تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 14 از 14
علامہ جمال الدین رحمۃاللہ نے اپنے استاذ سید اصیل الدینؒ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب قریباً ایک سو بیس مرتبہ پڑھی، جس نیت سے بھی پڑھی وہ مراد پوری ہوئی۔
(أشعة اللمعات: جلد 1، صفحہ 11)
اسی لیے ختم بخاری شریف کا رواج علماء و محدثین کے یہاں چلا آ رہا ہے، یہ سلسلہ کب سے چلا آ رہا ہے اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی البتہ ساتویں آٹھویں صدی سے اس کا پتہ چلتا ہے۔ ممکن ہے اس سے پہلے بھی یہ سلسلہ رہا ہو۔
اصح الكتب بعد كتاب اللہ: صحيح البخاری
صحیح بخاری کی شروط، خصائص اور فضائل کے جان لینے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کو دیگر کتبِ حدیث پر مجموعی طور پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ امام بخاری رحمۃاللہ نے جس بالغ نظری اور نکتہ رسی کے ساتھ صحیح احادیث کا انتخاب کیا ہے، پھر ان کی جلالتِ شان اور معرفتِ علل میں ان کا تقدم بھی مسلّم ہے اور چیزوں کے پیشِ نظر اگر کسی نے "اصح الكتب بعد كتاب الله: صحيح البخاری" کا اطلاق کر دیا ہو تو وہ بیجا نہیں، صحیح بخاری سے پہلے موطا امام مالکؒ کے لیے امام شافعیؒ سے اسی قسم کے الفاظ منقول ہیں، لیکن چونکہ موطا میں مراسیل و بلاغات اور منقطعات کی خاصی تعداد ہے جو امام مالکؒ کے نزدیک حجّت ہیں اور موضوعِ کتاب میں داخل ہیں جب کہ صحیح بخاری میں بالعموم احادیثِ صحیحہ متصلہ ہیں اور جو تعلیقات وغیرہ ہیں وہ استشہاداً لائی گئی ہیں موضوعِ کتاب نہیں ہیں، اس لیے متأخرین نے صحیح بخاری کے بارے میں "اصح الکتب بعد كتاب الله تعالىٰ: صحيح البخاری" کا اطلاق کیا اور اسی کو اپنایا ہے۔
صحیح بخاری کے ساتھ صحیح مسلم بھی صحت کے اعتبار سے اس کی شریک ہے لیکن جمہور علمائے حدیث نے صحیح بخاری کوصحیح مسلم پر فوقیت دی ہے، چنانچہ حافظ ابنِ حجرؒ نے صحیح بخاری کی تفضیل ثابت کرتے ہوئے فرمایا کہ:
حدیث کی صحت کا مدار عدالتِ رُواۃ، اتصالِ سند اور علل و شذوذ کے انتفاء پر ہے، ان جہات سے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر فوقیت حاصل ہے:
1: عدالتِ رُواۃ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صحیح بخاری کی فضیلت اس طرح ثابت ہے کہ امام بخاریؒ جن رواۃ میں منفرد ہیں ان کی تعداد چار سو پینتیس ہے، ان میں سے متکلَّم فیہ راوی صرف اسّی ہیں جبکہ امام مسلمؒ چھ سو بیس راویوں میں منفرد ہیں ان میں متکلَّم فیہ ایک سو ساٹھ ہیں، یہ تعداد امام بخاریؒ کے متکلَّم فیہ رُواۃ کے مقابلہ میں دُگنی ہے، ظاہر ہے متکلَّم فیہ رُواۃ جس میں کم ہوں گے اس کی افضلیت ثابت ہوگی۔
2: پھر امام بخاریؒ نے جن متکلَّم فیہ رُواۃ سے احادیث تخریج کی ہیں ان سے زیادہ حدیثیں نہیں لیں، جبکہ امام مسلمؒ نے اپنے متکلَّم فیہ رُواۃ سے کثرت سے احادیث نقل کی ہیں۔
3: ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام بخاریؒ کے متکلَّم فیہ رُواۃ ان کے اپنے اساتذہ اور براہِ راست شیوخ ہیں جن کے حالات سے اور ان کی صحیح و سقیم احادیث سے وہ خوب واقف تھے، چنانچہ انھوں نے ان کی ساری حدیثیں کیف ما اتفق جمع نہیں کیں بلکہ خوب انتقاء کر کے نقل کی ہیں، جبکہ امام مسلمؒ کے متکلَّم فیہ رُواۃ ان کے براہِ راست شیوخ نہیں بلکہ متقدمین میں سے ہیں۔
4: پھر امام بخاریؒ ان متکلَّم فیہ رُواۃ کی احادیث استشہادات و متابعات اور تعلیقات میں عموماً لاتے ہیں، جبکہ امام مسلمؒ اصل کتاب میں بطورِ احتجاج ذکر کرتے ہیں۔
5: اتصالِ سند کے اعتبار سے صحیح بخاری کو اس طرح فوقیت حاصل ہے کہ امام مسلمؒ کا مذہب یہ ہے کہ حدیثِ معنعن متصل کے حکم میں ہوتی ہے بشرطیکہ راوی اور مروی عنہ معاصر ہوں۔ اگرچہ ان کے درمیان لقاء ثابت نہ ہو، جبکہ امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ حدیثِ معنعن کو اتصال کے حکم میں اس وقت سمجھیں گے جبکہ معاصرت کے ساتھ ساتھ کم از کم ایک مرتبہ ان کے درمیان لقاء بھی ثابت ہو، ظاہر ہے امام بخاریؒ کی شرط، اتّصال کے اعتبار سے اقویٰ اور اشد ہے۔
6: علت و شذوذ کے انتفاء کے اعتبار سے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر بایں طور فوقیت حاصل ہے کہ صحیحین کی کل دو سو دس حدیثوں پر کلام کیا گیا ہے جن میں سے (80) اسّی سے بھی کم حدیثیں بخاری کی ہیں اور باقی حدیثیں صحیح مسلم کی ہیں۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 11، 12)
اس تفصیل سے اچھی طرح معلوم ہوگیا ہوگا کہ صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر نیز دیگر کتبِ حدیث پر فوقیت حاصل ہے۔

صفحہ 14 از 14