تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 5 از 14
وراقِ بخاری کا بیان ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ تیر اندازی اور نشانہ بازی کی مشق کے لیے بہت زیادہ نکلا کرتے تھے، میں نے اپنی زندگی میں صرف دو مرتبہ دیکھا کہ ان کا نشانہ خطا گیا ہے ورنہ ٹھیک ہدف پر وہ تیر پھینکتے تھے. ایک مرتبہ فربر سے باہر تیر اندازی کے لیے نکلے، تیر اندازی شروع ہوئی تو امام بخاریؒ کا تیر پل کی میخ پر جا لگا اور پل کو نقصان پہنچا، امام بخاریؒ سواری سے اتر گئے اور میخ سے تیر نکالا اور لوٹ آئے اور مجھ سے فرمایا کہ میرا ایک کام کر دو، پل والے کے پاس جا کر کہو کہ ہمیں یا تو نقصان کا ازالہ کرنے کی اجازت دے دے یا قیمت لے لے اور معاف کر دے۔ کہتے ہیں پل کے مالک حمید بن الاخضر کو جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ابو عبداللہ کو میری طرف سے سلام کہو اور کہو کہ جو کچھ ہوا وہ معاف ہے اور یہ کہ اپنی تمام دولت اور جائیداد آپ پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ امام بخاریؒ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور بطورِ شکر اس دن 500 حدیثیں سنائیں اور تین سو درہم صدقہ کیے۔ (ھدی الساری: صفحہ 480)
صفحہ 5 از 14