تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 14
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ امام بخاری رحمۃاللہ دریائی سفر کر رہے تھے اور ایک ہزار اشرفیاں ان کے ساتھ تھیں، ایک شخص نے کمال نیاز مندی کا طریقہ اختیار کیا اور امام بخاریؒ کو اس پر اعتماد ہو گیا، اپنے احوال سے اس کو مطلع کیا یہ بھی بتا دیا کہ میرے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں، ایک صبح کو جب وہ شخص اٹھا تو اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور کہا کہ میری ایک ہزار اشرفی کی تھیلی غائب ہے، چنانچہ جہاز والوں کی تلاشی شروع ہوئی، امام بخاریؒ نے موقع پا کر چپکے سے وہ تھیلی دریا میں ڈال دی، تلاشی کے باوجود تھیلی دستیاب نہ ہوئی تو لوگوں نے اس کو ملامت کی، سفر کے اختتام پر وہ شخص امام بخاریؒ سے پوچھتا ہے کہ آپ کی وہ اشرفیاں کہاں گئیں؟ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ میں نے اس کو دریا میں ڈال دیا، کہنے لگا اتنی بڑی رقم کو آپ نے ضائع کر دیا؟ فرمایا کہ میری زندگی کی اصل کمائی تو ثقاہت کی دولت ہے، چند اشرفیوں کے عوض میں اس کو کیسے تباہ کر سکتا تھا؟ 
(یہ واقعہ امداد الباری: جلد 1، صفحہ 461 اور فضل الباری: جلد 1، صفحہ 55 میں حافظؒ کی فتح الباری کے حوالے سے منقول ہے، لیکن باوجود تلاش کے نہ مل سکا، نیز تاریخ بغداد، تہذیب الکمال، سیر اعلام النبلاء، تہذیب التہذیب، تہذیب الاسماء واللغات، مقدمہ فتح، مقدمہ قسطلانی اور مقدمہ لامع میں ایمان کے ترجمہ کے تحت اس واقعے کا ذکر نہیں ہے)
امام بخاریؒ کے والد نے ترکے میں کافی مال چھوڑا تھا، امام بخاریؒ نے وہ مال مضاربت پر دے دیا، ایک مرتبہ ایک مضارب 25 ہزار درہم لے کر دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو گیا اور اس طرح امام بخاریؒ کی رقم ضائع ہونے لگی، لوگوں نے کہا کہ مقامی حاکم سے خط لکھوا کر اس علاقے کے حاکم کے پاس بھجوا دیجیے تو رقم آسانی سے مل جائے گی، امام بخاریؒ نے فرمایا کہ اگر آج میں حکام کی سفارش کے ذریعے اپنی رقم حاصل کروں گا تو کل یہی حاکم میرے دین میں دخل اندازی کریں گے اور میں اپنے دین کو دنیا کے عوض ضائع نہیں کرنا چاہتا. پھر یہ طے ہوا کہ مقروض 10 درہم ماہوار ادا کرے گا، لیکن اس میں سے ایک درہم بھی امام بخاریؒ کو نہیں ملا۔ 
(ھدی الساری: صفحہ 479
طبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 227
سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 446)
وراقِ بخاری محمد بن ابی حاتمؒ کا بیان ہے کہ امام بخاریؒ نے فرمایا کہ میں طلبِ حدیث کے لیے آدم بن ابی ایاس کے پاس گیا اور خرچہ ختم ہو گیا تو میں نے گھاس اور پتے کھانا شروع کیے اور کسی کو خبر نہ ہونے دی، تیسرے دن ایک اجنبی شخص میرے پاس آیا اور اشرفیوں کی ایک تھیلی تھما دی۔ (ھدی الساری: صفحہ 480 
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 448 
و طبقات السبکی: جلد دوم صفحہ 227)
عمر بن حفص الاشقرؒ کا بیان ہے کہ ہم چند ہم سبق بصرہ میں احادیث لکھتے تھے، ہمارے ساتھ امام بخاریؒ بھی تھے، ایک مرتبہ بخاری کئی دن تک نہیں آئے، تفتیش کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کے پاس خرچ ختم ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ امام کو کپڑے بھی فروخت کرنے پڑے، ہم نے چندہ کیا اور کپڑے کا انتظام کیا۔ 
حسنِ سلوک اور ایثار
خود تو کئی دن بغیر کھائے پیے گزار دیا کرتے تھے اور کبھی صرف دو تین بادام کھا لینا بھی ان کے لیے کافی ہوتا تھا لیکن دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کے معاملے میں پیش پیش رہتے تھے۔ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ کو ہر ماہ 500 درہم کی آمدنی ہوتی تھی، یہ ساری رقم وہ فقراء و مساکین اور طلبہ و محدثین پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 448 
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 13 
و طبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 217)
بے نفسی
بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ عبداللہ بن محمد صیارفیؒ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ امام کی باندی ان کے پاس سے گزری تو دوات کو ٹھوکر لگ گئی اور روشنائی گر گئی، امام صاحبؒ نے باندی سے کہا کس طرح چلتی ہو؟ باندی نے جواب دیا کہ جب راستہ ہی نہ ہو (چونکہ ہر طرف کتابیں پھیلی ہوئی تھیں) تو کیا کیا جائے؟ یہ سن کر امام بخاریؒ نے فرمایا اذھبی فقد أعتقتک کسی نے کہا اے ابو عبداللہ! اس نے آپ کی شان میں گستاخی کی اور آپ کو ناراض کر دیا لیکن آپ نے اسے آزاد کر دیا؟ امام بخاریؒ نے فرمایا کہ میں نے اس کام سے اپنے آپ کو راضی کر لیا۔ (ھدی الساری: صفحہ 480 و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 452)
حدیث پر عمل کا اہتمام
عام طور پر محدثین کے یہاں اس کا بہت اہتمام ہوتا ہے کہ جو حدیث پڑھیں اس پر عمل کریں، چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ فرماتے ہیں: "ما كتبت حديثا الا وقد عملت به حتى مربي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم واعطى ابا طيبة ديناراً فاعطيت الحجام ديناراً حين احتجمت" 
(سیر اعلام النبلاء: جلد 1، صفحہ 213 
ترجمہ امام احمد بن حنبلؒ، مشہور محقق شعیب الارنوؤط حدیث "ان النبی صلى الله عليه وسلم احتجم و اعطی ابا طيبة ديناراً" کی تخریج کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ حدیث امام مالکؒ نے موطا میں، امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اپنی اپنی صحیح میں امام ابو داؤد، امام ترمذی اور امام دارمیؒ نے اپنی اپنی سنن میں اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں ذکر کی ہے لیکن ان میں سے بعض میں تو "فامر بصاع من طعام" ہے، بعض میں "بصاع من شعیر" ہے اور بعض میں "بصاعین من طعام" ہے، کسی طریق میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے ایک دینار دیا ہو۔ 
دیکھیے حاشیہ سیر اعلام النبلاء: جلد 11، صفحہ 213)
نشانہ بازی میں مہارت
صفحہ 4 از 14