تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 14
نیشاپور میں یحییٰ بن یحییٰ، بشر بن الحکم، اسحاق بن راہویہ، محمد بن رافع، محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ سے حدیثیں سنیں۔ الغرض امام بخاریؒ نے تقریبا تمام ممالکِ اسلامیہ کا سفر کیا اور ایک ہزار 80 مشائخ سے حدیثیں سنیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395 
و مقدمہ فتح الباری: صفحہ 479)
تنبیہ 
علامہ سبکی رحمۃاللہ نے امام بخاریؒ کے سفر الجزیرہ کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ امام صاحبؒ الجزیرہ میں داخل نہیں ہوئے۔
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2، صفحہ 3)
لیکن امام نووی اور حافظ ابنِ حجر رحمہمااللہ اس سفر کے قائل ہیں۔
(چنانچہ حافظؒ فرماتے ہیں: و قال سهل بن السری: قال البخاری: دخلت ألى الشام ومصر والجزيرۃ مرتين، هدی الساری: صفحه 478 اور امام نووی رحمۃالله الجزیرہ سمیت اور بہت سارے ملکوں اور وہاں کے مشائخ کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "قد رحل البخاریؒ الی ھذہ البلاد المذکورۃ فی طلب العلم"و اقام فی كل مدينه منها على مشائخها. تهذيب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72)
ان رحلات میں امام صاحب کی تنگدستی 
امام بخاری رحمۃاللہ نے طلبِ علم کے دوران فاقے بھی کیے اور پتے اور گھاس کھا کر گزارا کیا، بعض اوقات اپنا لباس تک فروخت کر دینے کی نوبت بھی آئی، زندگی کے ایک بڑے حصے میں سالن استعمال نہیں کیا، ایک مرتبہ بیمار ہوئے، اطباء نے ان کا قارورہ دیکھ کر کہا کہ یہ قارورہ ایسے پادری کا معلوم ہوتا ہے جو سالن استعمال نہیں کرتا۔ امام بخاریؒ نے فرمایا کہ میں نے 40 سال سے سالن استعمال نہیں کیا، ان کا علاج سالن تجویز کیا تو امام صاحب نے انکار فرما دیا اور جب علماء و مشائخ نے بہت اصرار کیا تو یہ منظور فرمایا کہ روٹی کے ساتھ شکر استعمال کر لوں گا۔
(هدى السارى: صفحہ 481، 
و تهذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 68) 
واقعی سچ ہے "لایستطاع العلم براحة الجسم
(قاله الإمام يحيىٰ بن أبي كثير، كما رواه مسلم في صحيحه: جلد 1، صفحہ 223
کتاب الصلاة، باب أوقات الصلوات الخمس)
یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ اس عظیم مرتبے پر پہنچے کہ بڑے اور چھوٹے سب ان کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔
چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ فرماتے ہیں: "ما اخرجت خراسان مثل محمد بن اسماعیل"
(هدی الساری: صفحہ 482، 483
و سیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 421  
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 21
و تهذيب الأسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 68)
امام مسلم رحمۃاللہ فرماتے ہیں: "اشھد انہ لیس فی الدنیا مثلک"
(هدی الساری: صفحہ 485 
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 29)
امام حاکم رحمۃاللہ سے امام بیہقی رحمۃاللہ نے نقل کیا ہے کہ امام مسلمؒ ایک مرتبہ امام بخاریؒ کے پاس آئے اور پیشانی پر بوسہ دے کر فرمایا: "دعنی اقبل رجلیک یا استاذ الاساتذین و سید المحدثین و طبیب الحدیث فی عللہ۔ 
(ھدی الساری: صفحہ 488، 
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 432
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 70
و طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 2، صفحہ 223)
امام بخاری رحمۃاللہ کا فضل و شرف
امام بخاری رحمۃاللہ اہلِ فارس میں سے ہیں اور حضورﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا "لو کان الدین عند الثریا لذھب بہ رجل من فارس أو قال من أبناء فارس"
(صحیح مسلم: جلد 2، صفحہ 312 
کتاب الفضائل باب فضل الفارس)
حضرات محدثین کا ارشاد ہے کہ اس کے اولین مصداق امام ابو حنیفہؒ ہیں اور پھر امام بخاریؒ ہیں۔ اسی طرح قران کریم میں ارشاد ہے وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ‌
سورۃالجمعہ آیت: 3
جب صحابہ کرامؓ نے اس آیت کے متعلق آپﷺ سے سوال کیا تو حضرت سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا "لو کان الأیمان عند الثریا، لنا لہ رجال من ھؤلاء" 
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃالجمعة، باب قولہ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ‌ رقم 4897 
وصحیح مسلم: جلد 2، صفحہ 312، کتاب الفضائل، باب فضل فارس) 
اس کے مصداق بھی امام ابوحنیفہ اور امام بخاری رحمہما اللہ تعالیٰ ہیں۔ 
فربری رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضورﷺ مجھ سے فرما رہے ہیں "این ترید؟" میں نے عرض کیا
ارید محمد بن اسماعیل" آپﷺ نے فرمایا "اقرأہ منی السلام 
(ھدی الساری: صفحہ 489 
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 10 
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 443
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 68 
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 223)
احتیاط و تقویٰ
امام بخاری رحمۃاللہ کا قول ہے:
ما أغتبت أحداً قط منذ علمت أن الغیبة حرام" 
(ھدی الساری: صفحہ 480) 
نیز فرمایا: إنی لأرجو أن ألقى الله ولا يحاسبنی أنی اغتبت أحدا
(ھدی الساری: صفحہ 480 
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 13 
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 439 
وتہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 68 
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 223، 224)
امام بخاریؒ نے معاصی اور منکرات سے بچنے کا بڑا اہتمام فرمایا ہے کیونکہ گناہوں سے حافظہ خراب ہو جاتا ہے، امام بخاریؒ نے گناہوں سے حد درجہ احتیاط کی اس لیے ان کا حافظہ متاثر نہیں ہوا اور حفظ میں ان کو زبردست کمال حاصل ہوا، امام شافعیؒ فرماتے ہیں۔
شکوت الی وکیع سوء حفظی 
فاوصانی الی ترک المعاصی 
فان العلم من نور الہ 
ونور اللہ لایعطی لعاص
علمی وقار کی حفاظت
صفحہ 3 از 14