تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 14
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے مقدمہ فتح الباری میں لکھا ہے کہ حاشد بن اسماعیل کا بیان ہے کہ ہم امام بخاری رحمۃاللہ کے ساتھ بصرہ کے مشائخ کے پاس جایا کرتے تھے، ہم لوگ لکھا کرتے تھے اور بخاری نہیں لکھتے تھے، بطورِ طعن رفقاءِ درس امام بخاری سے کہا کرتے تھے کہ آپ خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، احادیث لکھتے نہیں!! زیادہ چھیڑ چھاڑ جب ہوئی تو امام بخاریؒ کو غصہ آ گیا اور فرمایا اپنی لکھی ہوئی حدیثیں لاؤ، اس وقت تک 15 ہزار احادیث لکھی جا چکی تھیں، امام بخاریؒ نے ان احادیث کو سنانا شروع کر دیا تو سب حیران رہ گئے، پھر تو حدیثیں لکھنے والے حضرات اپنے نوشتوں کی تصحیح کے لیے امام بخاری کے حفظ پر اعتماد کرنے لگے۔
(ھدی الساری: صفحہ 478) 
اسی طرح ایک مرتبہ جب امام بخاریؒ بغداد تشریف لائے، وہاں کے محدثین نے امام بخاریؒ کے امتحان کا ارادہ کیا اور 10 آدمی مقرر کیے، ہر ایک کو 10، 10 احادیث سپرد کیں جن کے متون و اسانید میں تبدیلی کر دی گئی تھی، جب امام صاحبؒ تشریف لائے تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے وہ حدیثیں پیش کیں جن میں تبدیلی کر دی گئی تھی، امام ہر ایک کے جواب میں "لا اعرفه" کہتے رہے، عوام تو یہ سمجھنے لگی کہ اس شخص کو کچھ نہیں آتا لیکن ان میں جو علماء تھے وہ سمجھ گئے کہ امام بخاریؒ ان کی چال سمجھ گئے ہیں، اس طرح 10 آدمیوں نے سو حدیثیں پیش کر دیں جن کی سندوں اور متنوں میں تبدیلی کی گئی تھی اور امام صاحبؒ نے ہر ایک کے جواب میں "لا اعرفه" فرمایا، اس کے بعد امام بخاری رحمۃاللہ نمبر وار ایک ایک کی طرف متوجہ ہوتے گئے اور بتاتے گئے کہ تم نے پہلی روایت اس طرح پڑھی تھی جو غلط ہے اور صحیح اس طرح ہے، اسی طرح ترتیب وار تمام 10 افراد کی اصلاح فرمائی، ان سب پر واضح ہو گیا کہ یہ کتنے ماہر فن ہیں۔ 
حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ "تعجب اس پر نہیں کہ انہوں نے غلطی پہچان لی اور اس کی اصلاح کر دی، کیونکہ وہ حافظِ حدیث تھے ان کا تو کام ہی یہ ہے، لیکن تعجب درحقیقت اس بات پر ہے کہ غلط احادیث کو ایک ہی مرتبہ سن کر ترتیب وار محفوظ رکھا اور پھر ترتیب کے ساتھ ان کو بیان کر کے اصلاح کی"۔
(ھدی الساری: صفحہ 486)  
امام صاحب کے علمی اسفار
امام صاحبؒ نے پہلے تمام کتبِ متداولہ اور مشائخِ بخارا کی کتابوں کو محفوظ کیا، پھر 16 برس کی عمر میں حجاز کا قصد کیا 
(کیونکہ امام صاحب خود فرماتے ہیں "فلما طعنت فی ست عشرۃ سنة حفظت کتب ابن المبارک و وکیع وعرفت کلام ھؤلاء یعنی اصحاب الرای قال: ثم خرجت مع امی و اخی الی الحج۔ قلت: القائل ھو الحافظ ابن حجر۔ فکان اول رحلته علی ھذا سنة عشر و مائتین"    (ھدی الساری صفحہ 478)
والدہ اور بھائی احمد بن اسماعیل ساتھ تھے،
والدہ اور بھائی حج سے فراغت کے بعد وطن واپس آ گئے اور امام بخاری رحمۃاللہ طلبِ علم کے لیے مکہ مکرمہ میں ٹھہر گئے۔
مکہ مکرمہ کے آپ کے اساتذہ ابو الولید احمد بن محمد ازرقی، امام حمیدی، حسان بن حسان بصری، خلاد بن یحییٰ اور ابو عبدالرحمن مقری رحمہم اللہ تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395 
و مقدمہ شرح قسطلانی: صفحہ 32)
پھر 18 سال کی عمر میں مدینہ منورہ کا سفر کیا اور وہاں کے مشہور محدثین عبدالعزیز اویسی، ایوب بن سلیمان بن بلال اور اسماعیل بن ابی اویس رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ سے استفادہ کیا۔ 18 برس کی عمر میں "قضا یا الصحابہ و التابعین" لکھی، اسی سفر میں مدینہ طیبہ میں چاندنی راتوں میں "التاریخ الکبیر" کا مسودہ لکھا، یہ امام بخاری رحمۃاللہ کی دوسری تصنیف ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395 
و ھدی الساری: صفحہ 478)
پھر امام صاحب رحمۃاللہ بصرہ تشریف لے گئے وہاں ابو العاصم النبیل، محمد بن عبداللہ انصاری، بدل بن المحبر، عبدالرحمن بن حماد الشعیثی، محمد بن عرعرہ، حجاج بن منہال، عبداللہ بن رجاء غدانی اور عمر بن عاصم کلابی رحمہم اللہ وغیرہ سے احادیث کا سماع کیا.
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 394 
و مقدمہ شرح قسطلانی: صفحہ 32)
امام صاحبؒ حجاز میں چھ سال رہے، بصرہ کا چار دفعہ سفر کیا اور کوفہ و بغداد کے متعلق تو خود امام صاحب فرماتے ہیں "ولا احصى كم دخلت الى الكوفة وبغداد مع المحدثين" (ھدی الساری: صفحہ 478)
کوفہ کے مشائخ جن پر امام بخاری رحمۃاللہ نے اعتماد کیا ہے وہ یہ ہیں: عبید اللہ بن موسیٰ، ابونعیم احمد بن یعقوب، اسماعیل بن ابان، الحسن بن ربیع، خالد بن مخلد، سعید بن حفص، طلق بن غنام، عمرو بن حفص، عروہ، قبیصہ بن عقبہ، ابوغسان اور خالد بن یزید مقری رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 394 
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72)
بغداد کے مشائخ میں امام احمد بن حنبل، محمد بن سابق، محمد بن عیسیٰ بن الطباع اور سریج بن النعمان رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ 
(تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 394)
شام کے مشائخ میں محمد بن یوسف فریابی، ابو نصر اسحاق بن ابراہیم، آدم بن ابی ایاس، ابو الیمان الحکم بن نافع، حیوۃ بن شریح، علی بن عباس اور بشر بن شعیب رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 71)
مصر کے مشائخ میں عثمان بن صالح، سعید بن ابی مریم، عبداللہ بن صالح، احمد بن صالح، احمد بن شعیب، اصبغ بن الفرج، سعید بن عیسیٰ، سعید بن کثیر، یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، احمد بن اشکاب اور عبداللہ بن یوسف وغیرہ ہیں۔ (حوالاجات بالا)
جبکہ الجزیرہ کے مشائخ میں احمد بن عبدالملک حرانی، احمد بن یزید الحرانی، عمرو بن خلف اور اسماعیل بن عبداللہ الرقی قابلِ ذکر ہیں۔
(تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72)
مرو میں علی بن الحسن بن شقیق، عبدان اور محمد بن مقاتل رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ سے سماع کیا۔ (حوالا بالا)
بلخ میں مکی بن ابراہیم، یحییٰ بن بشر، محمد بن ابان، یحییٰ بن موسیٰ اور قتیبہ وغیرہ سے احادیث کا سماع کیا۔ (حوالا بالا)
ہرات میں احمد بن ابی الولید حنفیؒ سے احادیث کا سماع کیا۔
صفحہ 2 از 14