تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 12 از 14
لیکن یہ جوابات درست نہیں کیونکہ تکمیل کتاب کے بعد تقریباً تیس سال امامؒ نے اس کتاب کا درس دیا ہے اور تقریباً نوے ہزار شاگردوں نے امامؒ سے اس کو پڑھا ہے پھر امام بخاریؒ یا کاتب کے سہو کے برقرار رہنے کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے یا موقعہ نہ ملنے کا عذر کیسے قابلِ سماع ہو سکتا ہے، پھر دو چار جگہ اگر باب بلا ترجمہ ہوتا تب بھی سہوِ مؤلف یا سہوِ کاتب کی گنجائش ہو سکتی تھی۔ یہاں تو بہت سے ابواب صحیح بخاری میں بلا ترجمہ ہیں۔
5: علامہ کرمانیؒ
(شرح کرمانی: جلد 1، صفحہ 103)
حافظ ابنِ حجرؒ
(فتح الباری: جلد 1، صفحہ 64) 
علامہ عینی
(عمدة القاری: جلد 1، صفحہ 152)
قسطلانی
(ارشاد الساری: جلد 1، صفحہ 99)
ابنِ رشید
(مقدمہ لامع: صفحہ 322، الاصل العشرون)
شیخ نور الحق
(تیسیر القاری: جلد 1، صفحہ 20، 21) 
اور شاہ ولی اللہ
(رسالہ شرح تراجم ابواب البخاری: صفحہ 22)
رحمہم اللہ نے عموماً "باب بلا ترجمہ" کو کالفصل من الباب السابق قرار دیا ہے، یعنی امام بخاریؒ باب بلا ترجمہ میں ایسی روایت لاتے ہیں جو من وجہ باب سابق سے بھی متعلق ہوتی ہے اور من وجہ مستقل بھی ہوتی ہے، اس لیے یہ باب، سابق باب کے لیے فصل کی طرح ہوتا ہے۔
6: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃاللہ کی رائے یہ ہے کہ باب بلا ترجمہ بعض مقامات میں تشحیذِ اذھان کے لیے ہوتا ہے، یعنی امام بخاریؒ کا منشا یہ ہوتا ہے کہ باب کی روایت کو پیشِ نظر رکھ کر قاری خود ایسا ترجمہ قائم کرے جو بخاری کی شان کے مطابق بھی ہو اور تکرار بھی لازم نہ آئے اس طرح ذہن تیز ہوتا ہے اور استخراجِ مسائل اور استنباط کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ 
(مقدمہ لامع: صفحہ 327، 328 الأصل الخامس والعشرون)
7: کبھی امام بخاریؒ بابِ سابق سے پیدا شدہ اشکال کو رفع کرنے کے لیے باب بلا ترجمہ لاتے ہیں۔
(دیکھیے تقریر بخاری شریف: جلد 1، صفحہ 126)
8: یہ باب بلا ترجمہ تکثیرِ فوائد کے لیے ہوتا ہے، یعنی باب کی روایت بہت سے فوائد کو شامل ہوتی ہے، اگر ترجمہ قائم کیا جائے تو قاری کا ذہن اسی ترجمہ پر مرکوز ہو جاتا اور دیگر فوائد کی طرف توجہ نہ ہوتی، اس لیے امام بخاریؒ بغیر ترجمہ کے باب کو ذکر کرتے ہیں تا کہ تمام فوائد کی طرف ذہن متوجہ ہو سکے۔ 
(دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 329، الاصل السادس والعشرون )
9: باب بلا ترجمہ رجوع الی الاصل کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایک سلسلہ ابواب چلا آ رہا ہوتا ہے، درمیان میں کچھ ضمنی تراجم آجاتے ہیں تو اصل سلسلہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے باب بلا ترجمہ لایا جاتا ہے۔ 
(مقدمہ لامع: صفحہ 367، الأصل السابع والخمسون)
10: علامہ عینیؒ نے بعض مقامات میں یہ بھی فرمایا ہے کہ امام بخاریؒ تکثیرِ طرق کی طرف اشارہ کرنے کے لیے باب بلا ترجمہ لاتے ہیں۔ 
(دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 319، 319، الاصل السابع عشر)
11: شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے فرمایا ہے کہ امام بخاریؒ کا 'باب بلا ترجمہ" تحویل کے طور پر ہوتا ہے جیسے ایک سند کو ذکر کرتے ہوئے "ح" لاتے ہیں اور اس کے بعد دوسری سند کو ذکر کرتے ہیں، یہ تحویل "من سند الی سند" ہوتی ہے اور آگے جا کر دونوں سندیں مل جاتی ہیں۔
(دیکھیے رسالہ شرح تراجم ابواب البخاری: صفحہ 13)
لیکن اس پر اشکال یہ ہے کہ پوری صحیح بخاری میں کتاب بدءالخلق میں اس کی ایک مثال موجود ہے اور ایک مثال کے پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ امام بخاریؒ نے اس کو اپنی کتاب میں بطورِ قاعدہ اختیار کیا ہو۔
(دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 309، الاصل السابع)
یہ ساری گفتگو ابواب و تراجم کے سلسلے میں فصلِ اول کی حیثیت رکھتی ہے۔
فصلِ ثانی: اثباتِ تراجم
اس بحث کی فصلِ ثانی یہ ہے کہ امام بخاری رحمةاللہ ترجمہ کو ثابت کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور اپنے دعوے کو کس انداز میں ثابت کرتے ہیں یعنی ان کے ہاں استدلال کا طریقہ کیا ہے؟
عام طور پر امام بخاری رحمةاللہ کے تراجم دعاوی ہوتے ہیں اور احادیثِ سندہ ان دعاوی کی دلیل ہوتی ہیں، لیکن بخاری کے کچھ تراجم "تراجمِ شارحہ" بھی ہوتے ہیں، وہاں دعویٰ اور اثبات دعویٰ بالدلیل کا سلسلہ نہیں ہوتا۔
ایک حدیث عام ہوتی ہے اور اس پر خاص ترجمہ قائم کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ اس عام سے خاص مراد ہے، یا روایت مطلق ہوتی ہے اور ترجمہ مقید لاتے ہیں اور یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ روایتِ مطلقہ میں ترجمہ والی قید ملحوظ ہے، کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے کہ روایت خاص ہوتی ہے اور اس پر ترجمہ عام قائم کرتے ہیں، یہ بتلانے کے لیے کہ روایت میں جس خصوصیت کا ذکر ہے وہ ملحوظ نہیں، کبھی روایت مقید ہوتی ہے اور ترجمہ مطلق لاتے ہیں وہاں پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ روایت میں جس قید کا ذکر کیا گیا ہے وہ ملحوظ نہیں ہے بلکہ وہ اتفاقی قید ہے، ایسے تراجم "تراجمِ شارحہ" کہلاتے ہیں۔ یہاں اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ترجمہ کو روایت سے ثابت کیا جائے، لیکن عام طور پر تراجم بمنزلۃ الدعویٰ ہوتے ہیں اور باب کی روایت دلیل ہوتی ہے، یہی طریقہ صحیح بخاری میں سب سے زیادہ ہے۔
تراجم کی قسمیں
پھر تراجم کی دو قسمیں ہیں۔
1: تراجمِ ظاہرہ، 2: تراجمِ خفیہ
تراجمِ ظاہرہ میں ترجمۃ الباب اور حدیثِ باب میں مطابقت آسان ہوتی ہے وہاں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
البتہ تراجمِ خفیہ میں تطبیق مشکل ہوتی ہے اور امام بخاریؒ نے ترجمہ کو ثابت کرنے کے لیے کسی ایک طریقہ کی پابندی نہیں کی، کبھی وہ ایک طریقہ اختیار کرتے ہیں اور کبھی کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
1: کبھی وہ ایسا کرتے ہیں کہ ترجمہ قائم کیا اور اس کے ذیل میں روایت نقل کی، لیکن ترجمہ کا ثبوت کسی دوسری روایت سے ہوتا ہے جو بخاری میں دوسرے مقام پر مذکور ہے۔
مثلاً کتاب العلم میں ترجمۃ الباب ہے "باب السمر فی العلم" اور جو روایت نقل کی ہے اس میں "سمر فی العلم" کا ذکر نہیں ہے، البتہ کتاب التفسیر میں یہی روایت ذکر فرمائی اور اس میں "فتحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أهله ساعة" کے الفاظ ذکر کیے۔ 
(دیکھیے صحیح بخاری، کتاب التفسير، سورة آل عمران، باب: اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡض رقم، 4569)
گویا ترجمہ کتاب العلم میں ہے اور اس کا ثبوت کتاب التفسیر سے ہو رہا ہے۔
صفحہ 12 از 14