تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 13 از 14
(دیکھیے فتح الباری: جلد 1، صفحہ 213
کتاب العلم، باب السمر فی العلم)
اسی طرح کتاب العلم کا ایک ترجمہ "باب الفتيا وهو واقف على الدابة وغیرھا" ہے، یہاں جو روایت ذکر کی ہے اس میں "وقوف على الدابة" کا ذکر نہیں ہے، لیکن کتاب الحج میں یہی روایت مذکور ہے اور وہاں "وقف رسول اللہ صلی الله عليه وسلم علی ناقتہ"
(دیکھیے صحیح بخاری، کتاب الحج، باب الفتيا على الدابۃ عند الجمرة، رقم: 1738)۔
کے الفاظ موجود ہیں، گویا ترجمہ کتاب الحج کی روایت سے ثابت ہو رہا ہے۔ 
(دیکھیے فتح الباری: جلد 1، صفحہ 181 
کتاب العلم، باب الفتيا وهو واقف على الدابۃ وغيرها)
اسی طرح پیچھے آ چکا ہے کہ امام بخاریؒ نے ابواب الصلوٰۃ میں "باب التقاضی والملازمة فی المسجد" كا ترجمہ قائم کیا اور اس کے ذیل میں جو روایت نقل کی اس میں "تقاضی" کا تو ذکر ہے لیکن "ملازمہ" کا ذکر نہیں ہے، لیکن جب کتاب الخصومات میں یہ روایت ذکر کی تو وہاں "فلقیہ فلزمہ" کے الفاظ ہیں، اس طرح یہ ترجمہ بخاری میں مذکور روایت سے ثابت ہوا جس کو یہاں کے بجائے دوسری جگہ ذکر کیا ہے۔
(دیکھیے اصل17، شق ب)
2: اسی طرح امام بخاریؒ کبھی ترجمہ قائم کر کے اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی ایسی روایت پر اعتماد کرتے ہیں جو بخاری میں مذکور نہیں، چنانچہ اس کی مثال پیچھے گزر چکی ہے کہ امام بخاریؒ نے ترجمہ قائم کیا ہے "باب دلک المرأة نفسها اذا تطهرت من المحيض" اور باب کے تحت جو روایت نقل کی ہے اس میں "دلک" کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی صحیح بخاری میں ایسی کوئی روایت موجود ہے جس میں "دلک" مذکور ہو، البتہ صحیح مسلم میں ایسی روایت موجود ہے جس میں "دلک" کا ذکر ہے، لہٰذا کہا جائے گا کہ یہاں اثبات مدعی کے لیے ایسی روایت پر اعتماد کیا گیا ہے جو صحیح بخاری میں موجود نہیں۔ 
(دیکھیے اصل 17، شق ج)۔
 3: کبھی امام بخاریؒ روایت کے اجمال سے ترجمہ کو ثابت کرتے ہیں، چنانچہ کتاب الوضوء میں ایک ترجمہ ہے "باب وضوء الرجل مع امرأته وفضل وضوء المرأة" اور اس کے ذیل میں امام بخاریؒ نے اثر نقل کیا ہے "وتوضأ عمر بالحميم ومن بيت نصرانية" اس سے امام بخاریؒ یوں استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے گرم پانی سے وضو کیا اور پانی عموماً عورتیں گرم کیا کرتی ہیں اور گرم کرتے وقت وہ کئی مرتبہ پانی میں ہاتھ ڈال کر دیکھتی ہیں کہ وہ کتنا گرم ہو گیا۔ یہاں حضرت عمرؓ نے گرم پانی وضو میں استعمال کیا اور کوئی تفصیل معلوم نہیں کہ عورت کا گرم کیا ہوا پانی ہے یا مرد کا اور اگر عورت کا گرم کیا ہوا ہے تو اس نے اس میں ہاتھ ڈالا تھا یا نہیں، بس گرم پانی وضو میں استعمال کیا اور حقیقت کو مجمل رہنے دیا، اس سے امام بخاریؒ نے ثابت کیا کہ اگر مرد اور عورت ایک ساتھ وضو کریں اور عورت کا ہاتھ مرد کے وضو کے پانی میں داخل ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح "ومن بيت نصرانية" کا جملہ ہے اس میں عقلاً دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ گرم پانی اسی نصرانیہ کے گھر کا ہو اور عبارت یوں ہو "وتوضأ عمر بالحميم من بيت نصرانیة" جیسا کہ ایک نسخہ میں اسی طرح بغیر واو کے آیا ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ وضو بالحمیم کا واقعہ اور ہو اور "وضوء من بيت نصرانية" کا واقعہ دوسرا ہو، جیسا کہ حقیقت واقعہ یہی ہے۔
(کیونکہ "توضأ عمر بالحمیم" والا اثر مستقل ہے اور اس کو سعید بن منصور، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور دار قطنی وغیرہ نے موصولاً ذکر کیا ہے اور "و من بيت نصرانية" والا ایک مستقل اثر ہے جس کو شافعی، عبدالرزاق، بیہقی اور اسماعیلی وغیرہ نے موصولاً ذکر کیا ہے، چنانچہ حافظؒ نے اس تفصیل کو بیان کر کے ایک اثر ہونے کے احتمال کو رد کیا ہے اور فرمایا ہے "وقد عرفت أنهما أثران متغایران"
دیکھیے فتح الباری: جلد 1، صفحہ 299
کتاب الوضوء، باب وضوء الرجل مع امرأته)
اگر ایک ہی واقعہ ہے تو اس کی بحث گزر چکی اور اگر یہ واقعہ علیحدہ ہے تو استدلال کی تقریر یوں ہو گی کہ حضرت عمرؓ نے نصرانیہ کے گھر سے پانی لے کر وضو کیا اور یہ تفصیل دریافت نہیں کی کہ وہ پانی نصرانیہ کے استعمال سے بچا ہوا تو نہیں ہے۔ حالانکہ وہاں دونوں صورتوں کا احتمال ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس نصرانیہ کے استعمال سے بچا ہوا پانی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ علیحدہ پانی ہو، استعمال سے بچا ہوا نہ ہو، حضرت عمرؓ تفصیل میں نہیں گئے، اس سے امام بخاریؒ نے استدلال کیا اور اجمال سے اپنے ترجمہ کو ثابت کر دیا۔ 
(دیکھیے فتح الباری: جلد1، صفحہ 299 
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے کشف الباری: صفحہ 182 مقدمہ)
فضائلِ جامع صحیح بخاری
ایک فضلیت تو یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے اس کی تالیف کے وقت کسی حدیث کو اس وقت تک درج نہیں کیا جب تک پہلے غسل، دو رکعت اور استخارے کے بعد اس حدیث کی صحت کا انہیں یقین نہیں ہو گیا۔ 
(دیکھیے تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 9
وتهذيب الاسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 74
وهدی الساری: صفحہ 489
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12 صفحہ 402) 
دوسری فضلیت یہ کہ اس کی تمام احادیث صحیح ہیں ۔ 
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 9
وتہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 74
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 402)
تیسری فضلیت یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کی منامی بشارت اس کو حاصل ہے، ابوزید مروزی بیان کرتے ہیں کہ میں رکن اور مقام کے درمیان سو رہا تھا کہ نبی کریمﷺ کی زیارت ہوئی، آپﷺ نے فرمایا "يا أبازيد، إلى متى تدرس کتاب الشافعی ولا تدرس کتابی؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کی کتاب کون سی ہے؟ فرمایا "جامع محمد بن اسمعیل 
(هدی الساری: صفحہ 489)
چوتھی فضلیت یہ ہے کہ جہاں اس کتاب کی باطنی برکات ہیں کہ اس پر عمل کرنے سے دینی ترقی ہوتی ہے اسی طرح ظاہری برکات بھی ہیں۔ 
ابنِ ابی جمرہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے بعض عارفین نے ایسے سادات سے نقل کیا ہے جن کے فضل کا لوگوں میں خوب چرچا اور اعتراف ہے کہ صحیح بخاری اگر کسی مصیبت میں پڑھی جائے تو وہ دور ہو جاتی ہے اور اگر کسی کشتی میں لے کر سوار ہو جائیں تو وہ غرق نہیں ہوتی، نجات پاتی ہے، مصنف مستجاب الدعوات تھے، انہوں نے اس کتاب کے پڑھنے والوں کے لیے دعا کی ہے۔ 
(هدى الساری: صفحہ 13)
صفحہ 13 از 14