تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی یا نہیں؟ انہوں نے حرمت کا فتویٰ دے دیا، چنانچہ اس کے نتیجے میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور امام بخاری رحمۃاللہ کو اپنے وطن کو خیر آباد کہنا پڑا۔ یہ واقعہ اگرچہ بڑے بڑے علماء نے نقل کیا ہے۔
(چنانچہ یہ واقعہ امام سرخسی رحمۃاللہ نے مبسوط میں نقل کیا ہے
صاحب جواہرِ مضیہ نے "جواہر مضیہ" جلد 1، صفا 87، ترجمہ احمد بن حفص میں شمس الائمہ سے نقل کیا ہے، 
اسی طرح یہ واقعہ عنایہ شرح ہدایہ، کفایہ شرح ہدایہ اور فتح القدیر میں بھی منقول ہے۔ دیکھیے جلد 3، صفحہ 319، 320 
اسی طرح علامہ حسین بن محمد بن الحسن دیار بکری نے بھی اپنی تاریخ خمیس میں جلد 2، صفحہ 342 پر کشف الاسرار شرح المنار کے حوالہ سے یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھیے فوائد یہیہ: صفحہ 18، 
تعلیقات دراسات اللبیب: صفحہ 304)
لیکن اس کے باوجود اس کی صداقت مشکوک ہے، یقیناً اس کی روایت میں وہم کا دخل ہے، ایک معمولی دین کی سمجھ رکھنے والا انسان بھی ایسی حماقت نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اتنا بڑا امام، فقیہ، محدث و مفسر جس نے 16 سال کی عمر میں وکیع بن جراح اور ابن المبارک کی کتابیں حفظ کر لی ہوں، وہ ایسا غلط فتویٰ کیسے دے سکتا ہے، اس لیے یہ معلول ہے۔ (چنانچہ علامہ عبدالحی لکھنویؒ فوائدِ بہیہ: صفحہ 18 میں لکھتے ہیں کہ "لکنی استبعد وقوعھا بالنسبة الیٰ جلالة قدر البخاری ودقة فھمه وسعة نظرہ وغور فکرہ مما لایخفی علی من انتفع بصحیحه، وعلی تقدیر صحتھا فالبشر یخطیٔ")
دوسری دفعہ اخراج
دوسری مرتبہ اس وقت نکالے گئے جب انہوں نے فتویٰ دیا تھا کہ ایمان مخلوق ہے، ابوبکر بن حامد، ابو حفظ الذاہد اور شیخ ابوبکر الاسماعیلی حنفیہ کے اکابر میں سے تھے، انہوں نے ایک محضر پر دستخط کیے کہ ایمان مخلوق نہیں اور جو اس کے مخلوق ہونے کا قائل ہو وہ کافر ہے، چونکہ امام بخاریؒ اس کے مخلوق ہونے کے قائل تھے، اس لیے ان کو بخارا سے نکالا گیا، صاحب "فصول عمادیہ" نے اسکا تذکرہ کیا ہے۔
(دیکھیے تعلیقات دراسات اللبیب: صفحہ 204، 305)
لیکن یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے، احناف کے یہ اکابر غیر مخلوق ہونے کے قائل ہیں، لیکن دوسری جماعت مخلوق ہونے کی قائل ہے، امام بخاری اور محمد بن نصر مروزی رحمہما اللہ وغیرہ اسی طرف ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ نے دونوں پر نکیر کی ہے، وہ فرماتے ہیں جو ایمان کو مخلوق کہتا ہے وہ کافر ہے اسی لیے کہ اس میں کلام اللہ کی طرف تعریض ہے اور جو ایمان کو غیر مخلوق کہتا ہے وہ مبتدع ہے۔ 
(دیکھیے مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ: جلد 7 صفحہ 655، 661 
فصل: واما الايمان هل هو مخلوق او غير مخلوق) حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ میں تفصیل ہے، اگر کوئی ایمان بول کر کلمہ شہادت مراد لیتا ہے اور اس کو مخلوق کہتا ہے تو غلط ہے کیونکہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" قرآن کا دستور ہے اور اگر کوئی آدمی ایمان سے اقرارِ لسانی, تصدیق بالقلب اور عمل بالارکان مراد لیتا ہے تو یہ بالکل صحیح ہے اس لیے کہ انسان اپنی ذات و صفات کے ساتھ مخلوق ہے۔ مسئلے کی تنقیح نہیں کی گئی، اجمال سے کام لیا گیا اس لیے اختلاف و تشدد کی نوبت آئی۔
تیسری مرتبہ جلا وطنی
امام بخاری رحمۃاللہ جب 250ھ میں نیشاپور تشریف لے گئے تو امام محمد بن یحییٰ زہلیؒ نے فرمایا کہ کل محمد بن اسماعیلؒ کے استقبال کے لیے چلنا ہے جو چلنا چاہے چلے۔ امام مسلمؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ کا ایسا استقبال ہوا کہ کسی والی یا حاکم و عالم کا ایسا کبھی استقبال نہیں ہوا تھا، دو تین منزل آگے بڑھ کر لوگوں نے امام سے ملاقات کی، آپ نیشاپور تشریف لائے اور اہلِ بخارا کے محلہ میں قیام ہوا، امام زہلیؒ نے اپنے شاگردوں کو ان کے پاس جانے اور احادیث کے سماع کی ہدایت کی اور ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ علمِ کلام کا کوئی مسئلہ دریافت نہ کرنا، کیونکہ اگر انہوں نے ہمارے خلاف کوئی بات کہہ دی تو نیشاپور اور خراسان کے ناصبی، رافضی، جہمی، مرجئیہ سب خوش ہوں گے اور انتشار بڑھے گا۔ لیکن قاعدہ ہے "الانسان حریص فیما مُنِعَ" چنانچہ ایک شخص نے برسرِ مجلس سوال کر لیا کہ آپ قرآن کریم کے الفاظ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ امام صاحبؒ جواب سے برابر اعراض کرتے رہے پھر اس کے اصرار پر فرمایا "القرآن کلام اللہ غیر مخلوق، وافعال العباد مخلوقة، والامتحان بدعة"
(ھدی الساری: صفحہ 490 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 454)
بعض لوگوں نے نقل کیا ہے کہ اول تو محمد بن یحییٰ ذہلیؒ نے لوگوں کو بخاریؒ سے سماع کی ترغیب دی تھی مگر جب ان کی طرف رجوع بڑھا تو ذہلی کو سخت ناگوار ہوا اور انہوں نے بخاریؒ پر تنقید کی تدابیر اختیار کیں۔ 
(ھدی الساری: صفحہ 490 
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 30 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 453 
وطبقات سبکی: جلد 2، صفحہ 11)
بہرحال امام بخاریؒ کے اس جواب پر شور مچ گیا، لوگوں میں اختلاف ہو گیا کہ انہوں نے "لفظی بالقران مخلوق" کہا ہے، جبکہ لوگ انکار کرنے لگے۔ میزبانوں نے مفسدین کو نکال باہر کیا۔ یہ بات شدہ شدہ امام ذہلیؒ تک پہنچی، انہوں نے اعلان کیا "القرآن كلام الله غير مخلوق من جميع جهاته وحيث تصرف فمن لزم هذا استغنىٌ عن اللفظ وعما سواہ من الكلام فی القران و من زعم ان القران مخلوق فقد كفر فخرج عن الايمان و بانت منه امراته، يستتاب فان تاب والا ضربت عنقه وجعل ماله فیئا بين المسلمين ولم يدفن فی مقابرهم ومن وقف فقال: لا اقول مخلوق ولا غير مخلوق فقد ضاھى الكفر ومن زعم ان لفظی بالقران مخلوق فهذا مبتدع لا يجالس ولا يكلم ومن ذهب بعد هذا الى محمد بن اسماعيل البخاری فاتھموه فانه لا يحضر مجلسه الا من كان على مثل مذھبہ"
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 31، 32 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 455، 456)
نیز یہ بھی اعلان فرمایا "الا من قال باللفظ فلا یحل لہ ان یحضر مجلسنا"
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 460 
و ھدی الساری: صفحہ 491) 
اس اعلان کے بعد امام مسلمؒ نے اسی وقت اپنی چادر اپنے سر پر ڈالی اور اٹھ کر چل دیے، ان کے پیچھے پیچھے امام احمد بن سلمہؒ بھی مجلس سے اٹھ گئے، امام مسلمؒ نے جتنی حدیثیں لی تھیں ساری واپس کر دیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 460 
وھدی الساری: صفحہ 491)
ادھر احمد بن سلمہ رحمۃاللہ امام بخاری رحمۃاللہ کے پاس آئے اور کہا! کہ حضرت خراسان میں ایک شخص بہت مقبول ہے اور اس مسئلہ میں وہ اڑ گیا ہے اب کیا کیا جائے؟ امام بخاریؒ نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا " وَاُفَوِّضُ اَمۡرِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ 
اللهم انك تعلم انی لم ارد المقام بنيسابور اشرأ ولا بطرا ولا طلباً للرئاسة وانما أبت علی نفسی فی الرجوع الی وطنی لغلبة المخالفین وقد قصدنی ھذا الرجل حسداً لما آتانی اللہ، لاغیر" پھر فرمایا کہ اے احمد! میں کل ہی یہاں سے نکل جاؤں گا تاکہ میری وجہ سے آپ لوگ ان کی باتوں سے خلاصی پا لیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 459 
وھدی الساری: صفحہ 491)
 ادھر یہ ہوا کہ جب امام مسلم اور امام احمد بن سلمہ رحمہما اللہ امام ذہلیؒ کی مجلس سے اٹھ گئے تو ذہلی نے کہہ دیا "لایساکننی ھذا الرجل فی البلد" امام بخاریؒ وہاں سے روانہ ہو کر بخارا تشریف لے گئے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 260
وھدی الساری: صفحہ 491)
اب یہاں دو باتوں کی تحقیق ضروری ہے۔
اول یہ کہ بخاریؒ  نے "لفظی بالقران مخلوق" کہا بھی ہے یا نہیں؟ امام سے "لفظی بالقرآن" کہنا کہیں منقول نہیں ہے، تاریخ بغداد وغیرہ میں مذکور ہے کہ امام بخاریؒ نے اس قول کی نسبت اپنی طرف غلط قرار دی ہے، چنانچہ غنجار نے تاریخِ بخارا میں اپنی سند سے ابو عمرو احمد بن نصر خفاف سے نقل کیا ہے کہ ہم ابو اسحاق قیسی کی مجلس میں تھے، ہمارے ساتھ محمد بن نصر مروزی بھی موجود تھے کہ امام بخاری رحمۃاللہ کا ذکر چل نکلا تو محمد بن نصر نے کہا کہ میں نے امام بخاریؒ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے "من زعم انی قلت: لفظی بالقرآن مخلوق، فھو کذاب فانی لم اقله" خفاف نے کہا کہ لوگوں میں تو اس بات کی بڑی شہرت ہے، محمد بن نصر نے جواب دیا کہ بات وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔
ابو عمرو خفاف کہتے ہیں کہ میں امام بخاریؒ کے پاس پہنچا ان سے پہلے کچھ حدیثوں کے بارے میں بحث کی یہاں تک کہ وہ کھل گئے، پھر میں نے ان سے عرض کیا کہ یہاں کچھ لوگ آپ سے ایسی ایسی بات نقل کرتے ہیں، امام بخاریؒ نے فرمایا: "یا أبا عمرو احفظ ما اقول لک: من زعم میں اہل نیسابور وقومس والرائی وھمدان وحلوان و بغداد والکوفة والبصرة  ومکة والمدینة انی قلت: لفظی باقرآن مخلوق فھو کذاب و انی لم اقله ألا انی قلت: أفعال العباد مخلوقة"
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 32 
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 13 
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 457 
و ھدی الساری: صفحہ 491)
دوسری بات ہے مسئلہ اور اس کی تحقیق...... سو اہلِ حق کا سلفاً و خلفاً اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، قدیم ہے اور غیر مخلوق ہے۔ (تحقیق کے لیے دیکھیے کشف الباری: صفحہ 149 مقدمۃ الکتاب)
اپنے وطن بخارا میں آزمائش     
صفحہ 6 از 14